عدم مشاورت کی پالیسی نے اقتصادی راہداری منصوبہ کو متنازعہ بنا ڈالا

عدم مشاورت کی پالیسی نے اقتصادی راہداری منصوبہ کو متنازعہ بنا ڈالا

  

لاہور (کامرس رپورٹر) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے غیر ضروری رازداری اور مشاورت کے عمل کو نظر انداز کرکے یکطرفہ فیصلے مسلط کرنے کی پالیسی کی وجہ سے چھوٹے صوبوں میں ملکی تقدیر بدلنے والے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی مخالفت بڑھ رہی ہے ۔مرکزی حکومت تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے ورنہ یہ منصوبہ مزید متنازعہ ہو کر ناقابل عمل ہو سکتا ہے جو پاکستان کی بدقسمتی ہو گی۔شروع میں اس منصوبہ کوملک بھر میں غیر معمولی عوامی تائید حاصل بھی مگر صوبوں کو اعتماد میں نہ لینے کے سبب صورتحال بدل رہی ہے جس کا ملک متحمل نہیں ہو سکتا۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ جس منصوبہ کی تفصیلات سے وفاقی وزراء ، تمام صوبائی پلاننگ کمیشن اور مرکزی بینک کے سربراہ تک لاعلم ہو ں اس پر شکوک و شبہات کا ہونا قدرتی امر ہے ۔دیگر ممالک میں راہداری تکمیل کے مختلف مراحل میں ہے جبکہ پاکستان میں شفافیت کی کمی کی وجہ سے اس پر اعتراضات بڑھتے جا رہے ہیں جبکہ مرکزی حکومت صوبوں کے تحفظات ختم کرنے کیلئے تشفی بخش اقدامات نہیں کر رہی جس سے چینی حکومت، چینی کمپنیوں اورملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے جبکہ دنیا بھر میں منفی امیج ابھر رہا ہے۔صوبے اور گلگت بلتستان بھی پاکستان کا حصہ ہیں جنکے تحفظات دور کرنے کیلئے زبانی جمع خرچ اور غیر تسلی بخش اقدامات سے بگاڑ مزید بڑھ رہا ہے۔پاکستان کے ہر باشندے کو فائدہ پہنچانے والے اس منصوبہ کی بروقت تکمیل کیلئے اسے سیاست سے بچانے اور غیر متنازعہ رکھنے کی ذمہ داری مرکزی حکومت پر عائد ہوتی ہے جسے ادا کیا جائے۔

غیر ضروری رازداری نے بعض عناصر کو سوشل میڈیا پر منصوبے کے جعلی نقشے اور جھوٹی خبریں پھیلانے کا موقع فراہم کیا جس سے مرکز اور صوبوں کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے جس کا سدباب کیا جائے۔ملکی مفادات کو قربان کر کے اپنے مفادات کی آبیاری کرنے والے سیاستدانوں کو کالا باغ ڈیم جیسے اہم ترین منصوبے کی تباہی سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

کامرس -