آرٹیکل 89 کے مطابق صدارتی آرڈیننس صرف جنگ کی حالت میں جاری کئے جا سکتے ہیں،چیف جسٹس اطہر من اللہ

آرٹیکل 89 کے مطابق صدارتی آرڈیننس صرف جنگ کی حالت میں جاری کئے جا سکتے ہیں،چیف ...
آرٹیکل 89 کے مطابق صدارتی آرڈیننس صرف جنگ کی حالت میں جاری کئے جا سکتے ہیں،چیف جسٹس اطہر من اللہ

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ صدارتی ریفرنسز کیخلاف درخواستوں پر آئندہ سماعت پر حتمی دلائل طلب کرلئے، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 89 کے مطابق توآپ آرڈیننس صرف جنگ کی حالت میں جاری کرسکتے ہیں ،آپ نے یہ مطمئن کرنا ہے یہ قانون سازی مختلف کس طرح ہے ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں صدارتی ریفرنسز کیخلاف مسلم لیگ ن کی درخواستوں پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،اسلام آبادہائیکورٹ نے کہاکہ کیس بہت اہمیت کا حامل معاملہ ہے آئندہ سماعت پر حتمی دلائل دیں،محنس شاہ نواز رانجھا نے کہا کہ پارلیمنٹ میں جوبحث 1973 میں ہوئی اس کا ریکارڈ بھی فراہم کردیں گے ،جنگ کی طرح کی صورتحال میں صرف صدرکویہ آرڈیننس جاری کرنے کااختیار ہے ۔

وکیل نے کہاکہ رضارربانی نے 10 روز کا وقت مانگا وہ دلائل دیناچاہتے ہیں ،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ یہ ہائیکورٹ 2010 کے ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت بنی ،کیایہ ٹھیک ہے آپ آرڈیننس کے ذریعے اس ہائیکورٹ کو ختم کردیں،ایک ریگولیٹر کو آپ نے آرڈیننس کے ذریعے ختم کردیا۔

عدالت کی ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر کو آرٹیکل 89 پڑھنے کی ہدایت کی،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ اس کے مطابق توآپ آرڈیننس صرف جنگ کی حالت میں جاری کرسکتے ہیں ،ابھی کروناوائرس کے حوالے سے معاملہ موجود ہے ،آپ نے یہ مطمئن کرنا ہے یہ قانون سازی مختلف کس طرح ہے ۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طاق کھوکھر کو پرانی تاریخ کا حوالہ دینے سے روک دیا،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ آپ ہرد فعہ کلونیل لاکی طرف کیوں چلے جاتے ہیں؟،یہ جمہوریت ہے آپ 1973 کے آئین کی طرف آئیں ،تینوں آئین ایک جیسے ہیں ان میں فرق ہے ۔

عدالت نے صدارتی آرڈیننس کیخلاف درخواستوں پر سماعت 12 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر حتمی دلائل طلب کرلئے، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ یہ بہت انتہائی معاملہ ہے عدالت چاہتی ہے مکمل معاونت کی جائے ،عدالت نے عدالتی معاونین سے رائے طلب کرلی ۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد