ملازمین کی جبری ریٹائرمنٹ

ملازمین کی جبری ریٹائرمنٹ
ملازمین کی جبری ریٹائرمنٹ

  

حکومت پاکستان حکومتی اداروں کو نجی اداروں میں منتقل کرنے میں مگن ہے۔ ریاست کے ان اقدامات کی وجہ سے غریب لوگ اور نچلے درجے کے ملازمین متاثر ہورہے ہیں۔پرائیویٹ مالکان اور سرمایہ دار ملازمین سے ان کے بنیادی حقوق چھین کر انہیں جبری تور پر ملازمت سے فارغ کر رہے ہیں۔سینکڑوں پنشنرز عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں۔حکومت یا حکومتی ادارے خاموش تماشائی بنے مظلوم ملازمین کی رسوائی کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔اسے ریاستی کمزوری سمجھا جائے ؟یا پھر سرمایہ داروں کے لئے منافع خوری؟

ہمیشہ کی طرح 22دسمبر2017کے دن ایچ بی ایل بینک ملازمین پوری تیاری کے ساتھ اپنے دفتروں میں داخل ہوئے۔کام کے آغاز کے لئے سسٹم کو لاگن کرنا چاہا مگر سسٹم نے ایرر کی حالت دکھانا شروع کردی۔ملازمین نے اسے معمول کی خرابی تصور کرتے ہوئے اپنا کام شروع کردیا۔اتنے میں پوسٹ ماسٹر زآئے اور پاکستان بھر میں ایک سو اسی ایچ بی ایل ملازمین کو خط تھما کر چلے گئے۔خطوں کو دیکھتے ہی ملازمین کے پاؤں تلے زمین نکلنے لگی۔لمحہ بھر کے لئے سکتے میں چلے گئے۔خط کو ڈراؤنا خواب تصور کرنے کی بھی کوشش کی۔مگر حقیقت سے منکر نہیں ہوا جا سکتا۔دیکھتے ہی ساری ہمت اور چہرے کی رونق گہری گرد کی لپیٹ میں آگئی۔ چہروں پر حیرت کے بادل چھا گئے۔بعض تو یہ گہرا صدمہ سہہ نہ پائے اور ادھ موا ہوکر بے ہوشی کی حالت میں چلے گئے۔باقی اس آفت سے بچے ملازمین کے گلے لگ کر زارو قطار رونے لگ گئے۔سرگودھا برانچ کے ایک صاحب کا دل یہ صدمہ برداشت نہ کر سکا۔دل کے دورے نے انہیں گرنے پر مجبور کردیا۔تمام متاثرہ ملازمین وہی خط اٹھائے بدحواسی کی حالت میں پہلے پہر ہی گھروں کو لوٹنے لگے۔

ایچ بی ایل کے اس خط میں ان ملازمین کی فراغت کے الفاظ درج تھے۔یہ دن ان کے لئے قیامت صغری سے کم نہ تھا۔نکالے جانے والے ان ملازمین کی عمریں45سے55سال تک کی تھیں۔ نچلے درجے کے ان کمزور وبڑی عمر کے ملازمین کے نہ جانے کتنے ارمان بکھر ے ہوں گے۔کسی نے اپنی رحمت یعنی بیٹی کو پوری شان و شوکت سے رخصت کرنا تھا۔کسی کو ابھی اپنا گھر بنانا تھا۔کسی نے اپنے بچوں کو مہنگی و معیاری تعلیم دلانا تھی۔ اسی طرح کسی نے کاروبار اور کسی نے خاندان کی لئے منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔جو ان کو ملنے والی پنشن اور رقم سے ہی ممکن ہونا تھا۔نہ ختم ہونے والی پریشانیوں سے یہ لوگ بیمار ہونے لگے۔اسی آب و تاب میں کراچی ناظم آباد برانچ کے کمال مصطفی صدمے کے باعث اپنے خاندان کو بے آسرا چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوگئے۔سجاد احمد، اصغر ندیم اور عبدالشکور جیسے بہت سے ملازمین 30سے35برس تک محنت و دیانتداری سے بینک کے لئے اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔دوران ملازمت بہت سے بینکوں کی آفرز کو ٹھکرایا۔اب جب بڑھاپا قریب ہے اور ریٹائرمنٹ میں صرف چند ماہ یا سال باقی ہیں۔ایسے میں بینک کی طرف سے جبری تور پر ملازمت سے فارغ کر کے صرف چھ ماہ کی تنخواہیں تھما دینا کہاں کا انصاف ہے۔بینک کی طرف سے ان کے ریٹائرمنٹ اور پینشن کے حقوق سلب کرنا انتہائی قابل مذمت اقدام ہے۔بینک کے دسمبر2017میں ریٹائر ہونے والے صدر نعمان کے ڈار کی تنخواہ ان ایک سو اسی ملازمین کی مجموعی تنخواہ سے بھی زیادہ تھی۔ ان ملازمین کو پنشن دینا بینک کے لئے ایسے ہے جیسے چیونٹی کا سمندر سے پانی پینا۔مگر یہاں معاملہ کچھ اور ہی ہے!

افسوس ناک بات یہ ہے کہ متاثرہ ملازمین نے قانونی جنگ کا فیصلہ کیا توانہیں ماسٹر اینڈ سرونٹ رول کے تحت ٹرخایا گیا۔بالا آخر ان کی جدوجہد کے باعث NIRCکورٹ کراچی نے بینک کے جبری ریٹائرمنٹ آپریشن کو12جنوری2018کے روز معطل کر کے17ملازمین کی فوری بحالی کا حکم صادر فرمایا۔مگر اس دن سے لے کر آج تک ملازمین ینک کے دفتروں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔بینک انتظامیہ عدالت کے اس حکم کو ماننے سے انکاری ہے۔

حکومت پاکستان نے بہت سے سرکاری اداروں کو سرمایہ داروں کو بیچنے کے ساتھ نچلے درجے کے ملازمین کے بنیادی حقوق بھی بیچ دیئے۔جن کاادراک عوام کو اب ہورہا ہے اور وقت کے ساتھ ہوتا رہے گا۔ہماری حکومتی ناکامی کی اس سے بڑھ کر اور کیا مثال ہو سکتی ہے کہ اپنے ریاستی ادارے سرمایہ داروں کے آگے اونے پونے بیچ رہی ہے۔وہی سرمایہ دار ایک طرف عام عوام سے سروسز کی صورت میں اضافی ٹیکسز وصول کررہے ہیں اور دوسری طرف اپنے عام ملازمین کو بنیادی حقوق سے بھی محروم کرہے ہیں۔یہ صرف ایک بینک ہی کا معاملہ نہیں بہت سے پرائیویٹ اداروں میں ایسا ہورہا ہے۔ایسے تمام اداروں کا فرانزک آڈٹ ہونا چاہئے۔لیکن حکومت ،وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک نے کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ایسے میں بے چارے مظلوم و لاچار ملازمین کہاں جائیں؟ کیا کریں؟

جس عہد میں لٹ جائے، فقیروں کی کمائی

اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ