وہ وقت جب امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ ہوٹل کی راہداری میں ویٹرس کے ساتھ انتہائی فحش حرکت کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے

وہ وقت جب امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ ہوٹل کی راہداری میں ویٹرس کے ساتھ انتہائی فحش ...
وہ وقت جب امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ ہوٹل کی راہداری میں ویٹرس کے ساتھ انتہائی فحش حرکت کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ پر خواتین سے جنسی تعلقات کے الزامات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے اور اب ان میں ایک انتہائی شرمناک الزام کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اب کی بار پراپرٹی ڈویلپر پیٹر ڈی سیوری نے انکشاف کیا ہے کہ ایک بار ہم کاروباری میٹنگ کے لیے اکٹھے ہوئے جہاں لنچ بریک کے دوران ڈونلڈٹرمپ ہوٹل کی ویٹرس کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے۔ 73سالہ پیٹر کا کہنا ہے کہ ’’1985ء میں پام بیچ کی پراپرٹی خریدنے میں میرا اور ٹرمپ کا مقابلہ تھا جس میں وہ جیت گیا اور پراپرٹی خرید لی۔ تاہم بعد ازاں ہم نے ایک میٹنگ کی جس میں اس پراپرٹی کو ڈویلپ کرنے شراکت داری پر گفتگو کرنی تھی۔ اس میٹنگ میری بیوی میرے ساتھ تھی جبکہ ٹرمپ اکیلا آیا تھا حالانکہ اس وقت اس کی پہلی شادی ہو چکی تھی اور آئیوانا اس کی بیوی تھی۔‘‘

پیٹر نے مزید بتایا کہ ’’ہم نے پام بیچ پراپرٹی کی ڈویلپمنٹ کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی اور لنچ کے درمیان میں ہی ٹرمپ یہ کہہ کر اٹھ گئے کہ ’آئی ایم سوری، مجھے ایک انتہائی اہم کانفرنس کال کرنی ہے۔‘ یہ کہہ کر وہ غائب ہو گئے۔ دو منٹ بعد میری بیوی لینا ٹوائلٹ جانے کے لیے اٹھی لیکن انہی پیروں پر واپس مڑ آئی۔ اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ تو کہنے لگی ’وہ ویٹرس جو ہمیں کھانا دے رہی تھی وہ اور ٹرمپ راہداری میں جنسی تعلق میں مصروف ہیں۔‘ بہرحال ہم وہیں حیرت زدہ بیٹھے رہ گئے۔ کچھ دیر بعد ڈونلڈٹرمپ واپس آئے اور پورے اعتماد کے ساتھ کہا ’پیٹر! ہم یہ کام مل کر کریں گے۔‘آج بھی میں اس کے اعتماد کی داد دیتا ہوں۔اس میٹنگ کے بعد وہ اپنے وعدے سے مکر گیا اور ایک روز مجھے کال کرکے کہا کہ وہ اکیلا ہی پراپرٹی کو ڈویلپ کرے گا۔‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس