سیاسی جماعتیں بیرون ملک شاخیں ختم کردیں ،یہ پاکستانیوں کے اتحاد میں رکاوٹ ہیں،مفتی منیب الرحمان

سیاسی جماعتیں بیرون ملک شاخیں ختم کردیں ،یہ پاکستانیوں کے اتحاد میں رکاوٹ ...

  

 واشنگٹن (اظہرزمان ،بیوروچیف ) چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کو تلقین کی ہے کہ وہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا حصہ بننے کی بجائے پورے متحدہوکر یہاں کی مسلم کمیونٹی کے ساتھ مل کر امریکی سوسائٹی میں مثبت کردار ادا کریں۔ انہوں نے یہ بات روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کے اس نمائندے کے ساتھ بروکلین میں ایک خصوصی ملاقات میں کہی جو اس مقصد کے لئے واشنگٹن سے نیویارک آئے تھے۔ مفتی صاحب ، اس وقت امریکہ کے نجی دورے پر نیویارک کے علاقے برونکس میں مقیم ہیں جو پاکستانی کمیونٹی سے رابطے کے لئے ایک دن کے لئے بروکلین آئے تھے۔ انہوں نے پاکستانی کمیونٹی کی معروف مکی مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیا اور بعد میں علامہ اقبال کمیونٹی سنٹر کے ڈائریکٹر ناصر محمود اعوان کی طرف سے ترتیب دیئے گئے ایک ظہرانے میں شرکت کی۔ مفتی منیب الرحمان نے پاکستان کی سیاسی جماعتوں پر زوردیا کہ وہ امریکہ سمیت بیرون ملک میں اپنی شاخیں ختم کردیں کیونکہ یہ شاخیں ان کے اتحاد میں رکاوٹ کا باعث بن رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے امریکہ آکر یہ محسوس کیا ہے کہ پاکستانی امریکنز پاکستان کے لئے گہری محبت رکھتے ہیں اور اپنے وطن کو ہرطرح کی سپورٹ فراہم کرنے کے لئے ہروقت تیار رہتے ہیں۔ لیکن ان کا آپس میں تعاون آئیڈیل نہیں کیونکہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے انہیں مختلف دھڑوں میں تقسیم کررکھا ہے جس کی وجہ سے وہ بعض اوقات ایک دوسرے پر تنقید کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ مفتی صاحب کا کہنا تھا کہ شاید پاکستان واحد ملک ہے جس کی سیاسی جماعتوں نے بیرون ملک شاخیں قائم کرکے ان پاکستانیوں کو تقسیم کررکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیل، بھارت ، بنگلہ دیش ، افغانستان، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے دیگر ممالک نے اپنے باشندوں کے درمیان اتحاد برقرار رکھنے کے لئے انہیں سیاسی لحاظ سے تقسیم کرنے کی کوشش نہیں کی۔ صرف اپنے پاکستان والے ہی ایسا کیوں کررہے ہیں اس کا جواب سیاسی لیڈروں سے لیا جانا چاہئے۔ مفتی منیب الرحمان نے پاکستانی امریکنز کو تلقین کی کہ وہ دوسری کمیونٹیز کی طرح آگے بڑھ کر امریکی سیاست میں حصہ لیں اور دیگر شعبوں میں اپنا موثر کردار ادا کرتے ہوئے اپنی حیثیت منوائیں۔ مفتی صاحب نے پاکستانیوں سمیت امریکی مسلمانوں کے دوسرے مذاہب کے ارکان کے ساتھ رابطوں ، تعاون اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے ’’انٹر فیتھ ‘‘ اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے انہیں خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات مختلف عقیدے کے افراد کے درمیان محاذ آرائی ختم کرنے اور دنیا میں امن کے قیام میں مددگار ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اس تاثر کی نفی کی کہ پاکستان میں ایسا نہیں ہورہا انہوں نے یاددلایا کہ پاکستان میں ایک ’’مجلس ادیان ‘‘ قائم ہے جس کے وہ خود بھی رکن ہیں جس کا مقصد مختلف عقیدوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ مفتی صاحب نے بتایا کہ پاکستان میں جب بھی کرسچین کمیونٹی کے خلاف نفرت پھیلانے یا ان پر عقیدے کی بناء پر تشدد ہوا تو اس مجلس کے ارکان نے نہ صرف ایسے واقعات کی مذمت کی بلکہ ان متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور ملزموں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ مفتی منیب الرحمان نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی قیادت میں پاکستانی فوج دہشت گردوں کے خلاف جو آپریشن کررہی ہے اسے پوری پاکستانی قوم کی تائید حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی فوج مقبول ضرور ہے لیکن وہ کچھ معمولی معاملات پر تحفظ کے سبب کبھی مارشل لاء نہیں لگائے گی۔ مفتی صاحب کی دلیل یہ تھی کہ داخلی اور خارجی سطح پر سیکیورٹی معاملات کے بارے میں جس پالیسی پر عملدرآمد ہورہا اس میں فوج کا اہم کردار ہے یا یہ یوں سمجھیں کہ ساری پالیسیاں فوج کی مرضی اور تائید کے مطابق بنائی جارہی ہیں اس لئے ان حالات میں فوج اپنی مقبولیت کو داؤپر لگاکر سیاسی مداخلت کا الزام اپنے سرپہ کیوں لے گی۔ اس طرح فوج ایک موثر حیثیت کے ساتھ سب کام کررہی ہے جس کا کریڈٹ اسے ملتا ہے اور اگر کہیں کوئی کوتاہی ہوتی ہے تو تنقید انتظامیہ پر ہوتی ہے۔ مفتی صاحب کا کہنا تھا کہ اگر فوج کے مقاصد اقتدار سے باہر رہ کر پورے ہورہے ہیں تو وہ اقتدار پر قبضہ کرکے متنازعہ کیوں بنے گی اور تنقید کا نشانہ کیوں بننا چاہے گی۔ مفتی منیب الرحمان نے صدراوبامہ کے حالیہ ’’سٹیٹ آف یونین ‘‘ خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا انہوں نے دوسرے ممالک کے ساتھ پاکستان کا یہ ذکر کیا کہ یہاں حالات کی ابتری طویل عرصے تک جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تبصرے کا یہ مناسب موقع نہیں تھا۔ بہتر ہوتا وہ اپنے سالانہ خطاب میں پاکستان کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں کامیابیوں کا ذکر کرتے اور اس کی قربانیوں اور خدمات کی تعریف کرتے۔

مفتی منیب الرحمان

مزید :

صفحہ آخر -