جناح ہسپتال میں ہڑتال، خواجہ سلمان رفیق کے نام کھلا خط

جناح ہسپتال میں ہڑتال، خواجہ سلمان رفیق کے نام کھلا خط
 جناح ہسپتال میں ہڑتال، خواجہ سلمان رفیق کے نام کھلا خط

  

جناب خواجہ سلمان رفیق صاحب۔ آپ پنجاب کی وزارت صحت کے انچارج ہیں آپ کے پاس یہ ذمہ داری کافی سال سے ہے۔لیکن اس وقت پنجاب میں سوائن فلو بھی پھیل چکا ہے اس کے تحت بھی اموات ہورہی ہیں پنجاب کے ہسپتالوں کی حالت بھی بری ہے لیکن میں آج کا یہ کھلا خط لاہور کے جناح ہسپتال میں ڈاکٹرز کی ہڑتال ، ڈاکٹرز اور حکومتی بے حسی پرلکھنے پر مجبور ہوں۔

لاہور کے جناح ہسپتال کے ڈاکٹرز نے ہسپتال کی نامناسب سیکیورٹی پر ہڑتال کی ہوئی ہے ہڑتال کو چار دن سے زیادہ ہو گئے ہیں ان چار دنوں میں سینکڑوں مریض علاج کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں تا ہم ڈاکٹرز اپنے مطالبہ پر قائم ہیں کہ ہسپتال کی سکیورٹی کو جب تک بہتر نہیں بنا یا جائے گا وہ مریضوں کا علاج نہیں کریں گے۔

خواجہ صاحب : اگر ایک لمحہ کے لئے یہ مان لیا جائے کہ ڈاکٹرز کا مطالبہ جائز ہے لیکن تب بھی آپ ہر اس مریض کو جوابدہ ہیں جو اس جائز مطالبہ کی وجہ سے علاج جیسی بنیادی سہولت سے محروم رہ گیا۔ یہاں میں افغانستان کے علاقہ قندوز کا ایک واقعہ لکھنا چاہتا ہوں ، قندوز پر طالبان نے قبضہ کرلیا ہو اتھا امریکہ قندوز کو خالی کروانے کے لئے بمباری کر رہا تھا ایسے میں قندوز میں موجود واحد ہسپتال پر بھی اس اندیشہ پر بمباری کر دی گئی کہ وہاں طالبان نے پناہ لی ہوئی ہے۔ ڈاکٹرز کی فلاحی تنظیم جو قندوز کا یہ ہسپتال چلا رہی تھی اس نے اس بمباری کے بعد بھی اس ہسپتال کو چھوڑنے سے انکار کر دیا تھاکہ وہ لوگوں کو بے یار و مددگا چھوڑ کر نہیں جا سکتے انہوں نے تو اس الزام کو بھی رد کر دیا تھا کہ وہ طالبان کا علاج کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ مریضوں کا علاج کر رہے ہیں انہیں معلوم نہیں کہ مریض کون ہے ان کے لئے ہر مریض انسان ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ اور ڈاکٹرز کے اسی موقف کی وجہ سے امریکی صدر اوباما کو ان ڈاکٹرز سے معافی مانگنا پڑی تھی اور ڈاکٹرز آج بھی جنگی علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔ ایسے میں کیا ہو گیا اگر ایک آدمی اسلحہ لیکر جناح ہسپتال میں آگیا اس نے فائرنگ کر دی، کیا اس کے نتیجے میں سینکڑوں مریضوں کو علاج سے محروم کر دینا جائز ہے۔

میرے نزدیک جہاں اس شخص کا ہسپتال میں داخل ہو کر فائرنگ کرنے کا عمل ایک گھناؤنا جرم ہے وہاں ڈاکٹرز کی جانب سے ہڑتال بھی اس سے کم سنگین جرم نہیں ہے۔ اس طرح جہاں ایک غلطی کی بنیاد پر دوسری غلطی کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایک جرم کی بنیاد پر دوسرے جرم کو جائز نہیں قرار دیا جا سکتا ۔ اسی طرح فائرنگ کے واقع کے بعد ڈاکٹرز کی ہڑتال کو بھی کسی طرح جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

پاکستان کے ڈاکٹرز نے ہڑتال کو ایک فیشن بنا لیا ہے۔ پہلے وہ اپنی تنخواہوں کے لئے ہڑتال کر رہے تھے پھر سروس سٹرکچر کے لئے ہڑتال کر رہے تھے پھر کبھی خواجہ صاحب آپ کے خلاف ہڑتال کر تے ہیں۔ شروع شروع میں ڈاکٹرز کی ہڑتال بہت بڑی خبر ہوتی تھی لیکن اب تو میڈیا بھی ڈاکٹرز کی ہڑتال کی خبر کو اس طرح اہمیت نہیں دیتا اور یہ کوئی اہم خبر نہیں رہی۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جس طرح میڈیا نے ڈاکٹرز کی ہڑتال کو کم اہمیت دینی شروع کی ہے اسی طرح حکومت اور بالخصوص آپ نے بطور پنجاب کے وزیر صحت بھی ڈاکٹرز کی ہڑتال پر کم توجہ دینی شروع کر دی ہے۔ ایسا لگتا ہے کیونکہ میڈیا کا فوکس کم ہے۔ اس لئے آپ کا فوکس بھی کم ہے۔ورنہ جناح ہسپتال لاہور میں جاری ہڑتال کو چار دن نہ ہو جاتے ۔ اس معاملہ کو پہلے گھنٹے میں حل ہو جانا چاہئے لیکن جس طرح ایک مہمان کے لئے کہا جا تا ہے کہ روز کا آنا جانا قدر کھو دیتا ہے اسی طرح ڈاکٹرز کی روز روز کی ہڑتال نے ان کی ہڑتال کی اہمیت کھو دی ہے۔

جناب خواجہ صاحب۔ بطور انچارج وزارت صحت پنجاب ، اس ہڑتال کی وجہ سے ایک ایک مریض کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کے آپ ہی ذمہ دار ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہر مریض کی آہ و پکار اور اس کے درد کے آپ ہی ذمہ دار ہیں۔ آپ کو پنجاب میں وزارت صحت کا انتظام سنبھالے کافی سال ہو گئے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ یہ آپ کا دوسرا دور ہے۔ بلکہ یہ بھی غلط نہیں ہے کہ وزارت صحت کی سوجھ بوجھ کی وجہ سے ہی آپ کو ضمنی انتخاب لڑوا کر پنجاب اسمبلی میں لا یا گیا۔ تا ہم آپ اتنی لمبی اننگ کی با وجود سے ڈاکٹرز کی ہڑتال کا کوئی حل نہیں نکال سکے۔

ایک تاثر یہ بھی ہے کہ آپ کا رویہ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے حوالہ سے نرم ہے۔آپ ڈاکٹرز کے خلاف کسی بھی سخت ایکشن کے مخالف ہیں آپ ڈاکٹرز کے ساتھ ملکر چلنے کے داعی ہیں۔ آپ کی اسی نرمی نے ڈاکٹرز کے حوصلہ بلند کر دئے ہیں انہیں علم ہو گیا ہے کہ جب تک خواجہ سلمان رفیق پنجاب کی وزارت صحت کا انچارج ہے ان کے خلاف کوئی سخت ایکشن نہیں ہو گا۔ زیادہ سے زیادہ مذاکرات ہی ہو نگے، کچھ ملے گا اور ہم ہڑتال ختم کر دیں گے۔

میری آپ سے آخر میں گزارش ہے کہ اس وقت پوررے ملک میں سکیو رٹی کے مسائل ہیں۔ سکولز کی سکیو رٹی بھی ناقص ہے لیکن ٹیچرز ہڑتال نہیں کر رہے۔ مارکیٹوں کی سکیو رٹی ناقص ہے لیکن دکاندار ہڑتال نہیں کر رہے۔ سرکاری دفاتر کی سکیو رٹی ناقص ہے لیکن سرکاری ملازم کام کر رہے ہیں۔ کھیل کے میدانوں کی سکیو رٹی ناقص ہے لیکن کھلاڑی کھیل رہے ہیں۔ ہر بنک کی سکیو رٹی کو خطرہ ہے کسی بھی وقت ڈکیتی ہو سکتی ہے لیکن بنک کا عملہ اتنے خطرے کے باوجود روز بنک کھولتا ہے۔ تھانوں کی سکیو رٹی ناقص ہے لیکن پولیس نے ہڑتال نہیں کی ہے۔ ایسے میں جناح ہسپتال کے واقعہ پر ڈاکٹرز کی ہڑتال کیسے جائز قرار دی جا سکتی ہے۔

اس لئے آپ کو مریضوں کی آہوں اور سسکیوں کا واسطہ ہے ان ہڑتالوں کو ختم کرنے کے لئے سخت سے سخت قانون سازی کریں۔ ہڑتالی ڈاکٹرز کی ڈگریاں منسوخ کریں تا کہ یہ ملک کے مریضوں کی جانوں سے کھیل کر بیرون ملک بھی نہ جا سکیں۔ ڈاکٹرز کی ہڑتال دہشت گردی سے بڑا جرم ہونا چاہئے۔ امید ہے کہ آپ پنجاب کے مریضوں کی دبی ہوئی اور کمزور آواز کو سن سکیں گے۔

مزید :

کالم -