میدانِ سیرت کاظفررخصت ہوا

میدانِ سیرت کاظفررخصت ہوا

  

گھوٹوی ہال اولڈ کیمپس (اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور)سے کئی دل نشیں یادیں وابستہ ہیں۔ ڈاکٹر محمود غازی مرحوم کا گھوٹوی ہال میں سیرت کے موضوع پر لیکچرتھا۔ مَیں کسی کام سے ہال کے باہر کھڑا تھا۔ ڈاکٹر عبد الرؤف ظفر ہال سے باہر نکلے۔ مَیں نے سلام کیا۔کہنے لگے:”نماز کا وقت ہو گیا، مَیں نماز ادا کر لوں“۔ مجھے یہ بات حیران کر گئی، کیونکہ عموما یونیورسٹی کلاسز اور لیکچرز کے باعث نمازوں کی ادائیگی میں کچھ تاخیر ہو جاتی ہے۔ شعبہ علوم اسلامیہ کی راہداری میں داخل ہوتے بائیں جانب سیرت چیئر کا دفتر تھا۔ وسیع کمرے کے وسط میں میز پرجھکے کام میں مصروف ہوتے۔ کمرے کے اطراف میں الماریوں میں سلیقے سے کتب سجی تھیں۔بارعب اور متحرک شخصیت تھی۔ خود بھی کام میں جتے رہتے اور طلبہ کو بھی محنت کرواتے۔ مہربان و مددگار، رحیم و رحم دل، معلم و مربی اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔ 15 فروری کی صبح موبائل اٹھایا۔ کئی ایک واٹس ایپ گروپس میں ان کی وفات کی اطلاع تھی۔ دُکھ کا اظہار تھا۔ ان سے متعلق حسین یادوں کا تذکرہ تھا۔ ان کی کرم فرمائیوں کا ذکر تھا۔طلبہ شفیق استاد سے محروم ہو گئے۔ہم عصر،علم دوست شخصیت کے جانے پر اداس تھے۔ عارضہ قلب میں مبتلا تھے۔ 2014ء کی ایک ای میل میں مجھے عارضہ قلب کے بارے بتایا اور دُعا کا کہا۔ ان کی والدہ کی وفات 25 جنوری 2020ء کو ہوئی، مَیں ان دنوں اسلام آباد تھا۔ جنازے میں شرکت نہ کر پایا۔ تعزیتی پیغام ارسال کیا تو جواباً دعا پر مشتمل میسج بھیجا۔ والدہ کی وفات کے چند دن بعد خود بھی والدہ کے نقش قدم پر چل دیئے۔ جنازہ لاہور، بہاولنگر اور آبائی گاؤں میں ادا کیا گیا۔ سینکڑوں چاہنے والوں نے بہاولنگر میں دُعاؤں، آنسوؤں اور نم دیدہ آنکھوں میں رخصت کیا۔ان میں ان سطور کا کاتب بھی شامل تھا۔

”ڈئیر اعجاز، بردر اعجاز، اعجاز صاحب،محترم اعجاز حسن صاحب“…… مجھے یوں مخاطب کرتے۔ یہ ان کا بڑا پن تھا، شفقت کا اظہار تھا۔ 2000ء میں حصول تعلیم کے لئے مَیں مدینہ یونیورسٹی سعودی عرب میں زیر تعلیم تھا۔ آپ کا خط موصول ہوا۔ مجھے ہدایت کی تھی کہ ایک قلمی نسخے کی باضابطہ نقل مدینہ یونیورسٹی کی لائبیریری سے حاصل کروں اور ان تک پہنچاؤں۔ مَیں یہ ذمہ داری پوری کرنے میں کامیاب رہا۔ 2010ء میں سیرت کانفرنس میں شرکت کے لئے مجھے ای میل کر کے دعوت دی۔ ان کے آبائی علاقے میں خواتین کی تعلیم اور بہبود کا سلسلہ جاری تھا۔اس میں دلچسپی لیتے،بلکہ اس حوالے سے گاہے گاہے مجھ سے بھی رابطے میں رہتے۔ اپنے آبائی علاقے کے مکینوں اور معاملات میں دلچسپی لیتے……ڈاکٹر عبد الرؤف ظفر 8 جنوری 1951ء کو پیدا ہوئے۔ آبائی گاؤں پنج کوسی تحصیل و ضلع بہاول نگر ہے۔درس نظامی اور بی اے تک تعلیم چشتیاں (بہاول نگر) میں حاصل کی۔ ایم اے اسلامیات کی ڈگری چاندی کے تمغے کے ساتھ اسلامیہ یونیورسٹی سے حاصل کی۔ پھر ایم اے عربی میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔1979ء میں بطور لیکچرار اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے شعبہ علوم اسلامیہ میں تدریس کا آغاز کیا، پھر 30 برس سے زائد عرصہ اسلامیہ یونیورسٹی میں تدریس کی۔ 1988ء میں گلاسکو یونیورسٹی (برطانیہ)سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ 1991ء میں ڈائریکٹر سیرت چیئر مقرر ہوئے۔ 2010ء میں ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین مقرر ہوئے۔ 2000ء میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں پہلی بین الاقوامی سیرت کانفرنس منعقد کروانے کی سعادت حاصل کی۔ اس کانفرنس میں پیش کردہ مقالہ جات ”مقالات سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم“ کے عنوان سے یونیورسٹی نے شائع کئے۔اس سے قبل اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا علمی تعارف ”خطبات بہاولپور“ کے حوالے سے تھا۔یہ خطبات ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے لیکچر سیریز پر مشتمل تھے،جن کا انعقادگھوٹوی ہال میں 8 مارچ سے 20 مارچ 1980ء تک کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ 2004ء میں منعقدہ سیرت کانفرنس ”جدید تناظر میں مسلم امہ کے مسائل اور ذمہ داریاں، حیات طیبہ کی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں“ کے عنوان سے منعقد کروانے کی سعادت سمیٹی۔ 2007ء میں منعقدہ سیرت کانفرنس کا عنوان ”تدوین حدیث، چودہ صدیوں میں ہونے والے کام کا علمی و تحقیقی جائزہ“ اور ”موجودہ دورمیں حدیث و سیرت کی نشر واشاعت کی ضرورت و اہمیت“ تھا۔ 2007ء کی سیرت کانفرنس میں، ڈاکٹر احمد العامری (سعودی عرب)،جامعہ الازھر (مصر) کے نائب صدر، دعوہ اکیڈمی اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر عبد الجبار شاکر مرحوم، ڈاکٹر ظفر الاسلام (علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)، ڈاکٹر محمد سعیدالبادنجکی(حلب،شام) اورڈاکٹر حمد اللہ اسماعیل (افغانستان) نے شرکت کی۔ 2010ء میں سیرت کانفرنس کا انعقاد کروایا۔ 2008ء میں قومی قرآن کانفرنس کا انعقاد کروایا، جس میں ملک بھر کی جامعات سے علوم اسلامیہ کے ماہرین نے شرکت کی۔ اس میں پیش کئے جانے والے مقالہ جات کو بعد ازاں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور نے ”مقالات قرآن کانفرنس“ کے نام سے شائع کیا۔ 2009ء میں پروفیسر ڈاکٹر سید سلمان ندوی (ڈربن، جنوبی افریقہ) کے لیکچرز منعقد کروائے۔ سعودی عرب، مصر، جرمنی، امریکہ،اور دیگر کئی ممالک کے سفر کئے۔اندرون ملک اور بیرون ملک میں کئی ایک کانفرنسوں میں شرکت کی۔ اردو، عربی اور انگریزی کے شناور تھے۔

18 تحقیقی کتابیں تصنیف کیں …… اسوہئ کامل، سیرت نبوی کے مصادر و مراجع، بہائیت اور اس کے معتقدات،علوم الحدیث (فنی، فکری اور تاریخی مطالعہ) اور معراج النبیؐ پر کئے گئے اعتراضات کا علمی جائزہ ان کی چند مطبوعہ کتب ہیں۔ اس کے علاوہ عربی تصانیف بھی ہیں۔ 7 درسی کتب اور 95سے زیادہ تحقیقی مقالہ جات تحریر کئے۔ بہت سے طلبہ کے ایم فل اور پی ایچ ڈی مقالہ جات کی نگرانی کی۔اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ریٹائرمنٹ کے بعد یونیورسٹی آف سرگودھا میں شعبہ علوم اسلامیہ کے چیئرمین رہے۔ ڈاکٹر عبد الرؤف ظفر کے بھائی ڈاکٹر ابو بکر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور، بہاول نگر کیمپس کے ڈائریکٹر ہیں۔ اسوہئ کامل میں عرض مصنف کے اختتامی کلمات میں ڈاکٹر عبدالرؤف ظفر اللہ تعالی کے حضور دعا کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”مجھے سیرت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسا رنگ دے کہ آپ ؐکی بارگاہ اقدس میں قبولیت کے شرف کا سزاوار ٹھہروں، بلکہ ان مقالات کے ہر قاری کو ایسا ہی کر دے تاکہ سیرت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشن اور باعزت راہ پر چل کر ہم پھر اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو پا سکیں۔ آمین ثم آمین“……

کیا معلوم کہ جب لوگ روزمحشر شفاعت کے طلب گار ہوں گے، تو ”میدان سیرت کے ظفر“ کو سیرت کی خدمت، شاید حصول شفاعت میں بھی ظفریاب کر دے۔

مزید :

رائے -کالم -