مقابلۂ حسن جیت کر برطانوی فوج میں شامل ہونے والی ملکۂ حسن کے ساتھ فوج میں ایسا شرمناک ترین کام ہو گیا کہ نوکری ہی چھوڑ دی، توبہ کر لی

 مقابلۂ حسن جیت کر برطانوی فوج میں شامل ہونے والی ملکۂ حسن کے ساتھ فوج میں ...
 مقابلۂ حسن جیت کر برطانوی فوج میں شامل ہونے والی ملکۂ حسن کے ساتھ فوج میں ایسا شرمناک ترین کام ہو گیا کہ نوکری ہی چھوڑ دی، توبہ کر لی

  

 لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ کی ایک خوبرو لڑکی نے مقابلۂ حسن میں حصہ لیا اور سر پر ملکۂ حسن کا تاج سجانے کے بعد برطانوی فوج میں نوکری کر لی، لیکن فوج میں اس کے ساتھ ایسا شرمناک ترین کام شروع ہو گیا کہ اسے نوکری چھوڑتے ہی بنی۔ دی مرر کی رپورٹ کے مطابق کترینا ہوج نامی اس لڑکی نے 18سال کی عمر میں ملکہ حسن کا مقابلہ جیتا اور چند ماہ بعد ہی فوج میں چلی گئی اور اس کی پوسٹنگ عراق میں کر دی گئی، لیکن وہاں اسے مرد فوجی اسے بدترین صنفی امتیاز کا نشانہ بنانے لگے۔ رپورٹ کے مطابق کوئی اسے فاحشہ کہتا اور کوئی بدکردار۔ کئی فوجیوں نے اس پر جنسی حملہ بھی کیا۔ ایک بار کینٹین میں ایک فوجی نے اسے دبوچ لیا اور جنسی زیادتی کی کوشش کی۔ بالآخر کترینا تنگ آ کر اپنے سینئرز کے پاس گئی لیکن انہوں نے بھی ان واقعات کی کوئی تحقیقات نہ کیں جس پر دلبرداشتہ ہو کر اس نے فوج کی نوکری ہی چھوڑ دی۔ کترینا کا کہنا ہے کہ ’’میں 10سال تک فوج میں اس شرمناک سلوک کا سامنا کرتی رہی۔ اب مجھے نوکری چھوڑے ہوئے بھی دو سال ہو گئے ہیں لیکن وہ فوجی جن کے ساتھ میں کام کرتی رہی، اب بھی مجھے انٹرنیٹ پر اسی طرح صنفی امتیاز کا نشانہ بنا رہے ہیں اور اب بھی انہیں کوئی روکنے والا نہیں۔‘‘

مزید : بین الاقوامی