منصفوں کا سارا زور منتخب وزیراعظم پر چلتا ہے، جو منصف فیصلہ آنے سے پہلے گالیاں اور القابات دیں، ان کا فیصلہ کیا ہو گا: مریم نواز شریف

منصفوں کا سارا زور منتخب وزیراعظم پر چلتا ہے، جو منصف فیصلہ آنے سے پہلے ...
منصفوں کا سارا زور منتخب وزیراعظم پر چلتا ہے، جو منصف فیصلہ آنے سے پہلے گالیاں اور القابات دیں، ان کا فیصلہ کیا ہو گا: مریم نواز شریف

  

شیخوپورہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنماءمریم نواز شریف نے کہا ہے کہ منصفوں کا سارا زور منتخب وزیراعظم اور عوام پر چلتا ہے لیکن جب آمر آتا ہے تو ہمت ختم ہو جاتی ہے اور آرٹیکل 62,63 سو جاتا ہے۔

یہ صرف نواز شریف کا مقدمہ نہیں بلکہ ہر اس شخص اور وزیراعظم کا مقدمہ ہے جس کو آپ نے ووٹ دے کر منتخب کیا تھا۔ ناانصافی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو گا کہ نواز شریف کو گالی دینے والے منصف مقدمہ بھی سن رہے ہیں اور ایک فیصلہ بھی دے چکے ہیں جبکہ آنے والے وقتوں میں انہوں نے نواز شریف کا فیصلہ سنانا بھی ہے۔

شیخوپورہ میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے کہا کہ آپ کی عدالت میں نواز شریف کا مقدمہ لائی ہوں اور یہ اکیلے نواز شریف کا مقدمہ نہیں ہے بلکہ ہر اس شخص اور وزیراعظم کا مقدمہ ہے جس کو آپ نے اپنے ووٹ دے کر وزیراعظم بنایا تھا۔ یہ ہر اس وزیراعظم کا مقدمہ ہے جو آپ کے ووٹوں اور اعتماد کے باوجود بار بار پانچ سال پورے نہیں کر سکا۔ نواز شریف کا یہ مقدمہ اس لئے بھی زیادہ ہے کہ ان کیساتھ ایک نہیں، دو نہیں بلکہ تین بار یہی ہوا ہے۔ نواز شریف کو ایک مرتبہ بھی ووٹ سے نہیں نکالا گیا بلکہ نواز شریف کو جب بھی نکالا، ووٹ کی پرچی کو روندنے والوں نے نکالا۔ 1999ءمیں بھی یہی کچھ ہوا اور پھر 2000ءسے 2010ءمیں بھی یہی ہوا اور اب 2017ءاور 2018ءمیں بھی یہ ہی ہو رہا ہے تو کیا ایسے ہی پاکستان کا تماشا بنتا رہے گا یا آپ کچھ کریں گے؟

ناانصاف کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو گا کہ جن منصفوں نے نواز شریف کو گالی دی وہی نواز شریف کا مقدمہ سن رہے ہیں اور فیصلہ بھی دے چکے ہیں اور انہی منصفوں نے آنے والے وقتوں میں نواز شریف کا فیصلہ سنانا ہے۔ جو فیصلے آنے سے پہلے گالیاں دیدیں، اور القابات سے نواز دیں تو ان کافیصلہ کیا ہو گا؟ کیا ان کی گالیوں کے ذریعے، کیا وہ اپنے القابات کے ذریعے نواز شریف کے خلاف فیصلہ نہیں سنا چکے؟

نواز شریف نے اپنے والد کے جنازے کو کندھا دینا ہو تو وہ پاکستان آ نہیں سکتا اور اگر اپنی بیمار اہلیہ کے پاس اس کی عیادت کیلئے جانا چاہے تو وہ ملک سے باہر نہیں جا سکتا، یہ کیسا انصاف ہے؟ آپ کو پتہ ہے کہ ہر بار نواز شریف کیساتھ یہ کیوں ہوتا ہے؟ کیونکہ آپ اس کو دو تہائی اکثریت دے کر وزیراعظم بناتے ہو اور ہر بار کوئی نہ کوئی بہانہ کر کے اسے آپ کی خدمت سے روک دیا جاتا ہے۔ نواز شریف جیسے ہی اقتدار میں آتا ہے تو دن رات آپ کی خدمت میں لگ جاتا ہے، بجلی بناتا ہے، موٹرویز بناتا ہے، ہسپتال بناتا ہے، کالج اور یونیورسٹیز بناتا ہے، سی پیک بناتا ہے اور جب وہ یہ سب کچھ آپ کیلئے کرتا ہے تو بدلے میں آپ کی محبت ملتی ہے۔ پہلے سے بھی زیادہ عشق ملتا ہے اور اسی کی سزا نواز شریف کو ملتی ہے۔ لیکن یہاں پر منتخب ویراعظم قبول نہیں، مگر نواز شریف تو وہ وزیراعظم ہے جس کو عوام کی محبت اور عشق ملا ہے۔ جگہ جگہ اسی طرح کے مناظر دیکھتی ہوں اور دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ کس طرح دیوانہ وار آپ لوگ نواز شریف سے محبت کرتے ہو اور چالیس سال سے اس محبت میں کمی نہیں آئی، اضافہ ہوتے دیکھا ہے۔

میں اور یہاں موجود نوجوان نواز شریف کے سپاہی ہے اور آج اس کے جھنڈے تلے جمع ہوئے ہیں۔ میں سب کو یہ پیغام دیتی ہوں کہ ہمارا نظام عدل آپ لوگوں کا مقروض ہے اور یہ یہ ہر اس شخص کا مقروض ہے جس نے ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندوں کو عزت دی، اس نظام عدل نے نواز شریف کے پچھلے 20 سالوں کے قرض چکانے ہیں لیکن انہوں نے قرض کے اور بھی انبار لگا دئیے۔ وہ قرض کون اتارے گا جب نواز شریف کو جھوٹے مقدمے میں ہائی جیکر بنا کر جیل کی کال کوٹھڑی میں ڈال دیا تھا۔

نظام انصاف نے وہ قرضہ بھی چکانا ہے کہ جب نواز شریف کو ایک جھوٹے، آمر کے سامنے سر نہ جھکانے کے مقدمے، لوگوں کے ووٹ کو عزت دینے اور ووٹ کی پرچی کو پاﺅں تلے نہ روندنے کے الزام میں اٹک قلعے میں بند رکھا گیا۔ 2 دفعہ عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے جھوٹے مقدمے میں آپ کے اور میرے لیڈر کو ہائی جیکر بنایا اور دو دفعہ عمر قید کی سزا سنائی تو اس وقت میں کمرہ عدالت میں موجود تھی جبکہ 300 سے 400 اور لوگ بھی موجود تھے۔ اس وقت میری عمر بہت کم تھی لیکن جب سزا سنائی گئی تو میں نے اس وقت بھی کھڑے ہو کر جج کو آواز لگائی کہ تم نے بے گناہ سے ناانصافی کی ہے، اللہ کے عذاب سے ڈرو ۔۔۔

کیا وہ وقت لٹا سکتے ہو جب نواز شریف کو آپ سے اور اس مٹی سے دوری برداشت کرنا پڑی۔ جب ڈوگر کورٹ سے نواز شریف کو نااہل کیا گیا تو جو قوم کا وقت ضائع ہوا، کیا وہ وقت قوم کو واپس لٹا سکتے ہو؟ میں پوچھتی ہوں 30 سال سے مائنس نواز شریف پر کام کرنے والوں کو کیا ملا؟ کچھ نہیں ملا بلکہ اللہ کے فضل و کرم سے ناکامی ہوئی لیکن نواز شریف کو بہت کچھ ملا، نواز شریف کو آپ کی محبت ملی، آپ کا نہ ختم ہونے والا ساتھ ملا، عشق ملا۔ نواز شریف صاحب آپ بہت خوش قسمت انسان ہیں اور اللہ کا شکر ادا کریں کہ آپ کو 40 سال سے اتنی محبت ملی ہے اور اب میں دیکھی ہوں کہ کس طرح راہ چلتے ہوئے بھی نواز شریف کی عزت کی جاتی ہے۔

ابھی میں جلسہ گاہ میں آ رہی تھی تو موٹر سائیکل پر کچھ لڑکے جا رہے تھے۔ انہوں نے گاڑی کی اگلی سیٹ پر نواز شریف کو بیٹھے دیکھا، تو چلتی موٹر سائیکل پر دونوں ہاتھ اٹھا لئے اور نواز شریف کیلئے اظہار محبت شروع کر دیا۔ ایک وقت آئے گا اور میں دیکھ رہی ہوں کہ وہ وقت آ رہا ہے جب آئین اور قانون پر مبنی حقیقی جے آئی ٹی بنے گی جو دیکھے گی کہ واٹس ایپ پر بنائی گئی جے آئی ٹی کی کیا حیثیت تھی۔ واٹس ایپ کالز کے ذریعے کس نے جے آئی ٹی بنائی تھی اور اس کے پیچھے کیا وجہ تھی ۔ وہ جے آئی ٹی یہ بھی دیکھے گی کہ نواز شریف کے مخالفوں کی وہ پٹیشن جسے عدالت نے مذاق قرار دیدیا تھا، کس طرح سپریم کورٹ میں داخل ہو گئی۔ جے آئی ٹی دیکھے گی کہ کس کو گاڈ فادر کہا اور کیوں کہا؟ کس کو سسلین مافیا کہا اور کیوں کہا؟ کس کو چور کہا اور کیوں کہا؟

منصفوں کا سارا زور منتخب وزیراعظم، ووٹ کی پرچی اور آپ سب پر چلتا ہے لیکن جب کسی آمر کا دور ہوتا ہے تو ہمت نہیں ہوتی۔ اس وقت ہمت کہاں چلی جاتی ہے؟ پھر آرٹیکل 62 اور 63 کہاں سو جاتا ہے۔ اللہ اور آپ کی مدد سے مل کر ان سب باتوں کے جواب ایک نہ ایک دن ان سب کو دینا پڑیں گے۔ گواہ رہنا کہ نواز شریف سچا ہے اور اس کے ساتھ ناانصافی کرنے والے جھوٹے ہیں۔

مجھ سے وعدہ کرو کہ نواز شریف کا ساتھ نبھاﺅ گے؟ عدل کی بحالی میں اس کا ساتھ دو گے؟ ووٹ کی عزت کراﺅ گے؟ اپنی ووٹ کی پرچی کی عزت کرواﺅ گے؟ انشاءاللہ آپ اپنی بہن اور بیٹی کو اس سیاسی جدوجہد میں کسی سے پیچھے نہیں پائیں گے، میں آپ کے ساتھ کھڑی ہو کر اپنے والد اور لیڈر کیلئے یہ جنگ لڑوں گی اور دھڑلے سے لڑوں گی۔۔۔

مزید : اہم خبریں /علاقائی /پنجاب /شیخوپورہ