وہ واحد قبیلہ جہاں کبھی جنسی زیادتی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا کیونکہ یہاں پر لوگ۔۔۔

وہ واحد قبیلہ جہاں کبھی جنسی زیادتی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا کیونکہ یہاں پر ...
وہ واحد قبیلہ جہاں کبھی جنسی زیادتی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا کیونکہ یہاں پر لوگ۔۔۔

  


نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے حوالے سے دنیا میں سرفہرست ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خود بھارتی باشندے دارالحکومت نئی دہلی کو ’’جنسی زیادتیوں کا دارالحکومت‘‘ کہتے ہیں۔ تاہم اسی ملک میں ایک قبیلہ ایسا ہے جس کی لڑکیوں کے ساتھ کبھی جنسی زیادتی کا واقعہ پیش نہیں آیا اور اس کی وجہ اس قبیلے کی ایک حیران کن رسم ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ قبیلہ ریاست چھتیس گڑھ کے علاقے باستر میں رہتا ہے۔اس قبیلے میں ایک صدیوں پرانی روایت ہے جس کا نام ’’گھوٹل‘‘ ہے اس رسم کے تحت قبیلے کے لوگ شادی کے بغیر جنسی تعلق کو ناجائز نہیں سمجھتے اور قبیلے کے مردوخواتین بلاروک ٹوک اور بلا شرم و جھجھک بغیر شادی کے جنسی تعلق استوار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس قبیلے میں جنسی زیادتی کے واقعات کی شرح صفر ہے۔

رپورٹ کے مطابق نکسل علاقے میں رہنے والا یہ قبیلہ گوند قبیلے کی ذیلی شاخ ہے۔گھوٹل رسم کی ادائیگی کے لیے قبیلے کے لوگوں نے بانسوں اور گارے سے جھونپڑی نما کمرے بنا رکھے ہیں جنہیں آپ جدید دنیا کا نائٹ کلب کہہ سکتے ہیں۔قبیلے کے مرد وخواتین کے لیے ان کمروں میں جنسی تعلق استوار کرنا ممنوع نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ ان کمروں میں انہیں جنسی تعلیم بھی دی جاتی ہے اور جنسی تعلق قائم کرنے کے طریقے بھی سکھائے جاتے ہیں۔جب قبیلے کے لڑکے لڑکیاں 10سال کی عمر کو پہنچتے ہیں تو ماں باپ خود انہیں انہیں کمروں میں بھیجتے ہیں جہاں وہ سب کچھ کرنے کے لیے آزاد ہوتے ہیں۔کمرے میں ڈھول مسلسل بجتے رہتے ہیں اور لڑکے لڑکیاں بے فکری کے ساتھ ڈھولوں کی آواز میں دادِ عیش دیتے ہیں۔ اب آپ ہی کہیے، ایسی شرمناک رسم کے ہوتے ہوئے جنسی زیادتی کے واقعات بھلا کہاں سے ہوں گے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...