’’ پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب ‘‘ منصوبہ میں بوگس رپورٹس تیار کئے جانیکا انکشاف

’’ پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب ‘‘ منصوبہ میں بوگس رپورٹس تیار کئے جانیکا انکشاف

  

  1. لاہور( لیاقت کھرل) وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر اربوں روپے کے فنڈز سے شروع کئے گئے ’’ پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب ‘‘ منصوبہ میں محکمہ تعلیم کے افسران کی جانب سے بوگس رپورٹس تیار کر کے ’’ سب اچھا ‘‘ قرار دئیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس میں جہاں اربوں کے فنڈز سے تعلیم کے شعبہ میں اصلاحاتی پروگرام ناکام ہو کر رہ گیا ہے وہاں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کی مجرمانہ غفلت اور مفاد پرستانہ سوچ بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے خفیہ مانیٹرنگ اور انسپکشن ٹیموں کی تیار کردہ رپورٹ پر محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کی جواب طلبی کر لی ہے۔ ’’ پاکستان‘‘ کو محکمہ تعلیم سے ملنے والی معلومات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے دو سال قبل صوبے بھر میں تعلیم کے شعبہ ’’ پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب‘‘ کے نام سے ایک اصلاحاتی پروگرام شروع کرنے کا حکم دیا جس کے لئے اربوں روپے کے فنڈز مختص کئے گئے اس میں ابتدائی طور پر ایک ارب 25 لاکھ روپے کے فنڈز پر یہ منصوبہ شروع کیا گیا اور بعد میں سات ارب 50 کروڑ روپے اس اہم ترین منصوبے کے لئے مختص کئے گئے جس میں سیکرٹری تعلیم عبدالجبار شاہین نے اس اہم ترین منصوبے کو کامیاب کرانے کی ذمہ داری اٹھائی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو’’ پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب‘‘ منصوبے کے حوالے سے مانیٹرنگ اور انسپکشن ٹیموں کی خفیہ تیار کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’’پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب‘‘ کے پروگرام کو بغیر کسی منصوبہ بندی کے شروع کیا گیا اور اس میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران نے مبینہ طور پر اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے چشم پوشی سے کام لیا ہے جس میں سکولوں کے سامنے لگائے گئے کیمپوں میں ہیڈ ماسٹروں نے خود بیٹھنے یا تربیت یافتہ اساتذہ کو ذمہ داریاں سونپنے کی بجائے نائب قاصدوں اور چپڑاسیوں کے حوال کیمپ کر رکھے تھے جبکہ سروئے ٹیموں نے بھی گھر بیٹھے رپورٹس تیار کیں، جس میں سکولوں کے ہیڈ ماسٹروں نے زونل ہیڈز سے مبینہ ساز باز کر کے بوگس رپورٹس تیار کی گئیں جس میں ضلعی سربراہ ( ای ی اوز ) نے بھی خاموشی سے کام لیا اور اس اہم ترین منصوبے کو کامیاب بنانے کی بجائے سب اچھا کا ذکر کیا گیا، جبکہ اس پروگرام کے تت شروع کی گئی مہم میں زیادہ تر لاہور میں زور دیا گیا، جبکہ جنوبی پنجاب کے اضلاع میں محض ’’ خانہ پری‘‘ کی گئی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ’’پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب‘‘ جیسے اہم تعلیمی اصلاحاتی منصوبے کو مبینہ طور پر ناکام بنانے اور مجرمانہ غفلت کا شکار محکمہ تعلیم کے افسران کے خلاف رپورٹ طلب کر لی ہے اور اس میں محکمہ تعلیم کے ذمہ داروں کی جواب طلبی بھی کر لی گئی ہے ، جبکہ اس حوالے سے محکمہ تعلیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’’ پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب‘‘ پروگرام زور شور سے چل رہا ہے، اس کے اثرات سے تعلیم کے شعبہ میں ترقی حاصل ہوئی ہے۔تیار ہونے والی کسی بھی رپورٹ کا حقائق سے تعلق نہ ہے۔

    پڑھو پنجاب

مزید :

صفحہ آخر -