عبدالقادر م±لّا کی شہادت: انصاف اور انسانیت کا قتل (2)

عبدالقادر م±لّا کی شہادت: انصاف اور انسانیت کا قتل (2)
عبدالقادر م±لّا کی شہادت: انصاف اور انسانیت کا قتل (2)
کیپشن: pro khursheed

  

اگر 1984ء سے 1996ء تک جماعت میں کوئی خرابی نہ تھی تو پھر اس سے کیسے انکار کیاجاسکتا ہے کہ 2009ء میں نئی سیاسی مصلحتوں کی خاطر یہ افسانہ تراشا گیا اور انھی افراد کو جن کے ساتھ مل کر جمہوریت کی بحالی کے لئے سیاسی جدوجہد کی جارہی تھی، اب سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

رہا معاملہ 1971ء کے واقعات کا، تو یہ ایک حقیقت ہے کہ تشدد کی سیاست کا آغاز عوامی لیگ نے کیا اور 1969ء میں اسلامی چھاترو شنگھو (اسلامی جمعیت طلبہ)کے رہنما عبدالمالک کو شہید کیا گیا۔ 1970ء میں پلٹن میدان میں جماعت اسلامی کو جلسہ نہ کرنے دیا گیا جس میں تقریر کرنے کے لئے مولانا مودودی ڈھاکہ پہنچ گئے تھے اور اس کے متعدد کارکنوں کو شہید اور بیسیوں کو زخمی کیا گیا۔ عوامی لیگ کے عسکری ونگ کے طور پر مکتی باہنی کا قیام مئی1970ءمیں کرنل عثمانی کے ہاتھوں ہوا۔ مارچ 1971ء سے 10 ماہ پہلے مکتی باہنی نے پاکستان کی فوج اور پولیس سے بغاوت کرنے والے عناصر کے ساتھ مل کر قتل و غارت اور ل±وٹ مار کا بازار گرم کیا، جس کے نتیجے میں 50ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ اسی طرح یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کی افواج نے جب 26مارچ 1971ء کو آپریشن شروع کیا تو اس دوران بھی زیادتیاں ہوئیں اور شرپسندوں کے ساتھ ساتھ بعض جگہوں پر بے گناہ افراد بھی ہلاک ہوئے۔ یوں بدقسمتی سے زیادتیاں دونوں طرف سے ہوئیں اور ان کا کچھ نہ کچھ ریکارڈ بھی ایک حد تک موجود ہے۔

بیسیوں کتابیں ہیں جن میں پاکستانی، بنگلہ دیشی اور دوسرے مصنفین نے ذاتی مشاہدے کی بنا پر اس الم ناک دورکا نقشہ کھینچا ہے۔ خود حمودالرحمن کمیشن نے بھی تینوں فریقوں، یعنی پاکستانی فوج اور اس کے معاونین، مکتی باہنی اور عوامی لیگ کے کارکن، اور خود بھارتی افواج کے خونیں اور شرم ناک کردار کو اپنے ریکارڈ کا حصہ بنایا ہے اور مناسب احتساب کی ضرورت کو بھی واضح کیا ہے۔ اس تکلیف دہ اور خون آشام دور کے بارے میں دو ہی طریقے ہوسکتے تھے: ایک بین الاقوامی سطح پر مکمل طور پر آزاد اور غیر جانب دار عدالت کے ذریعے احتساب، اور دوسرا غلطیوں کے مجموعی اعتراف کے ساتھ عفو و درگزر اور آیندہ کے حالات کی اصلاح کا راستہ۔

بنگلہ دیش کی مجیب الرحمن حکومت نے 1972ءمیں Collaborators Actکے تحت سول سوسائٹی کے افراد اور 1973ء کے انٹرنیشنل کرائمز ایکٹ کے تحت فوجی اور نیم فوجی ادارے سے متعلق افراد پر مقدمہ چلانے کا راستہ اختیار کیا۔ پھر فوجی دائرے میں 195افراد کو جنگی جرائم کا مجرم قرار دیا گیا۔ دوسری جانب سول سوسائٹی میں 37471لوگوں پر الزام عائد کیا گیا، لیکن ان میں سے 34623 کو ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے رہا کردیا گیا۔عملاً مقدمہ 2848افراد پر چلا، جن میں سے 720کو سزا ہوئی، اور 2ہزار سے زیادہ افراد کو بری کردیا گیا۔ واضح رہے کہ ان 37ہزار افراد میں جماعت اسلامی کا کوئی فرد شامل نہیں تھا اور جن افراد کو آج الزام دیا جا رہا ہے، ان میں سے پروفیسر غلام اعظم کے سوا تمام افراد اس وقت بنگلہ دیش میں موجود تھے اور کہیں چھپے ہوئے نہیں تھے۔

البدر: پس منظر اور جدوجہد:غلطی کا ارتکاب کسی بھی فرد سے ممکن ہے، تاہم یہ بات پوری ذمہ داری سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جماعت کے کارکنوں اور البدر کے رضاکاروں کا دامن ہرقسم کے فوج داری یا اخلاقی جرائم سے پاک ہے۔ انھوں نے دفاعی خدمات ضرور انجام دیں، لیکن کسی قتلِ ناحق یا بداخلاقی اور ل±وٹ مار میں وہ ہرگز ملوث نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ کل بھی اور آج بھی وہ شفاف عدالتی نظام میں اپنے آپ کو پیش کرنے کو تیار ہیں۔ جماعت اسلامی نے کسی سے بھی رحم کی درخواست نہیں کی۔ جب تک وہ حصہ پاکستان تھا، اس وقت تک جماعت اسلامی کے کارکنوں نے دینی، اخلاقی، قومی اور قانونی فریضہ سمجھ کر مشرقی پاکستان میں امن و امان کی بحالی کے لئے جدوجہد کی اور بھارتی مداخلت کاروں سے وطن کو بچانے کے لئے دفاعی پوزیشن اختیار کی۔ جب بنگلہ دیش کو قبول کرلیا تو اس کے ساتھ وفاداری کا معاملہ کیا۔ لیکن یہ صریح ظلم ہے کہ43سال کے بعد ان کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کرکے انصاف کا کھلے بندوں خون کیا جارہا ہے اور سیاسی طور پر محکوم ٹربیونل کے ذریعے ان کو سزائیں دلوائی جارہی ہیں۔ ہمارا احتجاج انصاف اور انسانیت کے اس قتل کے خلاف ہے۔

’البدر‘ کے نوجوانوں کا کیا کردار تھا؟اس بارے میں کتاب البدر (1985ء)کو پڑھا جاسکتا ہے۔ اسی ضمن میں روزنامہ نئی بات میں شائع ہونے والے آصف محمود صاحب کے مضمون: ’یہاں بھی غدار، وہاں بھی غدار‘ کا ایک اقتباس پیش ہے۔ واضح رہے کہ صاحبِ مضمون کا کوئی تعلق جماعت اسلامی سے نہیں اور نہ میجر ریاض حسین ملک کا کوئی تعلق جماعت اسلامی سے تھا:

کیا ہم جانتے ہیں کہ البدر کیا تھی؟ یہ تنظیم [بلوچ رجمنٹ کے]میجر ریاض حسین ملک نے بنائی۔ میجر سے میرا تعلق دوعشروں پر محیط ہے۔ میجر ریاض بتاتے ہیں کہ [میمن سنگھ] میں فوج کی نفری کم تھی اور ہمارے لئے ممکن نہیں رہا تھا کہ ہم پ±لوں اور راستوں کی نگرانی کرسکیں۔ ایک روز کچھ بنگالی نوجوان ان کے پاس آئے اور کہا کہ دفاعِ وطن کے لئے آپ کے کچھ کام آسکیں تو حاضر ہیں۔ ان نوجوانوں کا تعلق اسلامی جمعیت طلبہ سے تھا۔ میجر ریاض نے انھیں کہا: ”ٹھیک ہے آپ فلاں فلاں پ±لوں پر پہرا دیجیے“۔ ایک نوجوان نے کہا: ”میجرصاحب ہمیں اپنی حفاظت کے لئے بھی کچھ دیں“۔ یہ وہ دن تھے جب ہائی کمان کی طرف سے حکم آچکا تھا کہ تمام بنگالیوں کو غیرمسلح کردو۔ میجر ریاض کی آج بھی آہیں نکل جاتی ہیں جب وہ بتاتے ہیں کہ یہ سن کر وہ اندر گئے اور سورہ یٰسین کا ایک نسخہ اس نوجوان کو پکڑا دیا کہ اپنی حفاظت کے لئے میں تمھیں اس کے سوا کچھ نہیں دے سکتا۔ وہ نوجوان چلے گئے، گھر نہیں بلکہ میجر کے دیے مشن پر۔ بانس کے ڈنڈے انھوں نے بنالئے اور ندی نالوں اور پ±لوں پر جہاں سے مکتی باہنی اسلحہ لاتی تھی، پہرے شروع کر دیے۔ میجرریاض بتاتے ہیں کہ اس کے بعد انھوں نے اسلحہ نہیں مانگا، لیکن میجرکے مَن کی دنیا ا±جڑچکی تھی۔ فوجی ضابطے انھیں عذاب لگ رہے تھے۔ ایک روز30کے قریب نوجوان ان کے پاس آئے کہ انھیں بھی اس رضاکار دستے میں شامل کرلیں۔ ان میں ایک بچہ بھی تھا۔ میجر نے اسے کہا: بیٹا! آپ بہت چھوٹے ہو واپس چلے جاو¿۔ وہ بچہ اپنے پنجوں پر کھڑا ہوگیااور کہنے لگا: میجرشاب ہن تو بڑا ہوئے گاشے‘ (میجرصاحب! اب تو بڑا ہوگیا ہوں)۔ میجر تڑپ ا±ٹھے، انھیں معوذ اور معاذ یاد آگئے، جن میں ایک نے نبی کریم کی خدمت اقدس میں ایسے ہی ایڑیاں ا±ٹھا کر ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ اتنے چھوٹے بھی نہیں کہ جہاد میں حصہ نہ لے سکیں۔ میجرنے اس بچے کو سینے سے لگالیا۔ ہائی کمان کا حکم پامال کرتے ہوئے ان جوانوں کو مسلح کردیا اور جنگِ بدر کی نسبت سے اس رضاکاردستے کو ’البدر‘ کا نام دے دیا۔ کئی ہفتے بعد ہائی کمان نے ان سے پوچھا کہ ان کے علاقے میں اتنا امن کیسے ممکن ہوا، تو میجر نے یہ راز فاش کیا کہ میں نے آپ کی حکم عدولی کی اور میں نے تمام بنگالیوں پر عدم اعتماد نہیں کیا۔ میں نے بنگالیوں کو مسلح کر کے بھارت اور مکتی باہنی کے مقابلے میں کھڑا کردیا ہے۔ تب یہ رضاکار تنظیم پورے بنگال میں قائم کردی گئی۔

ایک روز مَیں نے میجرسے پوچھا کہ ہم میں عمروں کے فرق کے باوجود تکلف باقی نہیں ہے۔ ’البدر‘ نے ظلم تو بہت کیے ہوں گے اپنے سیاسی مخالفین پر۔ یہ سوال سن کر میجر کو ایک چپ سی لگ گئی۔ کہنے لگے: آصف تم میری بات کا یقین کرو گے؟ میں نے کہا: میجرصاحب آپ سے 25سال کا تعلق ہے، میرا نہیں خیال کہ آپ جھوٹ بولتے ہیں۔ میجر نے کہا: میں اپنے اللہ کو حاضرو ناظر جان کر کہتا ہوں میں نے ’البدر‘ کے لوگوں سے زیادہ قیمتی اور نیک لڑکے نہیں دیکھے، یہ لڑکے اللہ کا معجزہ تھے۔ میرے علم میں کوئی ایک واقعہ بھی نہیں کہ انھوں نے کسی سے ذاتی انتقام لیا ہو۔ مجھے تو جب یہ پتا چلا کہ ان کی فکری تربیت مودودی نام کے ایک آدمی نے کی ہے تو اشتیاق پیدا ہوا کہ دیکھوں یہ مودودی کون ہے؟ برسوں بعد جب میں بھارت کی قید سے رہا ہوا تو میں اپنے گھر نہیں گیا، میں سیدھا اچھرہ گیا، مودودی صاحب کے گھر، مَیں دیکھنا چاہتا تھا وہ شخص کیسا ہے جس نے ایسے باکرداراور عظیم نوجوان تیار کیے۔

آج یہی ’البدر‘ پھانسی پر لٹک رہی ہے:

ہم تحدیث نعمت کے طور پر یہ کہتے ہیں کہ ’البدر‘ کوئی کرایے کی فوج (mercenary) نہیں تھی، بلکہ اللہ کے دین کی خدمت کرنے والے مجاہدین کا گروہ تھے، جو صرف اللہ سے اپنے اجر کے طالب تھے اور جو ایک مقدس عہد کر کے اپنے کو اس خدمت کے لئے وقف کرتے تھے۔ ہرکارکن جو حلف لیتا تھا، وہ اس کے جذبات و احساسات، اس کے عزائم اور اس کے ضابطء اخلاق کا آئینہ ہے۔ ( جاری ہے)

مزید :

کالم -