صرف عدلیہ جاگ رہی ہے

صرف عدلیہ جاگ رہی ہے
صرف عدلیہ جاگ رہی ہے

  


پاکستان کی تاریخ کی پہلی آزاد اعلیٰ عدلیہ کے غیر جانبدارانہ اور منصفانہ فیصلے خوش آئند ہیں۔ عوام کو اعلیٰ عدلیہ سے بہت سی توقعات ہیں جن کا پورا ہونا وسیع تر قومی مفاد میں ہے۔ دوسری جانب اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کیلیے خاندان شریفیہ کی عدلیہ مخالف مہم بھی اپنے عروج پر ہے جس کا مقصد اعلیٰ عدلیہ کے معزز جج صاحبان کو دباو میں لاکر من پسند فیصلے کروانا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ سے استدعا ہے کہ وہ کڑے احتسابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے ضروری فیصلے کرے تاکہ ملک میں آئین وقانون کی بالادستی قائم ہو اور اس ضمن میں کوئی سقم باقی نا رہے۔

نیب کی شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز نمٹانے کی رفتار کافی سست ہے۔ ان تاخیری حربوں سے کئی لوگ فیضیاب ہوئے ہیں۔ مثال کے طور اسحٰق ڈار کانام ای سی ایل میں بروقت نا ڈال کر موصوف کیلیے فرار کی راہ ہموار کردی گئی۔اسی طرح نواز شریف , مریم نواز اور کیپٹن صفدر کا نام ای سی ایل میں بہت پہلے ڈال دیا جانا چاہیے تھا مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر پس وپیش سے کام لیا جاتا رہا۔ آخرکار جب نیب نے اس مقصد کے لیے وزارتِ داخلہ کوخط لکھا تو وزارتِ داخلہ نے انکار کردیا۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ تاخیری حربے کچھ لوگوں کو فیضیاب کرنے کے لیے ہیں۔ اگر یہ قومی مجرم فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تو کیا ہوگا؟ جبکہ عدلیہ اس وقت امیدوں کا محور بنی ہوئی ہے۔

سپریم کورٹ نے نقیب اللہ کیس اور زینب قتل کیس جیسے انفرادی مقدمات کے ازخود نوٹس لیے اور کراچی ولاہور کے عوام کے لیے پینے کے صاف پانی کا مسئلہ حل کرنے کیلیے سندھ اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ کو بھی طلب کیا جو کہ خوش آئند ہے۔ مگر یہ بات ورطہ حیرت میں ڈالنے کے لیے کافی ہے کہ عدالت عظمیٰ نے تاحال سانحہ ماڈل ٹاون کا ازخود نوٹس نہیں لیا جبکہ یہ پاکستان کی تاریخ میں ریاستی دہشتگردی کا ایک ناقابلِ فراموش باب ہے۔ مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ نہال , طلال اور دانیال کو تو توہینِ عدالت کے نوٹس گئے مگر نااہل نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو جوکہ عدلیہ کے خلاف اعلان جنگ کرچکے ہیں , انہیں توہینِ عدالت کا نوٹس نہیں گیا۔ پھر راوانوار کے ایک خط پر ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہوگئی اور موصوف کی فرمائش پر جے آئی ٹی بھی بن گئی مگر چار سو سے زائد لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے والا راو انوار عدالت کے احکامات کے باوجود پیش نہیں ہوا۔ حالات حاضرہ کا جائزہ لیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اعلیٰ عدلیہ توقعات کو پورا کر سکے گی؟

یہ ایک آزاد اور غیر جانبدار عدلیہ تو ہے مگر اس کا سامنا ایک طاقتور سیاسی مافیا سے ہے جن کے لیے سیاست محض ذاتی مفادات کے تحفظ کا ایک منافع بخش کاروبار ہے۔ یہ سیاسی مافیا قاتل بھی ہے اور بدعنوان بھی ,یہ سیاسی مافیا شاطر بھی ہے اور چرب زبان بھی , یہ سیاسی مافیا بے ضمیر بھی ہے اور غدارملت بھی۔ اس سیاسی مافیا کے ہاتھ سانحہ ماڈل ٹاون کے بے گناہ شہداء کے خون سے رنگے ہیں اور اس سیاسی مافیا کا پیٹ بدعنوانی , منی لانڈرنگ کے بغیر کیسے بھر سکتاہے؟ اس سیاسی مافیا کے کریڈٹ پر پانامہ آف شور کمپنیوں , حدیبیہ پیپر ملز , عزیزیہ اور اتفاق فاونڈریز جیسے بڑے کرپشن اسکینڈلز ہیں۔ اس سیاسی مافیا کی لوٹی ہوئی دولت پاکستان لانا اعلیٰ عدلیہ کو درپیش ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ یہ سیاسی مافیا پاکستان کے قومی اثاثے اونے پونے داموں بیچنے کے لیے پر تول رہی ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز اور پی آئی اے کو جان بوجھ کر کنگال کیا گیا تاکہ نجکاری کے نام پر یہ قومی اثاثے خردبرد کیے جاسکیں۔ قصور ویڈیو اسکینڈل میں کارندوں کو تو سزا ہوگئی مگر سرغنہ تاحال نامعلوم ہے۔ پنجاب میں ناجانے کتنے عابد باکسر اور سندھ میں ناجانے کتنے راوانوار پولیس گردی کررہے ہیں جنہیں پوچھنے والا کوئی نہیں , انہیں سزا کون دے گا؟ کراچی کے عوام کے ٹارگٹ کلرز کو کون لٹکائے گا اور بھتہ خوروں کو انجام تک کون پہنچائے گا؟ سانحہ بلدیہ کے لواحقین کو انصاف کون مہیا کرے گا؟ پارلیمان میں بیٹھے آستین کے سانپوں سے قوم کو کون بچائے گا جو کہ نااہلوں چوروں لٹیروں اور قاتلوں کیلئے نیتا گیری کی راہ ہموار کر چکے ہیں؟ یہ بات یاد رکھ لینی چاہے کہ عدلیہ کاکام صرف انصاف کی فراہمی ہے نا کہ نظام مملکت چلانا۔

ریاست کے تین ستون ہوتے ہیں عدلیہ انتظامیہ اور مقننہ۔ جبکہ انتظامیہ اورمقننہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہے جس کی وجہ سے ہمارے مسائل کا انبار لگ چکا ہے۔ بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ انتظامیہ اور مقننہ کی ناقص کارکردگی نے عدلیہ کیلیے مشکلات پیدا کردی ہیں۔ ہمارے نظام میں پایا جانے والا یہ سقم دور کیے بغیر ملت کی کشتی بھنور سے نہیں نکل سکتی۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...