محمد بن سلمان کے وعدے کو ایک برس بیت گیا، پاکستانی قیدیوں کی رہائی میں رکاوٹ کیاہے؟

محمد بن سلمان کے وعدے کو ایک برس بیت گیا، پاکستانی قیدیوں کی رہائی میں رکاوٹ ...
محمد بن سلمان کے وعدے کو ایک برس بیت گیا، پاکستانی قیدیوں کی رہائی میں رکاوٹ کیاہے؟

  



اسلام آباد/ریاض(ڈیلی پاکستان آن لائن) سعودی ولی عہد محمد بن سلمان گزشتہ سال فروری کے وسط میں دوروزہ دورے پر پاکستان آئے تھے۔ اس دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد کی توجہ سعودی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی طرف دلوائی تھی۔جس پر سعودی ولی عہد نے سعودی جیلوںمیں قید دوہزار ایک سو سات قیدیوں کی فوری رہائی کااعلان کیاتھا۔تاہم رہا صرف نواسی قیدی ہوئے ہیں۔

بی بی سی اردو نے قیدیوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے ادارے جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی تحقیق کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے فروری 2019 میں دو ہزار سے زائد پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ وعدے کے بعد سعودی

فرماںروا کی جانب سے معافی کا اعلان بھی کردیا گیا تاہم اس کے باوجود صرف 89 قیدی گھروں کو لوٹ سکے ہیں۔

جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے مطابق انہوں نے خلیجی ممالک میں قید11ہزارپاکستانیوں کی جانب سے عدالت میں پٹیشن فائل کی تھی اور اس پٹیشن کے جواب میں عدالت نے وزارت خارجہ کو حکم دیا تھا کہ وہ ملک واپس لوٹنے والے قیدیوں کی تفصیلات جمع کروائیں۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے رواں سال ایک اورکیس کی سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ میں جواب دائر کروایا تھا سعودی جیلوں سے رہائی پانے والے 579 قیدی واپس پاکستان آ چکے ہیں۔ تاہم جسٹس پراجیکٹ کی بانی سارہ بلال کا دعویٰ ہے کہ وزارت خارجہ نے جن لوگوں کی تفصیلات عدالت کو دی ہیں وہ سعودی اعلان سے پہلے ہی واپس آچکے تھے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ پاکستانی سعودی عرب میں قید ہیں، ان قیدیوں کی تعداد تین ہزار چار سوہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی ولی عہد کے وعدے باوجود بھی پاکستانیوں کی رہائی میں سب سے بڑی رکاٹ اعلی حکام کی سستی ہے۔’اس کے علاوہ بہت سے پاکستانی قیدیوں کو معلومات نہ ہونے، قانونی عمل اور عدالت تک براہ راست رسائی نہ ملنے اور اپنے حق میں پاکستان سے شواہد نہ ملنے کی وجہ سے سخت سزاوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

سعودی عرب میں اس وقت 26 لاکھ پاکستانی ریاض، دمام، طائف اور جدہ میں روزگار کے سلسلے میں رہائش پذیر ہیں، جن میں سے زیادہ تر افراد مزدور پیشہ ہیں۔

اس حوالے سے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا کہ و ہ سعودی عرب میں ہمارے لوگ سعودی حکام کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت کرتے رہے ہیں اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ ولی عہد شہزادہ کے اعلان کے تحت 579 قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ 1500 کے قریب قیدیوں کو دوسری شقوں اور ان کی سزائیں مکمل ہونے کے بعد رہا کیا گیا ہے جبکہ دو طرفہ باہمی گفتگو کے دوران ہم نے سعودی حکام کے ساتھ اس معاملے کو فعال طور پر آگے بڑھایا ہے۔’ہماری قیادت بھی ان سے رابطے میں ہے اوراس معاملے کو اعلی سطح پر بھی اجاگر کیا گیا ہے۔‘

مزید : قومی /عرب دنیا