تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... پہلی قسط

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... پہلی قسط
تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... پہلی قسط

  

حضرت دہلی نے شاہ جہاں آباد کی خلعت زیب تن کی ،جامع مسجد کی حمائل سینے سے لگائی ۔قلعہ معلیٰ کی مرصع عمارتوں کے زیورات ہاتھ گلے میں پہنے اور دارالسلطنت کی مندیل پر تخت طاؤس کا گوہر نگار سر پیچ باندھ کر شہنشاہ ابو المظفر شہاب الدین محمد شاہ جہاں صاحب قرآنِ ثانی کے حضور میں سات سلام کیے ۔

قلعہ معلیٰ کے سامنے پھیلے ہوئے سبز پوش میدان میں امیروں ،وزیروں ،نوابوں ،مرزاؤں ،راجاؤں اور منصب داروں کے ہاتھیوں اور گھوڑوں کے رو پہلے سنہرے ساز ویراق کا گنگا جمنی دریا موجیں مار رہا تھا ۔ذاتی رسالوں اور محافظ دستوں کے سوار اور پیادے مخصوص لباسوں اور ہتھیاروں میں شعلہ جوالہ بنے اپنے اپنے امیروں کے طوغوں اور علموں کے سائے میں کھڑے تھے ۔فقار خانے میں ماہرین فن نوبت بجا رہے تھے ۔فصیلوں پر توپیں چڑھی تھیں ۔نیچے آہنی دروازے کے دونوں طرف اکیاون اکیاون ہاتھی زربفت کی جھولیں اور سنہری عماریاں پہنے سلام کو حاضر تھے۔

دربارعام کے صحن میں مشہور عالم ’’دل بادل ‘‘شامیانہ آراستہ ہوچکا تھا جسے سینکڑوں آدمیوں نے ہاتھیوں کی مدد سے کتنی ہی دنوں میں کھڑا کیا تھا ۔طلاباف مخمل کی چھت کے نیچے ٹھوس چاندی کے تین گز اونچے اسّی ستون سونے کے پھولوں کی قبا پہنے اصفہانی قالینوں پر حاضرین دربار کی طرح اپنے اپنے مقام پر نصف تھے ۔قلب میں پنچ ہاتھ اونچا ،سوا تین ہاتھ لمبا ،ڈھائی ہاتھ چوڑا تخت طاؤس تھا ۔اس کی چھت زمرد کے بارہ ستونو ں پر قائم تھی ۔دو طاؤس جواہرات سے سجے کھڑے تھے ۔ان کی منقاروں میں موتیوں کی مالائیں تھیں اور وہ دونوں اس لہلہاتے ہوئے درخت کو دیکھ رہے تھے ۔جس کی ڈالیں پکھراج کی تھیں ۔پتیاں زمرد سے تراشی گئی تھیں اور پھل یاقوت کے بنائے گئے تھے ۔جڑاؤ کٹہرے کے چاروں طرف سونے چاندی کے گزر کندھوں پر رکھے گزر بردار مستعد تھے ۔شہ نشین سے نیچے بچھا ہوا ایک طلائی تخت خالی تھا۔پھر نقیبوں کی رعب دار آوازیں بلند ہوئیں ۔ساتھ ہی ایک سو ایک توپوں نے کڑک کر روئے زمین کی سب سے وسیع ،سب سے دولت مند سلطنت کے سب سے جلیل الشان شہنشاہ کے طلوع کا اعلان کیا ۔خاصے کا محافظ دستہ جو مغل گرز برداروں اور راجپوت تلوریوں پر مشتمل تھا۔سبز ریشم اور زر دلو ہے میں غرق مشین کی طرح پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔

شہنشاہ سیاہ جامہ پہنے تھا جس کی آستینوں ،شمیسوں ،دامنوں اور گریبان میں جواہرات ٹنکے تھے۔چنٹ دار گھیرے کے اوپر کمر میں پٹکہ بندھا تھا۔جس کے جڑاؤ پر نگاہ نہیں ٹھہرتی تھی۔بازوؤں پر جوشن اور گلے میں آر سی تھی۔پاپوش موتیوں سے سفید تھی۔سفید نوک دار داڑھی کے نیچے ہار کا ایک پتھر انگارے کی طرح دہک رہا تھا۔سر پر وہ تاج تھا جو خاندانِ مغلیہ کے سینتیس تاجوں کے منتخب جواہرات سے تر تیب دیا گیا تھا ۔ظلِ سبحانی آرہے تھے۔جیسے ایک ایک قدم ایک ایک سلطنت پر پڑا رہا ہو۔

حاضرین نے گھنٹوں تک سر جھکا کر اور ہاتھ ماتھے پر رکھ کر کورنش کی ۔شہنشاہ نے گلال بار میں کھڑے ہوکر حاضرین دربار پر نگاہ کی اور ارشاد کیا ۔

’’فرعون نے ہاتھی دانت کا تخت میسر کیا اور اس پر بیٹھ کر خدائی کا دعویٰ کیا ۔اہل دربار شاہد رہیں کہ مابدولت اس بے نظیر تحت پر قدم رکھنے سے پہلے اللہ کی بندگی اور اس کے آخری پیغمبرﷺ کی غلامی کا اقرار فرماتے ہیں۔‘‘

پھر سجدہ شکر ادا کیا ۔جلوس فرماہوئے ۔مہین پور خلافت ولی عہد سلطنت سلطان داراشکوہ نے آگے بڑھ کر نذر پیش کی جو قبول ہوئی اور اعلان ہوا ۔

’’مابدولت نے شاہ بلند اقبال سلطان داراشکوہ کو وہ اعزاز فرمایا جس سے عرش آشیانی (جہانگیر) نے اس ناچیز کو مشرف فرمایا تھا ۔حکم دیا جاتا ہے کہ آج سے شاہ بلند اقبال اس تخت زرنگاہ پر جلوہ افروز ہوا کریں ۔‘‘

داراشکوہ نے شاہ بلند اقبال کے خطاب اور تخت کے اعزاز کے شکر میں سات سلام کئے اور اپنے مقام پر آکر کھڑا ہوگیا۔ظلِ سبحانی نے وزیر اعظم سعداللہ خان کے جو سیڑھیوں پر کھڑا تھا ،اشارہ کیا ۔وزیر اعظم نے داراشکوہ کا ہاتھ پکڑا اور تخت پر بٹھا دیا اور مبارک باد پیش کی۔

ہفت ہزاری منصب داروں کی قطار کے سامنے شاہزادہ محمد شجاع ،شاہزادہ اورنگزیب او ر شاہزادہ مراد کھڑے تھے۔شجاع اور مراد جب نذریں پیش کرکے الٹے پاؤں واپس ہوئے تو آہستہ سے داراشکوہ کو مبارک باد دی لیکن اور نگ زیب بھاری قدم رکھتا آیا اور اپنے مقام پر کھڑا ہوگیا ۔شاہ جہاں نے متفکر نگاہوں سے اورنگ زیب کو دیکھا اور سعداللہ خان وزیر اعظم کی نذر پر ہاتھ رکھ دیا۔(جاری ہے)

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /دارا شکوہ