حضرت میاں خدا بخشؒ

حضرت میاں خدا بخشؒ
حضرت میاں خدا بخشؒ

  

حضرت میاں خدا بخشؒ 25 مارچ1898ءبروز جمعتہ المبارک موضع خیر اللہ پور تحصیل نکودر ضلع جالندھر کے ایک آرائیں گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بزرگوں نے آپؒ کا نام خدا بخشؒ رکھا۔ آپ کے والد کا نام خیر محمد اور دادا کا نام الٰہی بخش تھا۔ بچپن ہی میں والدہ اور دادی وفات پاگئیں، تو نانی نے پرورش کی۔ بچپن ہی سے مسجد سے بہت لگاو¿ تھا۔ خوش طبع، کھیل کود سے نفرت اور غور و فکر کی عادت تھی۔عاجزی و انکساری بدرجہ اولیٰ تھی۔ کاشتکاری میں بڑوں کا ہاتھ بٹاتے اور جب فرصت ملتی تو بلاتاخیر مسجد چلے جاتے، نماز کی سختی سے پابندی کرتے۔ گورنمنٹ مڈل سکول شاہ کوٹ ضلع جالندھر سے ورنیکلر فائنل کا امتحان پاس کر کے 1922-23ءمیں گورنمنٹ نارمل سکول دھرم شالہ ضلع کانگڑہ سے نارمل کا امتحان پاس کیا۔ اپنے گاو¿ں خیر اللہ پور کی مسجد میں حضرت قبلہ میاں صاحب شرقپوریؒ کا ذکر اکثر سنا کرتے تھے، تب ہی آپؒ کے مرید ہونے کا جذبہ پیدا ہوا، لہٰذا ملازمت کے حصول کے لئے ڈسٹرکٹ انسپکٹر آف سکولز شیخوپورہ کو درخواست دی جو بہت جلد منظور ہوئی اور چک17 (یو سی) میں بطور اول مدرس تقرری کا حکم نامہ جاری ہُوا۔

یہ چک شرقپور شریف سے چودہ میل کے فاصلے پر ہے۔ وہاں پہنچتے ہی حضرت میاں صاحبؒ کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ آپؒ نے فرمایا: تم ماسٹر ہو، انگریز کے ملازم ہو، تمہیں یہ راہ کس نے دکھا دی ہے؟.... حیران و پریشان ہوئے کہ اتنی دُور سے حصول فیض کے لئے آیا، مگر آپ نے توجہ ہی نہیں فرمائی۔ یہ پہلی حاضری دو جولائی 1924ءکو ہوئی۔ خیال آیا کہ شرعی داڑھی نہیں ہے، کُرتا بھی نہیں، اِس لئے میاں صاحبؒ نے توجہ نہیں فرمائی۔ دوسری ملاقات سے پہلے داڑھی رکھ لی اور کرتا بھی پہن لیا، پھر حاضر ہوئے، پوچھا کہاں تک تعلیم ہے؟.... آپ اکثر تین سوال پوچھا کرتے: نام کیا ہے؟.... کہاں سے آئے ہو؟.... کیا کرتے ہو؟.... عرض کی جے وی تک، پوچھا کتنے سال لگے؟.... عرض کی، نوسال، پوچھا: قرآن کریم پڑھنے اور سمجھنے میں کتنے سال لگائے؟.... جواب ندارد، تاہم آپ نے شفقت فرمائی اور کچھ پڑھنے کے لئے بھی ارشاد فرمایا۔ اِس کے بعد آمد و رفت جاری رہی اور آپؒ کی توجہ اور مہربانی بڑھتی گئی۔

 26 اکتوبر 1926ءبروز اتوار بطور خاص طلب فرمایا، جب حاضر ہوئے جو شخص پہلے آپ کے پاس تھے، اُنہیں جلدی جلدی فارغ کر دیا۔ آپؒ کھڑے ہوگئے، بالا خانے کی طرف جانے والی سیڑھیوں کی طرف چل دئیے اور پہلی سیڑھی پر رُک گئے۔ میاں خدا بخشؒؒ بھی حضرت شیر ربانیؒ کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ حضرت شیر ربانیؒ نے اپنی انگشت شہادت اپنے مرید کے دل پر رکھ کر پوچھا: یہاں کیا؟.... عرض کی دل، آپ نے اپنی اُنگلی سے دل پر اللہ لکھا اور کچھ دبایا تو مرید یکایک تڑپنے پھڑکنے لگا۔ آپ نے فرمایا: ہوش کرو، ہوش سے کام لو، مرید نے مدہوشی کے عالم میں دیکھا کہ زمین و آسمان کے اندر ذرہ ذرہ اسم ذات اللہ، اللہ کا ورد کر رہا ہے۔ گویا زمین سے آسمان تک نور ہی نور ہے۔ ہوش آیا، تو آپؒ نے فرمایا: دیکھ لیا، یہ کیا تماشا ہے؟.... فرمایا: اب زیادہ آنے کی ضرورت نہیں، اِسی میں ابتداءہے اور اسی میں انتہا ہے۔ اپنے گاو¿ں اور علاقے میں قرآنی تعلیمات کو فروغ دو، بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دو، خواتین کو تمہاری زوجہ گھر پر تعلیم دے اور ہر ممکن طریقے سے دین اسلام کی تبلیغ میں ہمہ تن مشغول رہو، چنانچہ اُس مرید با صفا نے اپنے پیر و مرشد کے حکم کے مطابق پچاس سال سے زائد عرصے تک اِس علاقے میں دین کی خدمت کی۔ میاں خدا بخشؒؒ اُردو، فارسی اور عربی زبانوں سے خوب واقف تھے۔

اُنہوں نے 1924ءسے 1928ءتک آپؒ کی اقتدا میں بلاناغہ جمعتہ المبارک کی نماز ادا کی اور آپؒ کے خطبات کو قلمبند فرمایا: جو خطبات شیر ربانی کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔ بیش قیمت کتاب آپ کے صاحبزادے میاں محمد سعید شاد403 رحمن پورہ، کالونی لاہور سے مل سکتی ہے۔ آپؒ کے خطاب میں توحید و رسالت، تصوف، شریعت ، اسلامی معاشرت و تمدن اور ایمانیات و اخلاقیات ایسے مو¿ثر ارشادات و فرمودات ملیں گے، جنہیں پڑھ کر ایمان تازہ ہوتا ہے۔ آپؒ نے ساری زندگی قرآن کریم کے درس و تدریس میں گزاری، اِسی یاد کو تازہ رکھنے کے لئے آپ کی صالح اولاد نے زر کثیر صرف کر کے آپ کے مزار کے ساتھ تین منزلہ وسیع و عریض دینی درسگاہ قائم کی ہے تاکہ اُن کے جد اعلیٰ کی یاد قیامت تک قائم رہے۔ اِس درس گاہ میں بچوں کی کثیر تعداد حفظ کر رہی ہے اور ناظرہ قرآن کریم بھی پڑھ رہی ہے۔ بچے دینی اور دنیوی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں۔ آپ کا سالانہ عرس امسال 26 اور 27 جنوری2013ءکو ہوگا۔چک نمبر17/4c شیخوپورہ شرقپور روڈ پر نزد نگینہ ٹیکسٹائل ملز منایا جا رہا ہے جس میں جید علمائے کرام اور مشہور نعت خواں حضرات عوام کو مستفیض فرمائیں گے۔ ٭

مزید :

کالم -