عالمی پابندیوں کا خاتمہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر عملدر آمد کی راہ ہموار

عالمی پابندیوں کا خاتمہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر عملدر آمد کی راہ ...

  

اسلام آباد(اے این این ) ایران سے عالمی پابندیوں کے خاتمے سے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی راہ ہموار،تمام رکاوٹیں ختم ہو گئیں، دونوں ملکوں کے درمیان از سر نو بات چیت کا امکان،بھارت بھی منصوبے میں واپس آ سکتا ہے ۔تفصیلات کے مطابق ایران پر امریکہ،یورپی یونین اور عالمی براددری کی جانب سے عائد کی گئی پابندیاں ہٹائے جانے کے بعد پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے پر عملدر آمد کی راہ ہموار ہو گئی ہے اور اس ضمن میں تمام رکاوٹیں ختم ہو گئی ہیں ۔عالمی پابندیو ں کے خاتمے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان گیس پائپ لائن پر از سر نو بات چیت کا امکان ہے اور اس ضمن پاکستان کا اعلیٰ سطحی وفد جلد تہران کا دورہ کرے گا۔عالمی پابندیوں کے خاتمے کے بعد بھارت میں دوبارہ سے منصوبے کا حصہ بن سکتا ہے۔ یہ منصوبہ اپنے آغاز سے اب تک اتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔یہ منصوبہ عالمی پابندیوں اور ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کے باعث طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہے۔اس منصوبے کا سب سے پہلے تصور پاکستان کے ایک ایک سول انجینئر ملک آفتاب احمد نے1950کے وسط میں رسالپور ملٹری اکیڈمی کے ایک رسالے میں لکھے گئے اپنے مضمون میں دیا تھا۔بعد میں 1994میں دونوں ملکوں کے درمیان اس منصوبے پر بات چیت شروع ہوئی اور 1995میں ابتدائی معاہدہ طے پایا تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور ایران پر عالمی پابندیوں کے باعث کوئی خاص پیش رفت نہ ہو سکی۔1997میں ایران نے اس منصوبے میں بھارت کو شامل کرنے کی تجویز دی اور ایک بار پھر تینوں ملکوں کے درمیان ابتدائی سمجھوتہ طے پایا۔فروری 2007میں پاکستان اور ایران کے درمیان منصوبے پر کام شروع کرنے کے حوالے سے بات چیت ہوئی ۔2008میں چین نے بھی اس منصوبے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔2010میں ایران نے بنگلہ دیش کو بھی اس منصوبے میں شمولیت کی دعوت دی۔2008میں بھارت اور امریکہ کے درمیان سول جوہری معاہدہ طے پایا جس کے بعد 2009میں بھارت نے امریکی دباؤ پر اس منصوبے سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔2010میں امریکہ نے پاکستان کو واضح کہا کہ وہ اس منصوبے کو مکمل کرنے سے باز رہاے تاہم چار دسمبر 2012کو پاکستان اور ایران کے درمیان اس منصوبے کو ایک بار پھر آگے بڑھانے کی بات ہوئی اور اس منصوبے کودسمبر2014 مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا۔اس ضمن میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے ایران جا کر ایران کے صدر کے ساتھ معاہدے پر دستخط بھی کئے اور یہ بھی طے پایا کہ پاکستان منصوبے کو مکمل کرنے سے عاری رہے تو عالمی اصولوں کے مطابق جرمانہ بھی ادا کرنا پڑے گا ۔یہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے آخری ایام تھے۔بعد میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت بر سر اقتدار آئی تو امریکہ ایک بار پھر آڑے آگیا۔ایران پر عالمی پابندیاں بھی اس منصوبے کی راہ میں آڑے آ گئیں اس صورتحال میں پاکستان نے ایران کو مجوزہ جرمانے سے بچنے کی کوشش کی اور 10نومبر2013کو وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے ایران میں اپنے اس وقت کے ہم منصب بیجان نامدار سے ملاقات میں درخواست کی منصوبہ بروقت مکمل نہ ہونے پر مجوزہ جرمانہ نہ لیا جائے۔پاکستان منصوبہ مکمل کرنے کے لئے پر عزم ہے۔25فروری 2014کو شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی میں بیان دیا کہ عالمی اور امریکی پابندیوں کے باعث اس منصوبے پر ابھی عملدرآمد ممکن نہیں ہے۔منصوبے کو ایران سے پابندیوں کے خاتمے کے بعد مکمل کیا جائے گا۔ مئی 2014میں وزیر اعظم نواز شریف نے بھی ایران کا دورہ کیا اور اس منصوبے کو مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔اب عالمی اور امریکی پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایک بار پھر اس منصوبے کی تکمیل کی امید جاگ اٹھی ہے ۔اس منصوبے کی تکمیل سے پاکستان میں توانائی بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

گیس منصوبہ

مزید :

صفحہ آخر -