سندھ حکمراں زرعی اجناس کی قیمتیں مقرر نہ کر کے معاشی قتل کر رہے ہیں:جماعت اسلامی

سندھ حکمراں زرعی اجناس کی قیمتیں مقرر نہ کر کے معاشی قتل کر رہے ہیں:جماعت ...

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ حکومت آبادگاروں کو اپنی زرعی جنسوں کے مناسب نرخ نہ دیکر ان کا معاشی قتل اور سندھ کی زراعت کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے، حکومت نے اپنی بے حسی اور زراعت دشمنی پر مبنی اپنی پالیسیوں کو ختم نہ کیا تو کاشتکار اپنے حقوق کیلئے بڑی تحریک چلائیں گے۔حکومت سندھ ہوش کے ناخن لے، گنے سمیت آبادگاروں کو اپنی فصلوں کو مناسب ریٹ کم از کم 185روپے دیکر انہیں فاقہ کشی سے بچایاجائے اور زراعت کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کرے، 2018حکمرانوں کیلئے ٹیسٹ کیس ہوگا،ہوش کے ناخن نہ لیے توسندھ میں شگرکا بحران پیدا ہوگا۔ سندھ کا گنا پنجاب کے مقابلے میں زیادہ شگرپیداکرتا ہے مگریہاں کے شگرملزمالکان پنجاب میں 182روپے فی من گنے کے مقابلے میں172 بھی دینے کیلئے تیارنہیں ہیں جوکہ سندھ کے ھاریوں کے ساتھ سراسرظلم ہے۔جماعت اسلامی مظلوم عوام کی آواز ہے، کسانوں اور ہاریوں کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے، ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیں گے۔ ان خیالات کا اظہارجماعت اسلامی سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی اور سندھ آبادگاربورڈ کے صدر رئیس عبدالمجیدخان نظامانی نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ سندھ آبادگاربورڈ کے صدر رئیس عبدالمجیدخان نظامانی کی قیادت میں آبادگاروں وکسانوں کے ایک نمائندہ وفد نے اتوار کو قباء آڈیٹوریم پہنچ کر جماعت اسلامی سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی سے ملاقات کی۔ وفد میں نواب زبیرخان ٹالپر،علی پلھ ایڈووکیٹ،میرعبدالکریم،حاجی سجاد میمن،خالد قائمخانی،عبدالرحیم درس شامل تھے جبکہ جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکریٹری ممتاز حسین سہتو،ناظم عمومی محمددین منصوری اورسیکرٹری اطلاعات مجاہد چنا بھی موجود تھے۔ آبادگاروں کے وفد نے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو آبادگاروں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک اور گنے کے مناسب ریٹ نہ دینے سمیت کسان تحریک کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ جماعت اسلامی سندھ کے رہنماؤں نے آبادگاروں کوخوش آمدیداور اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ امیر جماعت اسلامی سندھ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقینے پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے برعکس سندھ میں آبادگاروں کے ساتھ ناانصافیاں کی جارہی ہیں، سندھ میں گذشتی کئی فصلیں خسارہ دے رہی ہیں دوسری طرف حکومت سرمایہ دار طبقے کو فائدہ پہنچانے کیلئے نہ صرف گنے کے آبادگاروں کو نرخ کم دیئے جارہے ہیں بلکہ سبسڈی بھی کاشتکاروں کی بجائے سرمایہ دار طبقے اور ملز مالکان کو دی جارہی ہے۔ خود وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے کسان پیکیج میں اعلان کردہ گنے کے فی من 182روپے فی من پر عمل درآمد نہیں کیا جارہاہے۔ سندھ میں 65فیصد افراد زراعت سے وابستہ ہیں،سندھ کے کسان غربت وافلاس کا شکار ہیں اس کی حکومت کو کوئی بھی فکر نہیں ہے۔اپنی فصلوں کا منافعہ کاشتکاروں کو دینے کی بجائے سارا سرمایہ حکومتی اختیار وکرپشن کے تحت مفادپرستوں کے حوالے کیا جارہاہے،جواقتدارکے ذریعے دولت بنانے کے چکر میں ہیں۔حکمران طبقہ چورکو طاقتور اور چوکیدارکاراستہ روکا جارہاہے۔آج سندھ کے کاشتکاروں کومجبورکیا جارہاہے کہ وہ لوگ زراعت کے شعبہ کو چھوڑدیں۔دنیاں بھرمیں زراعت کوفروغ اورکاشتکاروں کو سبسڈی دی جاتی ہے مگر یہاں مفادپرست طبقہ ملکرزراعت کو تباہ اورکاشتکاروں کو دیوارکے ساتھ لگایاجارہاہے۔جماعت اسلامی مظلوموں کی حامی اورہمیشہ مظلوموں کیلئے آواز اٹھایا ہے،سندھ کے آبادگاروں کوسراج الحق کا یہی پیغام دینا چاہتاہوں کہ سندھ کے ھاریوں کی جدوجہدمیں بھرپورشرکت اوران کے مسائل کے حل ہونے تک یہ جدوجہد جاری رہنی چاہئے۔ جماعت اسلامی نے ماضی میں بھی کاشتکاروں کی حمایت کی ہے آئندہ بھی کریں گے۔ رواں ماہ 8جنوری کو جماعت اسلامی کی اپیل پر پورے سندھ میں یوم احتجاج اور احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔سندھ آبادگار بورڈ کے صدر رئیس عبدالمجید نظامانی نے کہا کہ پوری دنیا میں مہنگی ترین زراعت پاکستان کی ہوتی ہے،انڈیا اپنے زراعت پیشہ افرادکو 66بلین ڈالر سبسڈی دیتا ہے مگریہاں پرکاشتکاروں کا استحصال اورسارا منافعہ سرمایہ دارطبقہ کو پہنچایا جارہاہے۔یہان ایک ٹیوب ویل لگانے میں چارسے پانچ لاکھ کاخرچہ ہوتا ہے جبکہ انڈیا میں سوائے سامان خریدنے کے کچھ بھی خرچہ نہیں ہے۔دوتین سالوں سے سندھ میں گنے کے آبادگار سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں مگرحکمران بے حسی کی عملی تصویربنے ہوئے ہیں۔ایک درجن سے زائدشگرملزحکمران طبقے کی ملکیت ہونے کی وجہ سے گنے کے کاشتکاروں کو لاگت کردہ ریٹ بھی نہیں مل پارہے ہیں اس لیئے گنے کی کاشت میں بھی واضح کمی ہوچکی ہے جس کی وجہ سے پنگریو،ٹھٹہ،کھوسکی،محسن تابانی شگرملزبند ہوچکی ہیں۔سیکشن 16اے کے تحت حکومت کو فصل آنے سے پھلے ہرحال میں نرخ کا اعلان کرنا ہوتاہے مگرحکومت سوتی رہی۔جب کاشتکارکورٹ میں گئے تو نرخ کااعلان کیا گیا۔حکومت رعایا کی ماں ہوتی ہے مگر سندھ حکومت خود پارٹی بن کرکاشتکاروں کی بجائے سرمایہ دارطبقے کی پشت پناہی کرکے زراعت کو تباہ کررہی ہے جوکہ افسوسناک امر ہے۔انہوں نے کہا کہ زراعت سمیت کسی بھی شعبے کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا تو پھر معیشت ترقی نہیں کرے گی۔ملزمالکان،مزدوروں اورکسانوں کو اپنا حق ملنا چاہئے۔آبادگاررہنماوں نے مطالبہ کیا کہ جب تک آبادگاروں کوگنے کے فی من185روپے نہ دیا جائے اس وقت تک ملزمالکان کو سبسڈی ہرگز نہ دی جائے کیونکہ اس وقت بھی شگرملزکاشتکاروں سے صرف 160روپے میں فی من گنا خریدا جارہاہے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -