شمالی ہندستان کو جگمگ کرنے والی ریاست کشمیرکے 3لاکھ کنبے بجلی سے محروم

شمالی ہندستان کو جگمگ کرنے والی ریاست کشمیرکے 3لاکھ کنبے بجلی سے محروم

  

  • سری نگر(کے پی آئی)شمالی ہندستان کو اپنے بے پناہ آبی وسائل کی وجہ سے جگمگ کرنے والی ریاست جموں وکشمیر میں 3لاکھ کنبے ابھی بھی برقی رو سے محروم ہیں اور وہ آج بھی چوب چراغ جلا کر اپنی راتوں کو روشن کرتے ہیں۔حالانکہ کشمیر میں اب تک جتنے بھی بجلی پروجیکٹ بنے یا بنائے جارہے ہیں تو ہر نئی حکومت کشمیریوں کو بجلی میں اضافہ ہونے کے بعد 24گھنٹے بجلی فراہم کرنے کی دعوے کر تی ہے تاہم لوگ ہنوز بجلی کے لئے ترس رہے ہیں ۔ریاست جموں وکشمیر میں اس وقت کل ملا کر قریب 8بجلی کے بڑے پروجیکٹ قائم ہیں جن میں سے کچھ ایک ناکارہ ہیں لیکن کچھ ایک جو بجلی پیدا کرتے ہیں وہ ملک کی بیرونی ریاستوں کو فراہم کرتے ہیں اور اپنی ریاست کی اگر بات کریں تو یہاں کے 3لاکھ کنبے بجلی سے محروم ہیں اور وہ آج بھی چوب چرغ جلا کر اپنی راتوں کو روشن کردیتے ہیں۔سرکاری ذرائع سے کشمیر عظمی کو معلوم ہوا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر آج بھی 296344 کنبے بجلی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ اعداد وشمار کے مطابق کشمیر وادی کے پلوامہ میں 5227،، گاندربل میں 4427، بانڈی پورہ میں 9569،، کپوارہ میں 32577، اننت ناگ میں 7785، کولگام میں 6686، شوپیاں میں 10715، بارہمولہ میں8256،بڈگام میں 4694، لہہ میں 7694اورکرگل میں11549کنبے بجلی کے بغیرہیں جبکہ جموں میں 57986، کٹھوعہ میں 23503، سانبہ میں 19659،پونچھ میں 16439، راجوری میں 32966، ریاسی میں 5553، ادہمپور2183، رام بن 6538جبکہ ڈوڈہ اور کشتوار میں 22345کنبے بجلی سے محروم ہیں۔

    مجموعی طور پرصوبہ کشمیر میں 109175اور جموں صوبہ میں 187169کنبے بجلی سے محروم ہیں۔وادی میں سب سے زیادہ کنبے جنہیں بجلی نہیں ہے، وہ کپوارہ ضلع سے تعلق رکھتے ہیں جہاں 32577کنبے برقی رو سے محروم ہیں جبکہ وادی کے گاندربل ضلع میں سب سے کم یعنی4427کنبوں کو بجلی نہیں ہے۔ جموں ضلع میں 57986افراد بجلی سے محروم ہیں اور سب سے کم کنبے اودھمپور میں ہیں جہاں 2183کنبے بجلی سے اب بھی محروم ہیں۔ کشمیر وادی کا کپوارہ ضلع جہاں پر سب سے زیادہ دیہات بجلی سے محروم ہیں، ان میں کیرن ، بڈنمل ، جمگنڈ ، درنگیاڑی ، مژھل کے متعد دیہات کے علاوہ کرناہ کے کڑہامہ ، اوربٹلاں ،ہندوارہ منی گاہ کی 7پہاڑی بستیاں بھی بجلی سپلائی سے محروم ہیں ۔ سوپور میں یمر زل واڑی ،بانڈی پورہ کے وون اٹھوتو ،اور ملن گام کی اوپری پہاڑی بستیاں ،بڈگام کے حلقہ انتخاب بیروہ میں واقع نوروز بابا ، ڈار محلہ اور لون محلہ بستی ، کھانڈے پورہ کے کوٹھہ بل کی بستی جبکہ حلقہ انتخاب خانصاحب کا براس نامی بستی قابل ذکر ہیں جہاں برقی رو کی محرومی سے عوام نالاں ہیں ۔اسی طرح ضلع کشتواڑ کے مڑوہ ، واڑون ، دچھن، پاڈر اور مچیل کی دور دراز علاقوں کی قریب 40ہزار آبادی آج کے اس جدید دور میں بھی بجلی سے محروم ہے ۔جبکہ ڈوڈہ کے بنیچہ ،گھٹی، ہڈل اور جوگاسر گاں بھی ایسے علاقے ہیں جہاں کے لوگوں کو آزادی کے بعد سے اب تک بجلی سے محروم رکھا گیا ہے ۔اسی طرح پونچھ اور راجوری کی متعد پہاڑی بستیاں بجلی سے محروم ہیں ۔ پہاڑی علاقوں کے لوگوں کے مطابق ان تمام علاقوں کو روشن کرنے کیلئے کروڑوں روپے مرکز کی جانب سے فراہم کئے جاتے ہیں اور کئی سال قبل سولر لائٹوں کی بڑے پیمانے پر تقسیم کاری بھی شروع کی گئی تاکہ ان بستیوں کے لوگ بھی اپنے گھروں کو روشن کر پائیں لیکن برسوں پہلے نصب کی گئیں یہ سولر لائٹس کئی ایک علاقوں میں بے کار پڑی ہیں کیونکہ بہت سال پہلے نصب کی گئی ان سولر لائٹس کی بیٹریاں زنگ آلود ہ ہوکر ناکارہ ہو گئی ہیں جبکہ جن دیہات میں بجلی کے جن سیٹ فراہم کئے گئے ہیں وہ کبھی کبھار ہی لوگوں کو بجلی فراہم کر پاتے ہیں کیونکہ ان میں ڈالنے کیلئے ایندھن تک محکمہ کے پاس دستیاب نہیں ہے اور اس طرح برقی رو کی پیداوار میں خود کفیل ہونے کے باوجود بھی ریاست کے تین لاکھ کنبے بجلی سے محروم ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -