پاک چائنہ اکنامک کوریڈور،ملک میں خوشحالی اور معیشت ترقی کی پٹری پر رواں ہو جائے گی

پاک چائنہ اکنامک کوریڈور،ملک میں خوشحالی اور معیشت ترقی کی پٹری پر رواں ہو ...

  

انٹر ویو ۔اسد اقبال

تصاویر ، عمر شر یف

ناصر سعید کا تعلق لاہور کے ایک معروف کاروباری گھرانے سے ہے جن کی صلاحیتوں اور بہترین خدمات کو نظر رکھتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت نے انہیں وزیر اعلی پنجاب کے مشیر برائے ٹر یڈرز مقرر کیا جبکہ ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں سال 2015-16ء کے لیے لاہور چیمبر کا نائب صدر مقرر کیا گیا ہے۔ آپ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری، فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایگزیکٹو کمیٹی رکن،مسلم لیگ ن تاجر ونگ لاہور کے صدر

اور انجمن تاجران فوٹو گڈز لاہور کے صدر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔روزنامہ پاکستان نے ناصر سعید سے لاہور چیمبر آف کامرس میں خصو صی انٹرویو کیا جو قارئین کی نظر ہے ۔جن کا کہنا ہے کہ پاک چائینہ اکنامک کوریڈور کے پراجیکٹ کو عملی جامہ پہنانے کے بعد خطے میں خوشحالی اور ملکی معیشت ترقی کی پٹری پر رواں ہو جائے گی۔پنجاب حکو مت کے تعاون سے لاہور چیمبر آف کامر س اینڈ انڈسٹری ٹی ڈیپ اور پپٹ کے اشتراک سے 20جنورل کو لاہور میں سرمایہ کاری کانفرنس منعقد ہو رہی ہے جس میں دنیا بھر کے ممالک سے 61سرمایہ کار مندوبین شر کت کر یں گے۔

ناصر سعید نے کہا کہ پاکستان ایسی نعمتوں، وسائل اور معدنیات سے مالامال ہے جن کی دنیا کے بہت سے ممالک تمنا ہی کرسکتے ہیں ۔ اس کے باوجودبھی آج ہمارا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔ 60ء کی دہائی میں پانچ ممالک ساؤتھ کوریا، ملائشیا، انڈونیشیا، فلپائن اور تھائی لینڈ کی مجموعی برآمدات پاکستان کی برآمدات سے کم تھیں لیکن آج ان میں سے ہر ایک ملک کی برآمدات ہم سے کئی گنا زیادہ ہوچکی ہیں۔گذشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان کو بہت سے سنگین چیلنجز کا سامنا رہا ہے جن میں سب سے بڑا دہشت گردی کا ناسور تھا۔ اس کی وجہ سے ایک طرف تو پچاس ہزار سے زائد عا م پاکستانی شہری اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے اور دوسری طرف معیشت کو بہت بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا کیونکہ عالمی سطح پر پاکستان کے متعلق غیر محفوظ ملک کا تاثر ابھر رہا تھا۔ سرمایہ کاروں نے پاکستان کو اپنی ترجیحی لسٹ سے نکال دیاجبکہ توانائی کے بدترین بحران نے معیشت کو مزید تباہی کی طرف دھکیلا۔ پاکستان میں وسائل کی کوئی کمی نہیں، یہ دودھ اور کپاس پیدا کرنے والا چوتھا بڑا، گندم پیدا کرنے والا آٹھواں بڑا، چاول پیدا اور افرادی قوت رکھنے والا دسواں بڑا ملک ہے لیکن ان وسائل کو بے دردی سے ضائع کیا گیا ۔خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ گذشتہ دو تین سالوں سے حالات مسلسل بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ پاک فوج اور حکومت نے مل کر ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردی کے ناسور کو قریب قریب ختم کردیا ہے ، آئے روز توانائی کی پیداوار کے کسی نہ کسی منصوبے کا افتتاح ایک اچھے مستقبل کی شنید دے رہا ہے ، ماضی میں روس جیسے جن اہم ممالک سے ہمارے تعلقات سرد مہری کا شکار تھے آج وہ ہمارے ساتھ تجارتی معاشی و دفاعی تعاون کررہے ہیں، مارک اپ 6%کے ساتھ جبکہ افراط زر1.61%کے ساتھ تاریخ کی کم ترین سطح پرہیں ، انفراسٹرکچر بہتر ہورہا ہے جبکہ 46ارب ڈالر حجم کا پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ اور سرمایہ کانفرنس جیسے ایونٹ عالمی برادری کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے بہترین ملک ہے جس سے غیرملکی سرمایہ کاروں کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔اگر ہم ماضی قریب کے دور کو دیکھیں تو معاشی حوالے سے کئی حوالوں سے بہت اہم پیش رفت ہوئی ہے لیکن کچھ معاملات ہنوز توجہ طلب ہیں جنہیں حل کرنے کے لیے اگرچہ ضرورت تو حکومت اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کی ہے لیکن پالیسی سازی کا اختیار ہونے کی وجہ سے اہم کردار حکومت کو ہی کرنا ہے۔اس وقت ایک تشویشناک مسئلہ برآمدات میں کمی ہے۔کچھ عرصہ قبل موجودہ حکومت کی کاوشوں کی بدولت یورپین یونین نے پاکستان کو جی ایس پی پلس سٹیٹس دے دیا جس کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ برآمدات کو فروغ ملے گا لیکن حیرت انگیز طور پر برآمدات بڑھنے کے بجائے کم ہوگئیں جس کی وجوہات کا جائزہ لینے کے لیے حکومت اور نجی شعبے کے نمائندوں کی ایک ٹیم تشکیل دینے کی ضرورت ہے ۔اگرچہ برآمدات میں کمی کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سرفہرست زیادہ پیداواری لاگت ہے لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ اس سلسلے میں بیرون ملک پاکستانی کمرشل سیکشنز کی سرد مہری اور برآمدات کے سلسلے میں چند ممالک پر انحصار نے بھی بہت اہم کردار ادا کیا ہے لہذا اس جانب خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔برآمدات کے فروغ کے لیے پاکستان کو علاقائی تجارت کے فروغ اور ویلیو ایڈیشن کی طرف خاص توجہ دینا ہوگی۔ملک میں پیدا ہونے والے قیمتی و نیم قیمتی پتھروں اور نمک سمیت دیگر بہت سی معدنیات کو خام حالت میں ہی برآمد کردیا جاتا ہے جس سے ملک کو وہ فائدہ نہیں ہوتا جو ہونا چاہیے۔ پاکستان کو وسطیٰ ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ریلوے لنک قائم کرنے چاہیئیں جس سے ان ریاستوں کے ساتھ تجارت میں اضافہ ہوگا۔ ماضی میں توانائی کا بحران حل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششوں کے فقدان کا خمیازہ ملک بھر کے صنعتی و تجارتی شعبے کو بھگتنا پڑا ہے، توانائی کے بحران کی وجہ سے صنعتی پیداوار کم ہوئی جس کے منفی اثرات برآمدات پر واضح دیکھے جاسکتے ہیں مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت کو زمینی حقائق کا بھرپور احساس ہے اور اْس نے بھکی، تھرپاور پلانٹ، جھنگ پاور پلانٹ اور بلوکی قصور پاور پلانٹ سمیت توانائی کی پیداوار کے دیگر منصوبے شروع کررکھے ہیں جن کی تکمیل کے بعد وافر بجلی دستیاب ہوگی۔ اگر ہم نے سستی اور وافر بجلی کی پیداوار یقینی نہ بنائی تو سرمایہ دیگر ممالک منتقل کرنے کا رحجان بڑھے گا جو کسی طرح بھی ملک کے مفاد میں نہیں۔نجی شعبے کو چاہیے کہ توانائی کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرے جبکہ حکومت کو چاہیے کہ ان سرمایہ کاروں کو سہولیات دے۔ توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی کاوشیں قابل تحسین ہیں، دیگر صوبوں بھی اْن کی تقلید کرتے ہوئے متبادل ذرائع سے توانائی کی پیداوارکے منصوبے شروع کرنے چاہئیں۔ کچھ عرصہ قبل وزیراعظم میاں نواز شریف نے صنعتی شعبے کے لیے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے یہ بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں صنعتی شعبے کو درپیش مسائل سے اچھی طرح آگاہی ہے اور وہ انہیں جلد سے جلد حل کرنا چاہتے ہیں۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری بھی اپنے فرائض سے بڑی اچھی طرح آگاہ ہے اور صنعت و تجارت کے استحکام اور ملک کی بیرونی تجارت کو فروغ دینے کی بھرپور کوشش کررہا ہے۔ اس کے علاوہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے پاکستان میں کاروبار کے لیے آسانیوں اور مشکلات کے متعلق تفصیلی رپورٹ کی تیاری پر کام شروع کردیا ہے جس کا مقصد کاروباری شعبے کو درپیش مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل تجویز کرنا ہے۔ لاہور چیمبر کے عہدیداران صنعتی و تجارتی ایسوسی ایشنوں کے کے نمائندوں سے ملاقاتیں کرکے صنعت و تجارت کو درپیش مسائل کے بارے میں معلومات اکٹھا کررہے ہیں جنہیں رپورٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔ پاکستان کی برآمدات کو پچاس ارب ڈالر تک پہنچانا بھی ممکن ہے لیکن اس کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مشاورت سے تیار کی گئی حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا، چونکہ مقابلہ بہت سخت ہے لہذا وقت ضائع کیے بغیر حکومت کو مشاورتی عمل شروع کردینا چاہیے ۔

ناصر سعید نے کہا کہ اگرچہ اعداد و شمار کے مطابق ہماری ٹیکسٹائل کی برآمدات بڑھ رہی ہیں لیکن تفصیلی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اُن ٹیکسائل مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ہورہا ہے جن کی تیاری میں فردی ہنرمندی کا کم عمل دخل ہے۔ جن ٹیکسٹائل مصنوعات کی تیاری کا انحصار ہنرمند افرادی قوت پر ہے اُن کی برآمدات میں کمی واقع ہورہی ہے۔ لاہور کی دو تہائی ٹیکسٹائل انڈسٹری بند ہوچکی ہے جس سے ایک طرف تو ہزاروں افراد بے روزگار ہوئے ہیں اور دوسری طرف حکومت کو بھی محاصل کی مد میں بھاری نقصان ہوا ہے لیکن پالیسی سازوں نے پھر بھی اِس صنعت کے بحران پر قابو پانے کے متعلق سوچنے کی زحمت نہیں کی جس کی وجہ سے مزید بہت سی ٹیکسٹائل انڈسٹری بندش کے دہانے پر کھڑی ہے۔ نئی حکومت ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مکمل تباہی سے بچانا چاہتی ہے تو دورِ جدید کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لوگوں کی مشاورت سے طویل المعیاد اور قلیل المعیاد پالیسیاں ترتیب دے۔ سب سے ضروری یہ ہے کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ ووکیشنل اور ایجوکیشنل سنٹرز قائم کیے جائیں جہاں ایسی ہنرمند افرادی قوت پیدا ہو جو صنعتی پیداوار میں کمی نہیں بلکہ اضافے کا باعث بنے۔ ملک کی برآمدات کو 50ارب ڈالر تک پہنچانا بھی ممکن ہے لیکن اِس سے قبل تجارتی پالیسیوں کی کمزوریوں، متعلقہ سرکاری اداروں کی ناقص حکمتِ عملی اور بیرون ملک متعین کمرشل افسران کی روایتی سرد مہری کو دور کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ متعدد مرتبہ حکومت کو کہا جاچکا ہے کہ اقتصادی و تجارتی پالیسیوں کی تشکیل کے عمل میں ایوان ہائے صنعت و تجارت کے ذریعے نجی شعبے شمولیت کو یقینی بنایا جائے لیکن اِس جانب بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی جس کا خمیازہ پوری معیشت کو بھگتنا پڑ رہا ہے لہذا ان امور کی جانب خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -