ضرر رساں کیڑ وں پر کنٹرول سے کپاس کی فصل محفوظ ہوجائے گی

ضرر رساں کیڑ وں پر کنٹرول سے کپاس کی فصل محفوظ ہوجائے گی

  

لاہور(اے پی پی) زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ کاشتکارکپاس کے تمام قسم کے ضرر رساں کیڑ وں کو فصل کی باقیات، ٹینڈوں اور بچے کھچے مواد میں چھپے سرمائی نیند کی حالت زمین میں اور جڑی بوٹیوں پر کنٹرول کرلیا جائے تو آئندہ کپاس کی فصل کیڑوں کے حملے سے کافی حد تک محفوظ ہوجائے گی ۔کپاس کے تمام قسم کے ضرر رساں کیڑے موسم سرما کا دورانیہ یا تو زمین میں یا پھر فصل کی باقیات، ٹینڈوں اور بچے کھچے موادمیں چھپ کر گزارتے ہیں، اگر ان کو سرمائی نیند کی حالت زمین میں اور جڑی بوٹیوں پر کنٹرول کرلیا جائے تو کپاس کی فصل کیڑوں کے حملے سے کافی حد تک محفوظ ہوجائے گی۔ اس سے نہ صرف کیمیائی زہروں کی وجہ سے ہو نے والے اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ بھی ہوگا۔اگر ابتداء سے فصل کپاس پر مختلف بیماریوں اور ضرر رساں کیڑوں کی روک تھام نہ کی جائے تویہ نہ صرف کمزور رہ جاتی ہے بلکہ فی ایکڑ پیداوار میں بھی کمی ہوجاتی ہے۔ فصلوں کے مڈھوں کی موجودگی سے اور بعد ازاں ان مڈھوں پر موسم بہار میں نئی پھوٹ نکلنے پر نقصان دہ سنڈیاں اور ضرر رساں کیڑے جڑی بوٹیوں اور بچے کھچے مواد اور مڈھوں سے اس نئی پھوٹ پر منتقل ہو جاتے ہیں۔

اور اپنی نسل میں اضافہ کر کے نئی کاشتہ فصل پر حملہ آور ہو کرکافی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکار جنوری کے آخر تک خالی کھیتوں میں روٹا ویٹریا ڈسک ہیرو چلاکر کپاس کی فصل کے مڈھوں اور بچے کھچے ٹینڈوں کوتلف کر کے اچھی طرح زمین میں ملا دیں۔کپاس کی آخری چنائی کے بعد کھیتوں میں بھیڑ بکریاں چرائی جائیں تاکہ بچے کھچے ٹینڈوں میں موجود گلابی سنڈی تلف ہوسکے۔ امریکن سنڈی اور چتکبری سنڈی کے پیوپے خالی کھیتوں میں بچے کھچے پتوں، ڈوڈیوں، ٹینڈوں اور زمین میں سرمائی نیند سو کر سردیاں گزارتے ہیں اس لیے کپاس کی چھڑیوں کی کٹائی زمین کی سطح کے برابر یا گہرائی سے کی جائے اور کپاس کے کھیتوں میں گرے ہوئے ٹینڈوں، مڈھوں اور جڑی بوٹیوں کو روٹا ویٹر یا مٹی پلٹنے والا ہل چلاکر ختم کر دیا جائے۔ ترجمان نے کہا کہکھیتوں اور دیہاتی آبادی کے گردو نواح میں کپاس کی جو چھڑیا ں جلانے کے مقصد کے لیے رکھی جاتی ہیں ان کو کھیتوں سے دور کسی جگہ پر ذخیرہ کیا جائے اور ان پر بچے کھچے ٹینڈوں کو تلف کر دیا جائے۔ چھڑیوں کے ڈھیروں کے پاس فروری سے مئی تک روشنی کے پھندے لگائے جائیں تاکہ پروانوں کو تلف کیا جاسکے۔ کھیتوں میں موجود بچے کھچے ٹینڈوں اور کھوکھڑیوں کو جلا دیا جائے۔گلابی سنڈی کے حملہ شدہ کھیتوں میں لگائی گئی گندم کی فصل میں کھوکھڑیوں کو غور سے دیکھا جائے اور ان کے اندر گلابی سنڈی یا اسکے پیوپے ملیں تو کھیتوں میں موجود کپاس کا پرانا مواد یعنی ٹینڈوں، کھوکھڑیوں اور ناکارہ روئی کو اچھی طرح تلف کردیا جائے یا کھیتوں میں گندم کی فصل کو پانی لگاتے وقت کلورو پائری فاس زہر بحساب 2لٹر فی ایکڑ ڈال دی جائے تو اس سے گلابی سنڈی، ریڈ کاٹن بگ، ڈسکی کاٹن بگ، دیمک اور دیگر تمام ضرر رساں کیڑوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔

مزید :

کامرس -