نیشنل ایکشن پلان

نیشنل ایکشن پلان
نیشنل ایکشن پلان

  



آرمی پبلک سکول پشاور میں بچوں کے بہیمانہ قتل کو قوم کبھی نہیں بھلا سکے گی۔ سانحۂ پشاور کے بعد قومی سیاسی اور عسکری قیادت ایک ہی صفحہ پر ہیں۔دہشت گردی کے خلاف اس مثالی اتحاد کو دیکھتے ہوئے یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ دہشت گردوں کے دن گنے جا چکے ہیں۔ وطنِ عزیز سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے لئے سیاسی اور عسکری قیادت کو پوری قوم کی مکمل حمایت حاصل ہے۔وزیراعظم یہ بات بار بار کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر پاکستان محفوظ نہیں ہو سکتا۔ فوجی عدالتوں کا قیام اس معاملے میں ایک اہم پیشرفت ہے۔ فوجی عدالتوں کا قیام موجودہ حالات کا تقاضا ہے، آل پارٹیز کانفرنس میں کئے گئے فیصلے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ قوم دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ نے کے لئے سیسہ پلائی دیوار بن چکی ہے اور تمام ریاستی ادارے قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لئے مستعد ہیں۔ دہشت گردی کے

خلاف جنگ کے لئے قومی قیادت اور پوری قوم میں اتفاق رائے قائم رکھنا اشد ضروری ہے،جو عناصر فوجی عدالتوں پر تنقید کر رہے ہیں، ممکن حد تک ان کے خدشات دور کرنا بھی ضروری ہے۔ دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے فوجی عدالتوں کا قیام وقت کا تقاضا ہے، لہٰذا جو عناصر فوجی عدالتوں کی مخالفت کر رہے ہیں وہ یہ بات نظر انداز کر رہے ہیں کہ فوجی عدالتوں کے قیام سے مُلک میں امن و امان قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ملکی استحکام کے ساتھ ساتھ جمہوری استحکام میں بھی مدد ملے گی۔اس سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ہے ان عدالتوں میں دہشت گردوں کے خلاف کیسوں کی سماعت کی جائے گی۔ دہشت گردی کے خلاف مکمل کامیابی کے لئے پوری قوم کو کردار ادا کرنا ہو گا، لہٰذا حکومت کو ان لوگوں کا تحفظ یقینی بنانا ہو گا، دو دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مُلک میں موجود بدامنی کی ایک وجہ افغان مہاجرین بھی ہیں، لہٰذا انہیں ممکن حد تک کیمپوں تک محدود رکھا جائے اور جلد از جلد ان کو وطن واپس بھیجنے کا بندوبست کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی ڈی پیز

کے گھروں کی فوری مرمت کر کے جہاں جہاں تعمیرات کی ضرورت ہے، فوری طور پر کام شروع کر دیا جائے تاکہ ان کی جلد از جلد باعزت واپسی ممکن ہو سکے۔ آئی ڈی پیز کی واپسی کے دوران اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ان میں کوئی دہشت گرد شامل نہ ہو۔ دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے صوبائی حکومتوں کو بھی اہم کردار ادا کرنا ہو گا اور وفاقی حکومت کے ساتھ ایک مربوط حکمت عملی پر عمل کرنا ہو گا۔ سیاسی و عسکری قیادت کا پارلیمنٹ کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف پوری قوم کو اعتماد میں لینا دانشمندانہ اقدام ہے،جس سے قیام امن کی کوششوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ قوم یقیناًملکی بقاء اور خوشحالی کے لئے دُعا گو ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے ہر وہ قدم اٹھایا جائے، جس سے مُلک کے خلاف جنگ کرنے والوں کا قلع قمع ہو سکے۔ قوم کو دہشت گردی کے خلاف حکومت کا بہر صورت ساتھ دینا ہو گا تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی جا سکے۔دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ ہارنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،کیونکہ ہمارے پاس یہ جنگ جیتنے کے سوا کوئی دوسرا آپشن ہی نہیں ہے۔ مُلک کی سلامتی اور خوشحالی اِسی میں ہے۔

مزید : کالم