شہد کی مکھیاں بھی ’جہاز‘بن سکتی ہیں،سائنسدانوں نے حیران کن انکشاف کردیا

شہد کی مکھیاں بھی ’جہاز‘بن سکتی ہیں،سائنسدانوں نے حیران کن انکشاف کردیا
شہد کی مکھیاں بھی ’جہاز‘بن سکتی ہیں،سائنسدانوں نے حیران کن انکشاف کردیا

  

لندن (نیوز ڈیسک) کیڑے مار ادویات کا استعمال جہاں انسانوں کے لئے بیماریوں کا سبب بنتا ہے وہیں دیگر مخلوقات بھی ان کے اثرات سے محفوظ نہیں ہیں۔ برطانیہ کی نیوکاسل یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ شہد کی مکھیاں نکوٹین سے ملتے جلتے اثرات والی کیڑے مار ادویات کے نشے میں اسی طرح مبتلا ہوجاتی ہیں جیسے انسان سگریٹ کے نشے میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ بعض کیڑے مار ادویات میں imidacloprid اورthiamethoxam کیمیکل پائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے ان ادویات میں سگریٹ میں پائے جانے والے مادے نکوٹین جیسی خصوصیات بھی موجود ہوتی ہیں۔ شہد کی مکھیاں جب ایسے پودوں پر پہنچتی ہیں جن پر یہ ادویات استعمال کی گئی ہوں تو وہ نکوٹین جیسے کیمیکلز کی طرف متوجہ ہوتی ہیں۔ مکھیاں ان کیمیکلز کی عادی ہوجاتی ہیں اور پھر بار بار ان کی تلاش میں انہیں پودوں کا رْخ کرتی رہتی ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق مکھیوں کا یہ نشہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے انسان مختلف قسم کے نشوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ سویڈن میں کی گئی ایک اور تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ نشہ مکھیوں کی آبادی میں بھاری کمی کا باعث بن رہا ہے۔ اس کی وجہ سے مکھیوں میں ملکہ مکھی کی پیدائش کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے چھتوں کے سائز میں اضافہ رک جاتا ہے اور مکھیوں کی آبادی تقریباً نصف تک کم ہوسکتی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -