تھر میں بھوک اور پیاس سے بچوں کی اموات ؟

تھر میں بھوک اور پیاس سے بچوں کی اموات ؟
 تھر میں بھوک اور پیاس سے بچوں کی اموات ؟

  

تھر میں بھوک اور پیاس سے معصوم بچوں کی اموات حکومت کے لئے شایدصرف اعدادوشمار ہوں، مگر غریب تھرکے باسیوں کے لئے یہ زندگی ہے ،تھر میں حالیہ ہلاکتوں کے بعد متعلقہ افراد کو پھر سے وہی ہتھکنڈے استعمال نہیں کرنے چاہئیں ،یعنی میٹنگوں کی بھرمار ہو گی اور اخبارات میں بیانات جاری کئے جائیں گے،مگر اصل سہولیات جن کی تھر کے بھوکے پیاسے لوگوں کو ضرورت ہے وہ نہیں ملیں گی میں بذات خود پاکستان پیپلزپارٹی کو پسندکرتا ہوں اور خواہش رہی ہے کہ بطور ایک ادیب اوردانشور اس جماعت کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرتا رہوں، مگر معذرت کے ساتھ مجھے عوام سے منہ نہیں موڑناحکومت کے بے شمار اقدامات سندھ کے لئے اچھے ہوں گے، مگر تھر کے عوام کو گزشتہ چار سالوں سے کچھ زیادہ ہی نظر انداز کیا گیا ہے اس دوران قدرتی آفات سیلاب اور بیماریوں سے جانی اور مالی بہت نقصان ہوا،جس کی پردہ داری کی گئی بجائے مستحق اور متاثرہ افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے دودھ میں جو بالائی ہوتی ہے اس کو اتار لیا جاتا ہے اور تھوڑا بہت دودھ عوام میں تقسیم کردیا جاتا ہے۔تاکہ میڈیا کو دکھایا جا سکے کہ سندھ حکومت تھر کے لوگوں کے لئے عملی اقدامات میں مصروف ہے ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ بیوریوکریٹس اور دیگر انتظامیہ کے لوگ سب سے پہلے اپنی خدمت کرتے ہیں اس کے بعد وہ عوام کا سوچتے ہیں، یعنی آفات کے دنوں میں عوام کا استعمال ہوتا ہے اور جیبیں اپنی بھری جاتی ہیں، ہم تو ان عوامی لیڈروں کو دعا ہی دے سکتے ہیں جو عوام کے غموں میں ایک طرف آنسو بہاتے ہیں۔

دوسری طرف مرغ مسلموں کی دعوتیں اڑاتے ہیں،سندھ فیسٹیول وغیرہ کے لئے لاکھوں کروڑوں ہوا میں اُڑادئے جاتے ہیں ،اگر اس رقم کو کسی ہسپتال کی سہولتوں کو بہتر کرنے اور تھر کی بھوک کو ختم کرنے کے لئے خرچ کیا جائے تو کیا یہ بہتر نہیں ہوگا؟ یہ ناچ گانوں کے سیٹ لگانا تو تب بنتا ہے جب دودھ کی نہریں بہہ رہی ہوں، جس صوبے میں آئے روز معصوم بچے بھوک اور پیاس سے مررہے ہوں اس صوبے کی حکومت کو سکون سے بیٹھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے، کیونکہ یہ لوگ اسمبلیوں میں ان کے ناموں کو لیکر پہنچتے ہیں ان ہی کی ترقی کا خواب دکھاکر ووٹ حاصل کرتے ہیں۔ایک اور بدقسمتی یہ ہے کہ سندھ میں جو بچے ادویات نہ ملنے پر مررہے ہیں وہ صرف یہ نہیں کہ ان کے والدین مہنگی دوائیاں نہیں خرید سکتے، بلکہ ستم ظریفی یہ بھی ہے جن سرکاری ہسپتالوں کو کروڑوں روپے کا فنڈ ملتا ہے عوام کے لئے مفت ادویات دینے اور علاج معالجہ کی سہولتوں کے لئے وہ ہسپتالوں میں سرے سے ہی موجود نہیں ہوتیں، یعنی اگر کبھی کبھار میڈیا کودکھانے کے لئے ادویات خرید بھی لی جائیں تو ان ادویات کو بازار میں اونے پونے داموں میں بیچ کر اپنی جیبیں بھر لی جاتی ہیں، یعنی وہی دھاک کے تین پات عوام کو اگر بھولے سے کوئی ڈاکٹر مل بھی جائے تو مہنگی ادویات کی پرچیاں ان کے ہاتھوں میں تھما دی جاتی ہیں، جن کو خریدنے کے لئے ان کی جیبوں میں پیسے نہیں ہوتے۔

مَیں ذوالفقارعلی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاست کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں،مگر اب وہ لمحات جیسے فضاء سے ختم ہوتے جا رہے ہیں ان کا نام استعمال کرنے کی بجائے ان کی بنائی گئی پالیسیوں اور ویژن پر چلنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اب بھٹو کا نام استعمال کرکے سیاست نہیں چلنے والی ،بلکہ سندھ حکومت کو چاہئے کہ وہ آگے بڑھے اور تھر میں مرتے ہوئے بچوں کو بچانے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے بلاول بھٹو کو ڈوبتی پارٹی بچانے کے لئے پنجاب کا خیال آسکتا ہے تو کیا تھر میں مرتے ہوئے عوام کا خیال نہیں آسکتا؟نمونیا، ڈائریایا غذائی قلت سے اموات اس قدر بڑی بات نہیں ہے کہ ان امراض کا علاج نہیں ہوسکتا ہے، بلکہ عوام کی غذائی ضروریات پوری ہوں اور اس کے ساتھ ہسپتالوں میں جدید سہولیات کے ساتھ بچوں کے امراض کی ادویات اور عملہ موجود ہوتو کیا مضائقہ ہے کہ لوگ تھر میں حکومتی کارکردگی کو نشانہ بنائیں، بلکہ لوگ خوش ہوں گے کہ سندھ حکومت واقعی سندھ کے عوام کی خدمت دل سے کررہی ہے یہ خبریں جب آئے روز اخباروں یا ٹی وی چینلوں میں چلتی ہیں کہ آج اتنے بچے مرگئے اور ہلاکتوں کی تعداداتنی ہوگئی ہیں ،بہت ہی تکلیف دہ لمحہ ہوتا ہے اللہ پاک ہم سب کے بچوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، کیونکہ جن ماؤں کے بچے مررہے ہیں وہ خود بھی بہت کمزوراور حالات کی ماری ہوئی ہیں جنھوں نے اپنی زندگی کا ایک لمحہ بھی خوشی کے ساتھ نہیں گزارا ان کے دکھے ہوئے دلوں سے بدعائیں لینا کوئی اچھا شگون نہیں ہے ،قائرین کرام یہ اقتدار بھی کیا چیز ہے جس کی سیج پر بیٹھ کر اپنے سے نیچے کے لوگ انسان ہی نظر نہیں آتے عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھنے والے لوگوں کے پالتو کتوں اور گھوڑوں کا روزانہ کا خرچا کسی بھی غریب خاندان کے ایک ماہ کے خرچے سے زیادہ ہوتا ہے جن کی رکھوالی کے لئے بھاری تنخواہوں پر لوگ رکھے ہوتے ہیں اور یہ لوگ صبح شام ان نوکروں سے اپنے پالتو جانوروں کی خیریت بھی دریافت کرتے ہیں،مگر جن کے ووٹوں سے یہ اقتدار تک پہنچتے ہیں ان کی جانب بھولے سے بھی دیکھنا پسند نہیں کرتے۔

مزید :

کالم -