وزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کا امن مشن

وزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کا امن مشن

  

پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لئے مصالحت کار کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اِس مقصد کے لئے وزیراعظم نواز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف آج(پیر) دونوں ملکوں کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور معاونِ خصوصی طارق فاطمی بھی اُن کے ہمراہ ہوں گے۔ وزیراعظم اور چیف آف آرمی سٹاف دونوں ملکوں کی قیادت سے دو طرفہ کشیدگی کے خاتمے کے لئے بات چیت کریں گے۔ دورے پر جانے کا فیصلہ ریاض اور تہران سے رابطوں کے بعد مثبت اشارے ملنے پر کیا گیا ہے۔ پروگرام کے مطابق وزیراعظم پہلے سعودی عرب جائیں گے، جہاں وہ خادم حرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز سمیت اعلیٰ سعودی قیادت سے ملاقات کریں گے۔ اِس کے بعد وہ تہران جائیں گے، جہاں وہ ایران کے صدر حسن روحانی اور دوسرے اعلیٰ حکام سے مذاکرات کریں گے۔

اِس دورے کا بنیادی مقصد سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانا ہے۔ خطے کے امن کی خاطر پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے مصالحتی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان دونوں ملکوں سے اپیل کرے گا کہ وہ کشیدگی ختم کر دیں، سفارتی حلقے اِس سلسلے میں پاکستان کی کامیابی کی امید رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات کی بحالی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ دورے کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے یہ دورہ اکٹھے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کو اُمہ کے اتحاد میں کس قدر دلچسپی ہے اور وہ دو برادر مسلمان ملکوں کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے کس قدر تشویش میں مبتلا ہے،پاکستان کی تاریخ میں شاید اِس سے پہلے کبھی نہیں ہوا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف نے اکٹھے اِس طرح کا کوئی دورہ کیا ہو۔

سعودی عرب میں مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات۔۔۔ خانہ کعبہ اور روضۂ رسولؐ۔۔۔ واقع ہیں، جس کی وجہ سے یہ سرزمین پوری دُنیا کے مسلمانوں کی عقیدتوں کا مرکز ہے انہی دو مقدس مقامات کی رعایت سے سعودی فرمانروا،خادم الحرمین الشریفین کہلانے کی سعادت سے بہرہ ور ہیں، تاریخی طور پر پاکستان اور سعودی عرب گہرے اسلامی بھائی چارے کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں، دونوں ملکوں نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور ہر آڑے وقت میں ساتھ ساتھ کھڑے ہوئے، سعودی عرب کے وسائل پاکستان کے لئے مختص رہے۔ایران بھی پاکستان کا ہمسایہ برادر اِسلامی مُلک ہے، جس کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، تہذیبی اور تجارتی روابط ہیں، ہمسایہ ہونے کی وجہ سے دونوں مُلک ایک دوسرے کے دُکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔

پاکستان کے عوام اور حکومت دونوں مُلکوں کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایک بار پھر پہلے کی طرح معمول کے تعلقات قائم کر لیں اور شکر رنجی کی جو فضا اب پیدا ہو چکی ہے وہ ختم ہو جائے، دونوں ملکوں کے ساتھ بیک وقت دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کی وجہ سے پاکستان کے لئے یہ بہت مشکل ہے کہ وہ کسی ایک کا ساتھ دے اور دوسرے کو نظر انداز کر دے،اِسی وجہ سے سے پاکستان کے اندر اس مسئلے پر سوچ بچار ہوتی رہی، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی اس پر تقریریں ہوئیں، جن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان مصالحانہ کردار ادا کرے اور کشیدگی ختم کرائے، طویل غورو خوض کے بعد اب وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اکٹھے اس دورے پر جانے کا فیصلہ کیا ہے تو امید کرنی چاہئے کہ وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوں گے۔ ویسے جس انداز میں دورہ شروع ہو رہا ہے اس سے تو امید کی کِرن روشن ہوئی ہے ورنہ سیاسی اور عسکری قیادت بیک وقت ہم سفر نہ ہوتے۔

چونکہ یہ دورہ غیر معمولی نوعیت کا اور عدیم النظیر ہے، اس لئے اِس کی کامیابی بھی اتنی ہی بڑی ہو سکتی ہے،جس کے نتیجے میں نہ صرف سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم ہو گی اور معمول کے تعلقات بحال ہو جائیں گے، بلکہ اپنے کردار کی وجہ سے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کا قد کاٹھ بھی بلند ہو گا، پاکستان عالمِ اسلام میں ایک خصوصی حیثیت رکھتا ہے اور اپنی پوری تاریخ میں مسلمان اُمت کے لئے بڑھ چڑھ کر کردار ادا کرتا رہا ہے۔مسلمانوں کے اتحاد اور فلاح و بہبود کے لئے ماضی میں جتنی بھی کوششیں ہوئیں اُن میں پاکستان کا کردار ہمیشہ قائدانہ رہا، عالمِ اسلام میں پاکستان کی فوجی قوت بھی مسلمہ ہے اور جب پاکستان ایٹمی قوت بنا تو پوری اسلامی دُنیا میں اِس کا خیر مقدم کیا گیا اور ہر مُلک کے افتخار اور حوصلے میں اس کے بعد اضافہ ہوا،پاکستان کو بھی اپنی اِس منفرد حیثیت کا احساس و ادراک ہے اور اب اس نے آگے بڑھ کر جو کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس کا سر چشمہ اِسی احساس سے پھوٹا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک ہفتے کے اندر اندر یکے بعد دیگرے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ اپنی ملاقاتوں میں اِس بات پر رضا مندی ظاہر کی تھی کہ ریاض کی یہ خواہش ہے کہ تہران کے ساتھ معمول کے تعلقات بحال کئے جائیں۔انہی دوروں کے باعث ہی پاکستان کی قیادت نے امن کے پیامبر مُلک کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج ریاض میں سعودی قیادت کے ساتھ جو ملاقات ہو گی اس کا پیغام لے کر جب وزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف تہران پہنچیں گے تو اس کا مثبت جواب ملنے کی امید ہے،جس کا فوری اظہار سفارتی تعلقات کی دوبارہ بحالی کی صورت میں ہو گا۔ یہ عین ممکن ہے کہ دورے کے خاتمے کے ساتھ ہی دونوں مُلک سفارتی تعلقات دوبارہ قائم کرنے کا اعلان کر دیں۔اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ پاکستانی قیادت کے لئے بھی ایک مثبت پیغام ہو گا اور اس کے رہنماؤں کے لئے اظہارِ تشکر کی ایک صورت بھی ہو گی۔سعودی عرب میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد مسلمان ملکوں کا جو34۔ رکنی فوجی اتحاد قائم کیا گیا ہے اس میں ایران شامل نہیں، تاہم پاکستان اس اتحاد کا حصہ ہے۔ ایرانی قیادت کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کا یہ کردار بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے اور پاکستان ایرانی قیادت کو یقین دلائے گا کہ اس کا بنیادی مقصد خطے میں دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر لڑنا ہے، کیونکہ اسی کی وجہ سے پورا خطہ ایک زلزلے کی سی کیفیت سے دوچار ہے، دونوں مُلک اگر کشیدگی کی راہ پر گامزن رہے تو اس طرح دہشت گردوں کے مقاصد ہی پورے ہوں گے، توقع ہے کہ پاکستان کے مصالحانہ کردار کی بدولت سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ترین سطح پر آ جائے گی اور سفارتی تعلقات بھی بحال ہو جائیں گے اور پاکستان کا کردار اس سلسلے میں نمایاں ہو کر سامنے آئے گا۔

مزید :

اداریہ -