الیکشن کمیشن اور جماعت اسلامی کی انگڑائی

    الیکشن کمیشن اور جماعت اسلامی کی انگڑائی
    الیکشن کمیشن اور جماعت اسلامی کی انگڑائی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 ابتدائی انتخابی نتائج آتے ہی امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کی تلملاہٹ دیکھنے کی ہے۔ ان نتائج پر اہل ِ مغرب کے بیانات مصرع طرح تھے، پھر ان کے ذرائع ابلاغ پر ہمارے خلاف پنچ غزلے شروع ہو گئے۔ 2018ءمیں کیمروں کے سامنے خاکی پوش مہریں لگا کر بیلٹ پیپر ناکارہ کر رہے تھے۔ اسمبلی میں کسی نے اعداد و شمار رکھے کہ گزشتہ 11 انتخابات میں اتنے ووٹ مسترد نہیں ہوئے جتنے صرف 2018ءمیں بکسے چوروں نے مسترد کرائے۔ تب امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین میں سے کسی نے ان پر”تحفظات“ ظاہر نہیں کیے۔ ان کی اپنی اور مطلوبہ حکومت کا ثمرہ (outcome) دیکھئے: امریکی سینٹ کی دفاعی امور کی ”ہاو_¿س آرمڈ سروسز کمیٹی“ میں سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے چھ ماہ کی عمرانی حکومت کے متعلق کہا تھا: ”پاکستان نے گزشتہ چھ ماہ میں جو تعاون کیا ہے, اس سے قبل 18 برس میں اتنا دکھائی نہیں دیا“۔ (بی بی سی اردو 8 مارچ 2019ئ)۔ گویا برائی کی جڑ پرویز مشرف تک نے امریکہ سے وہ تعاون نہیں کیا جو عمران حکومت نے کیا۔

میرے مخاطبین میرے اپنے جیسے چار جماعتیں پڑھے لیکن باشعور لوگ ہیں۔ میری تحریریں پائل کی جھنکار پر نچنیوں کے ”نک دے کوکے“ سے بندھے اسیروں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، بھلے وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پابند صوم و صلوٰة کیوں نہ ہوں۔ شعور اور فہم اللہ کی وہ نعمت ہے جو لہو لہب اور لذات دنیا میں گم اہل دنیا کا رخ نہیں کرتی، لیکن آج کا موضوع حالیہ انتخابات سے حاصل وہ نعمت ہے جو جماعت اسلامی پر اتری ہے۔ یہ پہلے انتخابات ہیں، جن میں جماعت نے ملک بھر کے 90 فیصد حلقوں میں یہ جان کر حصہ لیا کہ ہار اس کا مقدر ہے۔ کیا یہ نعمت نہیں ہے کہ ملک بھر کے لاکھوں کارکنان خالصتا اپنے طبع زاد نظریے کی خاطر متحرک ہوئے، ورنہ کبھی وہ نو جماعتی اتحاد کا حصہ بن کر تحریک نظام مصطفی کی پینک کا شکار ہوئے تو کبھی ان بیچاروں کو ”میاں دے نعرے وجن گے“ کی دھمال پر وہ کچھ کرنا پڑا جو اس جماعت کے خمیر میں نہیں ہے۔

متعدد پریذائیڈنگ افسروں سے تبادلہ خیال کر کے اور خود گھوم پھر کر میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ حالیہ انتخابات بہت بڑی حد تک منصفانہ رہے۔ کہیں بدعنوانی کی شکایت ملی تو وہ مقامی سطح کی تھی۔ ریٹرننگ افسر کا ممکنہ کردار ہو سکتا ہے، لیکن یہ کہنا کہ الیکشن کمیشن یا مقتدرہ نے انتخابات میں مداخلت کی، سفید جھوٹ ہے۔ تحریک انصاف کے ایک اندھے ہمدرد پریذائیڈنگ افسر نے بتایا کہ کمیشن کے انتظامات بہت اچھے تھے۔ ماسوائے چند انتظامی امور کے، کالم میں تفصیل نہیں آ سکتی۔ امید ہے کہ کمیشن تمام افسروں کوشکایات و تجاویز فارم بھیج کر ان کے تجربات کی روشنی میں آئندہ انتظامات مزید بہتر بنائے گا۔ تحریک انصاف کے اسی ہمدرد نے بتایا کہ ہم پر سوائے اپنے کام کے کسی کی ہدایت یا دباﺅ ہرگز نہیں تھا۔ یہی تاثرات میرے بیٹے کے ہیں جو پریزائیڈنگ افسر تھا۔

جماعت اسلامی سے گزارش ہے کہ اس دفعہ اس نے جیسے خود کو انتخابی اتحاد سے الگ رکھ کر کارکنوں کو بیدار کر دیا، اسی طرح اب وہ احتجاجی اتحاد سے دور رہ کر انتخابی عذر داریوں کی سیاست کرے۔ مقتدرہ نے چار سال قبل چند فیصلے کیے ہیں اور وہ ان پر بحسن و خوبی عمل پیرا ہے۔ تحریک انصاف اگر یہ سمجھتی ہے کہ مغربی دنیا سے امداد آئے گی تو اسے یہ غلط فہمی دور کر لینا چاہیے۔ ریاستیں دوسروں کے انتخابات میں مداخلت کرتی رہتی ہیں، لیکن حکومت جس کسی کی بنے باہمی تعلقات، امور اور مسائل پر قائم ہوتے ہیں، نہ کہ کسی شخصیت کا اندھا ساتھ دے کر۔اس خطے میں شاہ ایران جیسے طاقت ور شخص سے بڑا امریکی حلیف کون تھا۔ معزولی پر امریکہ سمیت وہ بستی بستی پربت پربت گاتا جائے بنجارہ کی مثال تو بنا رہا، امریکہ نہ رہ سکا۔

اہل ِ مغرب کو اپنے میدان عمل میں پل پل کی خبر ہوتی ہے۔ ان کی دانش گاہیں خبروں کا تجزیہ کرتی ہیں تاکہ فیصلے جامع تر ہوں۔ 1977ءمیں ہم جماعت اسلامی والے نظام مصطفی کے نام پر اپنے بھولپن میں بین الاقوامی چال کا حصہ بن گئے۔ فیصلہ سازوں نے کابل میں سوویت داخلے سے قبل پاکستان میں اس بنیاد پرست سپہ سالار کا بندوبست کرنا تھا جو جہاد کے نام پر مزاحمت کرے پس مارشل لا ناگزیر تھا اور ہم اپنے بھولپن میں چال کا مہرہ بن گئے۔ کیا کسی کو یاد ہے کہ جہاد افغانستان کی اصطلاح پہلی مرتبہ صدر ریگن نے استعمال کی تھی جسے ان کے ذرائع ابلاغ نے بحسن خوبی پھیلایا اور سیاسی میدان میں جماعت کے ہاتھ عشرہ رائیگاں ہی آیا۔ پھر ہم ”میاں دے نعرے وجن گے“ پر ناچتے کیا، لڑکھڑاتے رہے۔ مقام شکر ہے کہ متحدہ مجلس عمل اور تحریک انصاف کی حکومتوں میں ہم محتاط ہو کر شامل ہوئے۔ سیاسی عمل میں یہ عام سی بات ہے۔ یہ بھی شکر ہے کہ حالیہ ”آزاد“ ارکان اسمبلی کو جماعت اسلامی نے پارلیمانی چھتری نہیں دی۔

سراج الحق صاحب کے انداز سیاست کا نتیجہ یہی کچھ نکلنا تھا۔اگلے مہینے ان کی امارت کا دورانیہ ویسے بھی ختم تھا۔ استعفیٰ دےکر ممکن ہے، وہ امیر کے انتخاب میں ارکان جماعت کی ہمدردیاں چاہ رہے ہوں۔ میری خواہش تھی کہ جماعتی شوریٰ متوقع امیروں میں بلوچستان کے مولانا ہدایت الرحمن کو بھی شامل کرتی۔ یوں ہمیں سیاسی فائدہ ہوتا، وہاں کی انتخابی سیاست میں ہماری جڑیں خوب گہری ہو جاتیں۔تاہم موجودہ فہرست میں نعیم الرحمن سے میری امیدیں وابستہ ہیں۔

اپنی 40 سالہ بوسیدہ تجویز دہرائے دیتا ہوں۔ اگلے انتخابات کے لئے جماعت ملک بھر کے تمام حلقوں میں ابھی امیدوار اتار دے۔ کوئی شخص 60 سال سے زیادہ کا نہ ہو۔ نوجوانوں کو ترجیح ہو، استثنائی صورتوں میں 65 سال سے اوپر کوئی نہ ہو۔ ماضی کے برعکس آج ہمیں بہتر وسائل دستیاب ہیں۔ لاکھوں تربیت یافتہ کارکن اور کس کے پاس ہیں؟ سکولوں کالجوں، ہسپتالوں، یتیم خانوں اور فلاحی اداروں کا ہمارا اپنا ریاستی نظام موجود ہے۔ کیا کسی اور کے پاس ان میں سے کوئی ایک چیز بھی ہے؟ لیکن اگر جماعت سیاسی فنکاروں کے احتجاجی کنبے سے مل گئی تو ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ مغربی ذرائع ابلاغ کی چیخم دھاڑ اور پاکستان میں سوشل میڈیا پر اس کی اشاعت سے کچھ تو اندازہ کر لیجئے۔ ہمارا انتخابی عمل شفاف، آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تھا۔ 1977ءکو مت دہرائیے۔ دوبارہ انتخابات ہو بھی گئے تو آج کے لمحہ موجود میں جماعت اسلامی کتنی اور کہاں مزید نشستیں حاصل کر سکے گی، یہ سوچ کر فیصلہ کیجئے. جماعتی شوریٰ نے تنہا پرواز کر کے انگڑائی لے لی ہے تو اب اُٹھ بیٹھیے، محض کروٹ نہ بدلیے، مستقبل اپنی گرفت میں ہوگا۔

مزید :

رائے -کالم -