فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر363

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر363
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر363

  


وحید مراد کچھ دن بعد اس حادثے کے زخموں سے تو صحت یاب ہوگئے مگر ان کی روح پر جو زخم لگے تھے وہ مندمل نہ ہوسکے۔ سمجھانا بجھانا لاحاصل تھا۔ وہ جس راہ پر چل پڑے تھے۔ اس پر سے واپسی اب ناممکن ہوچکی تھی۔ طبعی موت تو بعد میں واقع ہوئی‘ فلم والوں کے لیے تو وہ اپنی زندگی میں ہی مر چکے تھے۔ لاہور میں انہوں نے ایک خوب صورت کوٹھی خریدی تھی مگر ان حالات میں ان کا لاہور میں رہنا بے کار تھا۔ وہ کراچی چلے گئے جہاں ایک دن وہ چپکے سے مر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر ہمیں ڈھاکا میں ملی تھی۔ وہاں جس نے بھی سنا غمگین ہوگیا۔ مشرقی پاکستان اب بنگلہ دیش بن چکا تھا مگر وحید مراد کے پرستار اور یاد کرنے والے ابھی وہاں موجود تھے۔

وحید مراد کو ہم نے ابتدائی زمانے میں بھی کراچی میں دیکھا تھا جب وہ ہر ایک کی آنکھ کا تارہ تھے۔ نثار مراد صاحب کا بنگلہ کراچی میں سوشل سرگرمیوں اور دعوتوں کا مرکز تھا۔ کون سا قابل ذکر شخص تھا جو ان کا مہمان نہ ہوا تھا۔ لاہور سے جانے والے فلمی لوگوں کی مہمان داری بھی وہ اپنا فرض سمجھ کر کیا کرتے تھے۔ ان کی کوٹھی کا لان روشنی سے جگمگاتا اور روشن چہروں کی تابناکی سے دمکتا رہتا تھا۔ وحید مراد اپنے والدین کے انتہائی لاڈلے تھے جو ان کی ہر خواہش کی تکمیل اپنا فرض جانتے تھے۔ ان کی لاہور والی کوٹھیاں بھی ان کی بیگم نے فروخت کردی ہیں اور کراچی میں رہتی ہیں۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر362 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

گزرا ہوا زمانہ اب تو شاید انہیں بھی ایک خواب ہی لگتا ہوگا۔ نثار مراد صاحب کسی زمانے میں کراچی کی فلم ٹریڈ میں ایک نمایاں اور اہم نام تھے۔ تعلق تو ان کا پنجاب سے تھا لیکن فلمی کاروبار سے وابستہ ہوکر وہ پاکستان کے قیام سے پہلے ہی کراچی چلے گئے تھے۔ چھوٹے موٹے کام کرتے تھے مگر جب قیام پاکستان کے بعد بڑے ہندو تقسیم کاروں کا زور ٹوٹا اور انہوں نے یہاں سے بوریا بستر سمیٹا تو پاکستان میں ان کے کارندوں کے دن پِھر گئے اور وہ ان کے کاروبار پر قابض ہوگئے۔ نثار مراد صاحب نے بھی ایک کارندے سے چھلانگ لگا کر فلم تقسیم کار کا مقام حاصل کرلیا اور پاکستان فلمز کے نام سے ایک تقسیم کار اداکارہ قائم کرلیا۔ ابتدائی زمانے میں تو پاکستان میں بھارتی فلمیں ہی سینما گھروں میں چلا کرتی تھیں۔ بمبئی جانے والے ہندو تقسیم کاروں اور فلم سازوں کے توّسط سے پاکستانی تقسیم کار سستے داموں بھارتی فلموں کے حقوق پاکستان کے لیے حاصل کرلیتے تھے اور خوب منافع کماتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے تقسیم کار فلمی صنعت کا سب سے دولت مند اور بااثر طبقہ بن گئے تھے۔ نثار مراد صاحب ایک خوش وضع اور خوب صورت آدمی تھے۔ وحید مراد نے اپنی بہت سی جسمانی خصوصیات ان ہی سے ورثے میں حاصل کی تھیں۔ گندمی رنگ‘ تیکھے نقوش‘ سیاہ بال‘ قد میں وہ اپنے بیٹے سے قدرے کم تھے لیکن غضب کے اسمارٹ تھے۔ ہم نے کبھی ان کے جسم پر فالتو گوشت کی ایک بوٹی تک نہیں دیکھی۔ جس طرح روز اوّل دیکھا تھا‘ ویسا ہی آخر تک پایا۔ خدا جانے وہ ایکسرسائز وغیرہ کرتے تھے یا قدرت انہیں سڈول اور متناسب جسم عطا کرکے بھول گئی تھی۔ بہت بااخلاق اور متواضع تھے۔ باتیں بے حد شائستگی سے کرتے تھے مگر اپنے مؤقف سے کبھی دست بردار نہ ہوئے۔ کاروبار میں ان کا انداز اور اصول ان سے بزنس کرنے والے فلم سازوں کو پسند نہیں تھا۔ وہ فلموں کے حقوق کے لیے بہت کم قیمت ادا کرتے تھے۔ ادائیگی بھی فلم ساز کو رُلا رُلا کر کرتے تھے اور فلم کی نمائش کے بعد فلم ساز کو منافع میں سے اس کا حصّہ ادا کرنا ان کے اصول کے خلاف تھا لیکن فلم ساز مجبور تھے۔ تقسیم کاروں کے تعاون کے بغیر ان کے لیے فلم بنانا ممکن نہیں تھا کیونکہ پاکستان میں فلموں کے لیے سرمایہ فراہم کرنے والا طبقہ ناپید تھا۔ خود فلم سازوں کی مالی حالت اس قدر مستحکم نہ تھی جس کا سبب اوپر بیان کیا جاچکا ہے۔ کتنی ہی سپرہٹ فلمیں بنا لیجئے۔ اضافہ محض تقسیم کار اور سینما کے مالک کی دولت میں ہوتا تھا۔ فلم ساز اگلی فلم کے لیے پھر سرمایہ اکٹّھا کرنے کی تگ و دو میں لگ جاتا تھا۔ صرف اتنا فائدہ ہوتا تھا کہ اسے تقسیم کار آسانی سے اور پہلے کے مقابلے میں زیادہ ایم جی ادا کرنے والے دستیاب ہو جاتے تھے۔ پاکستان کی فلمی صنعت کے مستحکم نہ ہونے کا ایک بڑا سبب یہی ہے کہ صنعت کار یعنی فلم ساز ہمیشہ خالی ہاتھ رہتا ہے۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ منافع صرف اسی فلم ساز نے کمایا جس نے بذات خود تقسیم کار ادارہ قائم کرلیا۔ گزشتہ چند سالوں سے فلمی صنعت میں ’’باہر کے‘‘ سرمایہ دار آنے لگے ہیں۔ جو مختلف دیگر ذرائع سے اندھا دھند دولت کمانے کے بعد شوبزنس کے گلیمر کے لالچ میں یا خود کو معززین کی فہرست میں شامل کرنے کی خواہش میں آتے تھے۔ ان لوگوں کے پاس سرمائے کی کمی نہیں تھی اس لیے یہ اپنے ذاتی تقسیم کار ادارے بلکہ سینما گھر بھی بنا لیتے تھے۔ فلم ہٹ ہوجائے تو دونوں ہاتھوں سے منافع سمیٹتے تھے۔ اگر فلاپ ہو جائے تو کوئی غم نہیں کیونکہ پیسہ جس طرح آسانی سے آیا تھا اسی طرح چلا گیا۔ ان کے اصل دھندے دوسرے ہوتے تھے۔ گویا دونوں صورتوں میں یہ فائدے میں رہتے تھے۔ ملکی سطح پر ان کی شناخت ہوجاتی تھی۔ معززین میں شمار ہو جاتا تھا۔ میلہ لوٹتے ہیں سو الگ۔ ان کے لیے ہر طرح فائدہ ہی فائدہ تھا۔ نقصان تو فلمی صنعت کا تھا جو اَن جانے‘ کم علم اور فلم کے رموز سے ناواقف لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے اوپر سے نیچے تک اپنی ہی طرح کے ہم خیال لوگوں کو اکٹّھا کرلیا ہے۔ تعلیم‘ تجربہ‘ تربیت‘ ذہانت‘ قابلیت یہ تمام چیزیں اب فالتو سمجھی جاتی ہیں۔ جسے پیا چاہے وہی سہاگن کہلائے لیکن جو شخص سرمایہ لے کر آتا ہے اسی کے پسند ناپسند اور خوشنودی کے مطابق سب کام کرتے ہیں۔ وہ اپنے ہی جیسی ٹیم منتخب کرتا ہے۔ اپنے ہی ہم خیال لوگوں کو خدمات سونپتا ہے۔ گزشتہ پندرہ بیس سالوں میں پاکستان کی فلمی صنعت تجربہ کار‘ باصلاحیت اور تعلیم یافتہ افراد سے محروم ہوچکی ہے تو اس کی یہی وجہ ہے۔ اسمگلرز‘ منافع اندوز‘ بلیک مارکیٹیے‘ غنڈے بدمعاش‘ جوا کرانے والے اور مختلف ذرائع سے دولت اکٹّھی کرنے والے بہت سے افراد اس کی قسمت کے مالک بن گئے ہیں۔

تذکرہ نثار مراد صاحب کا ہورہا تھا۔ مذکورہ بالا کوتاہیوں سے قطع نظر مجلسی اور سماجی اعتبار سے وہ ایک دلچسپی اور بہت اچھّے انسان تھے۔ انہوں نے بے شمار کامیاب فلمیں ریلیز کی تھیں جن کے فلم ساز اس کے بعد بھی دوسری فلم کے لیے اسی طرح سرمایہ جمع کرتے رہے جس طرح موسم گرما آنے پر چڑیاں گھونسلا بنانے کے لیے تنکے اکٹھے کرتی ہیں۔ دوسرے تقسیم کاروں کی طرح نثار صاحب بھی خوشی کے جھولے میں جھولتے رہے۔ رئیسانہ زندگی گزارتے رہے۔ دعوتیں اور تقاریب منعقد کرتے رہے مگر حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ان کے قریبی حلقوں نے بتایا کہ وہ خود بھی پیسے کے لیے پریشان رہتے ہیں۔ ان کی مثال ایسے جاگیردار کی سمجھ لیجئے جو دولت اور جاگیر سے محروم ہونے کے باوجود اپنا ظاہری ٹھاٹ باٹ قائم رکھنے کے لیے ساہوکاروں سے بھاری سود پر قرضے لیا کرتے تھے۔ اگر سودے میں منافع ہوا تو قرض بمعہ سود فوراً ادا کردیا اور اپنا کام بھی چلا لیا۔ نقصان ہوا تو کسی اور سے یا اسی شخص سے مزید قرض لے کر پہلے سودادا کیا‘ پھر کاروبار میں پیسہ لگایا۔ ظاہر ہے کہ یہ طریقہ سود مند نہ تھا شاید اسی وجہ سے وہ پریشان رہا کرتے تھے اور فلم سازوں کی بروقت قسط بھی ادا کرنے سے قاصر تھے۔ ہمارے مذہب نے ظاہر داری اور سود کی اسی لیے شدید مذمت بلکہ ممانعت کی ہے۔ ان کاموں میں ملوث ہونے والے شادو آباد نہیں رہ سکتے۔ یہ افراد ہی پر منحصر نہیں ہے۔ اقوام اور بڑے بڑے ملکوں کا یہی حال ہے۔ امریکہ دنیا کا دولت مند ترین ملک ہے مگر کھربوں ڈالر کا مقروض ہے۔ وہاں کے رہنے والے زندگی کی تمام آسائشوں سے بہرہ ور ہیں لیکن بال بال قرض میں بندھا ہوا ہے۔ زندگی بھر نہ قرض سے نجات ملتی ہے‘ نہ سود سے۔ دوسرے ملکوں کا بھی یہی حال ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ مسلم ممالک بھی اسی روش پر گامزن ہیں۔ اقتصادی پریشانیوں سے دوچار کم وسائل رکھنے والے مسلمان ملک تو خیرمجبور ہیں مگر تیل کی دولت سے مالامال ملکوں کو کس چیز کی محتاجی ہے؟ بہرحال اللہ کے دستور اور نظام سے لڑکر کس نے فلاح پائی ہے۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر364 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ


loading...