یورپی یونین کے وفد کا مکمل ہڑتال سے ”استقبال“

یورپی یونین کے وفد کا مکمل ہڑتال سے ”استقبال“

  

یورپی یونین کے وفد کی مقبوضہ کشمیر آمد کے موقع پر بدھ کو مکمل ہڑتال کی گئی، حریت تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ ہماری جدوجہد، آزادی ملنے تک جاری رہے گی، طویل عرصے سے کشمیریوں کو محصور رکھنے والی مودی سرکار عالمی برادری کو دھوکہ نہیں دے سکتی۔ یہ وفد بھارتی حکومت کی رضا مندی اور اس کے خصوصی اہتمام کے تحت مقبوضہ کشمیر کا دورہ کر رہا ہے، جس کا مقصد بظاہر عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے، کیونکہ اِس سے پہلے آزادانہ طور پر مقبوضہ کشمیر جانے کے خواہشمند بہت سے وفود کو ریاست کے دورے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، جبکہ یورپی یونین کے وفد کو خصوصی انتظامات کے تحت وہاں لے جایا گیا ہے اور مقصد یہ ہے کہ اُنہیں ایسے من پسند مقامات دکھائے جائیں،جہاں حالات بظاہر معمول کے مطابق نظر آئیں یہ وہ علاقے ہیں جہاں خوشحال پنڈتوں کی اکثریت رہائش پذیر ہے،اُن کے اپنے سیکیورٹی انتظامات ہیں ان علاقوں میں پولیس اور سیکیورٹی کے دوسرے اداروں کے افراد زیادہ نظر نہیں آتے ہیں۔ وفد کو ان علاقوں کا دورہ اسی مقصد کے لئے  کرایا جا رہا ہے تاکہ باور کرایا جا سکے کہ ریاست کو غیر قانونی طور پر بھارت میں ضم کرنے کے بعد  بھی کشمیر کے باشندے روزمرہ زندگی کے معمولات میں مصروف ہیں اور ریاست میں کوئی غیر معمولی صورتِ حال نہیں۔کشمیر مسلمان اکثریت کی ریاست ہے اور جن علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے وہاں بھارتی سیکیورٹی فورسز قدم قدم پر موجود ہیں، گھروں سے باہر نکلنے پر سخت پابندیاں عائد ہیں ان علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بدستور بند ہیں، لینڈ لائن ٹیلی فون کے جو پبلک بوتھ بنائے گئے ہیں اُن کے باہر فون کرنے والوں کی لمبی لمبی قطاریں لگی رہتی ہیں اور چند منٹ کی کال کے لئے اُنہیں گھنٹوں بیٹھ کر انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کشمیریوں نے آج کی ہڑتال یہی ثابت کرنے کے لئے کی ہے کہ ریاست کے بھارت میں غیر قانونی انضمام کے بعد ریاستی باشندے کن مشکلات سے دوچار ہیں، اس ہڑتال کا مقصد یورپی یونین کے وفد پر یہ بھی ثابت کرنا ہے کہ وہ   من پسند علاقوں کے دورے کے بعد حالات کی کسی خوش کن تصویر کے دام میں پھنس کر نہ رہ جائیں، بلکہ اگر وہ کشمیر کے حالات کی حقیقی تصویر دیکھنا چاہتے ہیں تو مسلم آبادی کے علاقوں کا آزادانہ طور پر دورہ کریں تاکہ اُنہیں معلوم ہو سکے کہ کشمیری باشندے کن ناگفتہ بہ حالات کا شکار ہیں۔ آٹھ لاکھ سے زیادہ بھارتی افواج مسلمان آبادی ہی کے علاقوں میں متعین ہے۔ اگر حالات دِگر گوں نہ ہوتے تو اتنی زیادہ فوج کو متعین کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔

مودی حکومت کا خیال تھا کہ اُس کے غیر قانونی اقدام کے باوجود وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات قابو میں آ جائیں گے،لیکن اس کا اُلٹا اثر ہوا ہے جو سیاسی جماعتیں اور سیاست دان اب تک بھارت کی مرکزی حکومت کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ قائم کئے ہوئے تھے اور بی جے پی کے ساتھ پارلیمانی اتحاد کر کے مخلوط حکومتیں بھی بناتے رہے ہیں اور اُن کا یہ خیال تھا کہ بھارت کے اندر کشمیر کو نیم خود مختاری دے کر حالات پر قابو پایا جا سکتا ہے وہ بھی اب مودی اور اُن کی مرکزی حکومت سے مایوس ہو چکے ہیں اور کھل کر اپنے اس نقطہ نظرکا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک پریس کانفرنس میں سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے میز پر رکھا ہوا بھارتی پرچم اٹھوا دیا اور کہا کہ اگر ہمیں کشمیر کا جھنڈا رکھنے کی اجازت نہیں ہے  تو پھر یہاں بھارتی پرچم بھی نہیں رکھا جانا چاہئے۔کشمیر کی پوری قیادت کو5اگست2019ء کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا یا نظر بند کر دیا گیا تھا۔ کم و بیش ایک سال گذرنے کے بعد جب یہ گرفتاریاں اور نظر بندیاں اس امید پر ختم کی گئیں کہ اب قیادت کی ”ذہن سازی“ ہو چکی ہو گی تو مودی کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ جو سیاست دان اُن کے ساتھ تھے اب وہ  بھی مخالف ہو چکے ہیں، چنانچہ اب گرفتاریوں اور نظر بندیوں کا سلسلہ ازسر نو شروع کر دیا گیا ہے اِن حالات میں جب کشمیر کی حریت قیادت سمیت تمام قائدین پھر سے گرفتار یا نظر بند ہیں یورپی یونین کے وفد کی ملاقاتیں کن سے کرائی جائیں گی یا وہ کون لوگ ہوں گے، جو کشمیر کی تصویر کا روشن پہلو وفد کے سامنے پیش کریں گے، اس کا اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔

اِس سے پہلے مودی سرکار نے ایک اور تجربہ بھی کیا تھا اور بھارت کے صحافیوں، دانشوروں اور دوسرے شعبہ ہائے زندگی کا ایک وفد اِس خیال سے مقبوضہ کشمیر بھیجا تھا کہ  وہ واپسی پر حکومت کا دِل لبھانے والی رپورٹ پیش کرے گا تو اس وقت مودی کو سخت مایوسی ہوئی جب وفد نے اپنی رپورٹ میں اُن پابندیوں کا تفصیل سے ذکر کیا جن سے کشمیریوں کی اکثریت گذر رہی ہے اور پوری ریاست مسلمانوں کے لئے ایک وسیع جیل خانے میں تبدیل ہو چکی ہے۔ وفد کی تیار کردہ یہ  رپورٹ جب ٹی وی چینلوں پر ٹیلی کاسٹ ہوئی اور اس کے بعض حصے اخبارات میں بھی شائع ہو گئے تو مودی کو احساس ہوا کہ اُن کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے، چنانچہ انہوں نے رپورٹ نشر کرنے والے دو چینل ہی بند کر دیئے اور اخبارات کوبھی ڈرایا دھمکایا گیا، اس کے بعد کسی بھی عالمی یا ملکی وفد کو کشمیر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یورپی یونین کے وفد کو کشمیر بھیجا گیا ہے تو اس کے ”استقبال“ کے لئے کشمیریوں نے مکمل ہڑتال کر کے بتا دیا ہے کہ ریاست میں کچھ بھی اچھا نہیں ہے اور مودی سرکار دُنیا کو ”ترقی کی جانب بڑھتی ہوئی ریاست“ کی جو تصویر دکھانا چاہتی ہے وہ سراب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر لہو لہو ہے اور کشمیری عوام آج بھی حق ِ خود ارادیت کے لئے جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں،سپانسرڈ دوروں کے ذریعے دُنیا کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا، آج کی ہڑتال کا پیغام یہی ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -