تلخ ماضی کو فراموش کیا جا رہا ہے اور۔۔۔!

تلخ ماضی کو فراموش کیا جا رہا ہے اور۔۔۔!
 تلخ ماضی کو فراموش کیا جا رہا ہے اور۔۔۔!

  

قارئین کو یاد ہو گا کہ گزشتہ برس کی آخری سہ ماہی میں پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیات نے امریکہ کا دورہ کیا تھا۔ میڈیا پر دورے کے مقاصد کچھ اور بتائے گئے تھے لیکن اصل معاملہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کا تھا۔ امریکہ چاہتا تھا کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو بھارت کے مقابلے میں کمزور کر دیا جائے۔ اسے تو اپنی برتر انٹیلی جنس کے طفیل معلوم تھاکہ پاکستان آج کل اپنا جوہری ترکش،بھارت کے مقابلے میں مقدار اور معیار کے اعتبار سے بہتر کر رہا ہے۔ ایک تو روائتی جوہری ہتھیاروں کی پاکستانی تعداد، بھارت سے زیادہ ہو چکی ہے اور دوسرے پاکستان ایسے چھوٹے ایٹم بم بنا رہا ہے جو 1984ء سے لے کر2010ء تک بنائے جانے والے روائتی ایٹمی بموں سے سائز میں چھوٹے لیکن قوتِ تاثیر میں بڑے ہیں۔

ان چھوٹے سائز کے ایٹمی بموں کی ہلاکت آفرینی کا سکیل بمقابلہ بڑے ایٹمی بموں کے زیادہ ہے۔وجہ یہ ہے کہ ان میں ایسے الیکٹرانک آلات نصب کئے جا رہے ہیں جن میں ایک ٹارگٹ کے علاوہ دو تین بلکہ چار مختلف ٹارگٹ منتخب کرنے اور ان پر زیرو ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ بھارت بھی اگرچہ ابھی اس مخصوص فیلڈ میں پاکستان سے پیچھے ہے لیکن کوشش میں ہے کہ مقدار و معیار کی تولید (Production) میں پاکستان سے آگے نکل جائے۔۔۔۔ فی الحال پاکستان کو اس فیلڈ میں برتری حاصل ہے۔

ایک سے زیادہ ٹارگٹ منتخب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان کو فائر کرنا پڑے تو اثنائے سفر،ان کو ایک سے دوسرے ٹارگٹ پر شفٹ کرنے کی آپشنز موجود ہوں۔مثال کے طور پر اگر ایک ایٹم بم کو دہلی پر پھینکا گیا ہے لیکن کسی وجہ سے دہلی پر پھینکنا بے فائدہ ہے تو اس کو اثنائے سفر ہی میں ممبئی،کلکتہ یا مدراس (چنائی) کی طرف موڑا(Divert) جا سکتا ہے۔۔۔۔پہلے والے جوہری وار ہیڈز میں یہ صلاحیت موجود نہ تھی۔

پاکستانی سول اور ملٹری قیادت کے ان امریکی دوروں کی جو خبریں لیک(Leak) ہو کر پبلک ہو گئی تھیں ان کے مطابق پاکستان کا موقف تھا کہ انڈیا کو روائتی ہتھیاروں کے باب میں پاکستان پر واضح برتری حاصل ہے۔ بھارت کے وزیر دفاع اور آرمی چیف گاہے بگاہے ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں جو پاکستان کے لئے اپنی بقا کا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔ ان میں کولڈ سٹارٹ اور سرجیکل سٹرائیک والی بھارتی بڑھکیں اب اتنی عام ہو چکی ہیں کہ ہر پاکستانی کے ذخیرۂ لغت میں آ چکی ہیں۔۔۔ ایسی صورت حال میں پاکستان کے پاس ’’تخت یا تختہ‘‘ کی آپشن کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ بالغرضِ محال اگر جنگ ہو جاتی ہے اور کسی سٹیج پر جا کر پاکستانی روایتی ہتھیار، بھارتی روایتی ہتھیاروں سے مات کھا جاتے ہیں یا ختم ہو جاتے ہیںیا کسی بھی وجہ سے دوبارہ Replenishنہیں کئے جا سکتے تو ’’ایٹمی آپشن‘‘ کا سوچا جا سکتا ہے۔ اِسی سبب پاکستان نے جوہری حملے میں پہل نہ کرنے کے معاہدے پر دستخط نہیں کئے۔

ان چھوٹے ایٹم بموں سے ایک اندیشہ یہ بھی ہے کہ چونکہ ان کا دائرہ ضرب کم تر ہو گا، جوہری ژیلڈ (Yield) کمتر ہو گی اور دشمن پر گرانے کے لئے ٹرانسپورٹیشن کی مشکلات کمتر ہوں گی اس لئے ان کے استعمال کا احتمال بڑھ جائے گا ۔ پاکستان میں جس کسی کے پاس بھی ’’بزن‘‘کی کلید ہو گی، وہ ان چھوٹے ہتھیاروں کے استعمال کے لئے جلد آمادۂ عمل ہو جائے گا یا اس کا زیادہ رجحان اس طرف ہو جائے گا۔۔۔ اور یہ بات اور یہ سوچ انتہائی خطرناک ہو گی کیونکہ ایک بار اگر چھوٹے ایٹم بم کے استعمال کی خبر بریک ہو گئی(جو ہونی شدنی ہو گی) تو دشمن بڑا ایٹم بم استعمال کرنے کی سوچے گا اور اس طرح چھوٹے بڑے بم کی تمیز اُٹھ جائے گی اور پھر دما دم مست قلندر تک نوبت آ جائے گی۔

شائد یہی وجہ ہے کہ نہ تو بھارت اور نہ ہی پاکستان نے ایٹم حملے سے بچاؤ کی وہ تدابیر اختیار کی ہیں جو چین،جنوبی کوریا اور امریکہ کے شہروں اور ممکنہ اہداف نے آج سے کئی برس پہلے اختیار کئے رکھی تھیں۔ چین نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر اس پر سوویت یونین یا امریکہ کی طرف سے جوہری حملہ کیا گیا تو اگر اس کی آدھی آبادی بھی اس حملے میں تلف ہو جائے تو وہ آدھی تو بچ جائے گی جو زیر زمین سرنگوں (Tunnels) میں حملے سے پہلے بھیج دی جائے گی۔ماضی کے ان برسوں میں مشرقی اور وسطی چین کے تمام صوبوں میں جوہری بم پروف خندقیں اور سرنگیں کھودنے کا ایک وسیع پروگرام عمل میں لایا گیا تھا۔ امریکہ میں بھی اس قسم کے اقدامات روبہ عمل لائے جاتے رہے ہیں۔ لیکن چونکہ امریکہ کے پاس کسی روسی یا چینی ایٹمی حملے کے لمحۂ آغاز سے لے کر اس لمحے تک کہ جب کوئی نیو کلیئر وار ہیڈ امریکی سرزمین پر آ گر ے چند منٹوں کا وقت میسر ہو گا۔ اس لئے امریکہ کی ساری کی ساری عسکری اور سویلین کمانڈ کو جوہری حملے کے خلاف احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا حکم دیا گیا تھا جس میں متبادل قیادت کی تفاصیل بھی طے تھیں۔ ٹاپ کی امریکی سیاسی قیادت (مع کابینہ) اگر اس حملے میں صفحہ ہستی سے مٹ جاتی تو شیڈو کیبنٹ کو بچانے اور اس کے ذمہ جوابی جوہری وار (Second Strike) کرنے کے انتظامات موجود رہتے۔

لیکن جہاں تک پاکستان اور بھارت کا تعلق ہے تو ان کے درمیان کوئی ایسا زیادہ جغرافیائی فاصلہ موجود نہیں جو واشنگٹن، ماسکو اور بیجنگ کے درمیان ہے۔ اس لئے انڈو پاک نیو کلیئر وار کا منظر نامہ (Scenerio) زیادہ فوری، نازک، اہم، پیچیدہ، خطرناک اور ہیبت آفریں ہے!۔۔۔ مستقبل کا یہی وحشت ناک منظر نامہ تھا جسے صدر اوباما نے وزیراعظم نوازشریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے سامنے رکھا تھا اور ان کے Comments چاہے تھے۔ اور جہاں تک میری معلومات ہیں، پاکستان نے اس کا یہ حل پیش کیا تھا کہ ان دونوں ملکوں (پاکستان اور بھارت) میں جو اساسی، کلیدی اور اہم ترین مسائل ہیں ان کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ جھگڑے کی اصل جڑ (Bone of contention) کاٹی جا سکے۔ امریکہ کو اب یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ آئندہ چند برسوں میں جب کاشغر۔ گوادر مواصلاتی نیٹ ورک فنکشنل ہو جائے گا تو پاکستان کی دفاعی صلاحیت مزید مستحکم اور مضبوط ہو جائے گی۔ پاکستان آج نہ صرف اپنا مین بیٹل ٹینک (MBT) خود تیار کر رہا ہے بلکہ بکتر بند گاڑیاں بھی بنا رہا ہے، لڑاکا طیاروں کی اگلی نسل پروڈیوس ہو رہی ہے اور ایسی آبدوزیں بنائی جا رہی ہیں جن میں ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کی گنجائش بھی موجود ہو گی۔ یہ روائتی ترکش جب ایٹمی ترکش کے ساتھ ملایا جائے گا تو پاکستان، بھارت کے لئے ایسا تر نوالہ نہیں ہوگا جسے وہ آسانی سے نگل سکے۔ اسی لئے چند روز پیشتر ایک سابق پاکستانی صدر اور آرمی چیف (پرویز مشرف) نے یہ بات کہی تھی: ’’اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف کسی من مانی کی جرأت کی تو پاکستان بھارت کو وہاں ضرب لگائے گا جہاں اس کو زیادہ درد ہو گا‘‘۔۔۔۔ جنرل(ر)پرویز مشرف کے اس جملے کا ترجمہ آپ جو بھی کریں لیکن اس کا مطلب پاکستان کی مسلح افواج اور غیر مسلح لیکن پُرعزم عوام کے دِل کی آواز ہے۔۔۔ یہی سبب ہے کہ امریکہ نے پاکستان اور بھارت کی قیادت کو ایک صفحے پر لانے کا مشورہ نہیں بلکہ نرم الفاظ میں ہدایت (Direction)دی ہے۔ یہ نرم ڈائریکشن پاکستان کے لئے کم لیکن بھارت کے لئے زیادہ Painful ہو رہی ہے!

اجیت دوول اور ناصر جنجوعہ کی جو ملاقاتیں منظر عام پر آئی ہیں وہ اُن ملاقاتوں سے کہیں کم تعداد میں ہیں جو منظر عام/ میڈیا پر نہیں لائی گئیں۔ وگرنہ بہاولپورمیں جیش محمد کے مولانا اظہر کو گرفتار کرنا اور دہلی میں پی آئی اے کے دفتر پر حملے کرنے والے شیوسینا کے سربراہ شیو گپتا کو گرفتار کرنا کہاں عمل میں لایا جا سکتا تھا؟۔۔۔ اور امریکہ، چین، پاکستان اور افغانستان میں جو چار ملکی کانفرنس آج ہو رہی ہے وہ کہاں ہو سکتی تھی؟۔۔۔ آج نوازشریف اور جنرل راحیل شریف ایران اور سعودی عرب کا جو دورہ کر رہے ہیں وہ کیسے ممکن تھا؟۔۔۔ اِنہی ایام میں چینی صدر کا ایران اور سعودی عرب کا دورہ کیا معنی رکھتا ہے؟ (مصر کا دورہ تو صرف ’’اتمامِ حجت‘‘ کے لئے پروگرام میں شامل کیا گیا ہے)۔۔۔یہ تمام علامات اس بات کا اشارہ دے رہی ہیں کہ جنوبی ایشیا میں تلخ ماضی کو فراموش کیا جا رہا ہے اور شیریں مستقبل کا سامان کیا جا رہا ہے!

مزید :

کالم -