قیادت مخلص ہو تو مسائل دنوں میں حل ہو سکتے ہیں

قیادت مخلص ہو تو مسائل دنوں میں حل ہو سکتے ہیں
قیادت مخلص ہو تو مسائل دنوں میں حل ہو سکتے ہیں

  



عمران خان دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ نوے روز میں بڑے بڑے مسئلے حل کر دیں گے۔ میاں نواز شریف ایسے دعوو¿ں کو لغو قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں : ....”ایسے دعوے کرکے سبز باغ دکھائے جا رہے ہیں ۔ کسی کے پاس جادو کی چھڑی نہیں کہ نوے دن میں مسائل حل کر دے“.... ہم خوش کن اور مایوس کن بیانات کے تجزئیے میں جائے بغیر پورے وثوق اور یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ میرے وطن اور اہلِ وطن کے مسائل کے حل اور خوشحال معاشرے کی تشکیل و ترویج کے لئے نوے روز بہت زیادہ ہیں ، بہت ہی زیادہ! آپ نے کوئی نیا ملک نہیں بنانا، نیا آئین چاہیے ،نہ اداروں کی تشکیل و ساخت کی ضرورت ہے۔ آپ کے پاس سب کچھ موجود ہے، صرف پُرعزم میرکارواں کی ضرورت ہے۔

آج ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے، دیگر تمام مسائل نے اِسی ایک مسئلے کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ کبھی کسی حکومت نے اِسے حل کرنے کی سنجیدگی سے کوشش ہی نہیں کی۔ آج ہمیں ہر ادارہ کرپٹ نظر آتا ہے، کوئی کم، کوئی زیادہ اور کوئی بہت زیادہ، حتیٰ کہ دفاعی ادارے بھی کرپشن کے الزامات سے مبرا نہیں۔ تازہ ترین رپورٹ میں آئی ایم ایف نے پاکستان میں ٹیکس ایمنسٹی کی مخالفت ضرور کی، تاہم یہ بھی کہا ہے کہ ....”پاکستان میں مہنگائی کی شرح انتہائی تشویش ناک ہے۔ حکومت کی شاہ خرچیوں نے مالیاتی خسارہ بڑھا دیا ہے۔ پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے خالص ذخائر 10 ارب ڈالر رہے ہیں ۔ مالی خسارہ مقررہ ہدف سے دو گنا بڑھ گیا۔ توانائی کے شعبے کا نقصان بھی مالی خسارے کا باعث ہے“.... شاہ خرچیوں سے معیشت کو اتنا فرق نہیں پڑتا، معیشت کا بیڑہ غرق اربوں اور کھربوں روپے کی کرپشن سے ہوتا ہے۔ نئے ٹیکس لگانے کی ضرورت ہے، نہ موجودہ ٹیکسوں اور یوٹیلٹی بلوں میں اضافے کی۔ لوگوں کو یقین ہو کہ اُن کا پیسہ قومی مفاد کے لئے صرف ہو گا تو ٹیکس چوری کا اپنے آپ خاتمہ ہو جائے گا۔

فی الوقت ہم قومی وسائل کی بات بھی نہیں کرتے، جن میں سونا اگلتی زمینیں، سونے، چاندی، ہیرے جواہرات کی کانیں اور دو ہزار کلو کے حساب سے بکنے والی مچھلیوں سے بھرپور سمندر بھی شامل ہےں۔ ہم صرف ایک کرپشن پر قابو پا کر اپنے تمام تر مسائل حل کر سکتے ہیں۔ جس طرح ہمارے ہاں وسائل کی کوئی انتہا نہیں،اِسی طرح قومی وسائل کو لوٹنے کا بھی کوئی حد و حساب نہیں ہے۔ ملک میں ہونے والی کرپشن کا اندازہ میڈیا میں آنے والی اِس خبر سے لگایا جا سکتا ہے ....”سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین طلحہ محمود نے کمیٹی اجلاس کے دوران کہا کہ ایف آئی اے میں کرپشن کرانے میں حکومت اور وزارت داخلہ خود ملوث ہےں“۔ اجلاس کے دوران کمیٹی کے رکن کرنل طاہر مشہدی کا کہنا تھا کہ”پاکستان میں ہر ماہ آٹھ سو ارب روپے کی کرپشن ہو رہی ہے اور ہمارے بجٹ کا ساٹھ فیصد حصہ بھی کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے“.... چیئرمین نیب ایڈمرل فصیح بخاری نے بھی اعتراف کیا ہے کہ:” پاکستان میں ہر ماہ آٹھ سو ارب کی کرپشن ہو رہی ہے اور ہمارے بجٹ کا ساٹھ فیصد حصہ بھی کرپشن کی نذر کیا جاتا ہے“۔

 چیئرمین نیب ایڈمرل فصیح بخاری نے بھی اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں روزانہ بارہ سے چودہ ارب روپے کی لوٹ مار ہو رہی ہے۔ ہماری معیشت کی زوال پذیری کا ایک سبب انرجی کرائسس کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چار سو ارب روپے کے سرکلر ڈیٹ کی وجہ سے بجلی کی پیداوار پاور پلانٹس کی صلاحیت کے مطابق حاصل نہیں کی جا رہی۔ اِن منصوبوں میں بھی اربوں روپے کی کرپشن کی کہانیاں قوم کو ازبر ہیں ۔ بہرحال آپ کا سرکلر ڈیٹ محض نصف ماہ کی کرپشن کے پیسے سے پورا ہو سکتا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے، جس کرپشن کی نشان دہی کی ہے، اُس پر قابو پاکر بتائیے، وہ کون سا مسئلہ ہے، جسے لاینحل کہا جاسکتا ہے؟ اگر پورے ملک کی کرپشن کو کنٹرول کر لیا جائے تو ملک کے تمام اندرونی و بیرونی قرضے اتر سکتے ہیں اور حکومت بجلی، گیس، پٹرول اور اجناس کی قیمتیں سبسڈی دے کر آج کے مقابلے میں نصف سے بھی کم سطح پر لا کر فکس کر سکتی ہے۔ یہ کوئی خیالی پلاو¿ نہیں، سو فیصد قابل عمل ہے۔ اِس کے لئے نوے دنوں کی بھی ضرورت نہیں، چند دن چاہئیں۔ محض قیادت کا پُرعزم ہونا ضروری ہے۔ پاکستان میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں، لیکن اُن کو آگے آنے کا موقع نہیں ملتا۔ عوام اُن کو آگے لائیں۔ آئندہ انتخابات اُن کو آگے لانے کا بہترین موقع ہے۔ ٭

مزید : کالم