خیبر پختونخوا کی زمین سونا اگلتی ہے اور معدنیات کے ذخائر ہیں:حیدر ہوتی

خیبر پختونخوا کی زمین سونا اگلتی ہے اور معدنیات کے ذخائر ہیں:حیدر ہوتی

  

تخت بھائی ( نمائیندہ پاکستان) عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختو نخوا کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ پختونوں اور صوبے کی حقوق کی جنگ لڑی ہے اور اخری دم تک لڑیں گے کسی سے خیرات نہیں اپنے وسائل پر اپنا حق مانگتے ہیں باچاخان اور ولی خان پر غداری کے الزامات لگانے والے دنیا بھر کے حکمران آج عدم تشدد کی بات پر اتر ائے ہیں پختون قوم کو ایک سازش کے تحت پسماندہ رکھا گیا ہے صوبہ پختو نخوا کی زمین سونا اگلتی ہے یہاں معدنیات کی خزانے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی پختون قوم اپنے حقوق کے لیے دربدر ٹھوکریں مارنے پر مجبور ہیں پاک چائنا اقتصادی راہدری روٹ پر کسی قسم سودابازی قبول نہیں کریں گے اور آقتصادی روٹ کو متنازعہ نہ بنائیں اے این پی نے ہر دور میں پختون قوم کی حقوق کے لیے کرسی کو لات ماری ہے وفاقی حکومت مغربی روٹ کی تعمیر فی الفور شروع کریں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے صوبائی حکومت نے پختو نخوا میں کوئی قبل ذکر منصوبہ شروع نہیں کیا گیا ہے اور صوبائی حکومت کو بنی گالہ سے چلایا جاتا ہے کارکن پارٹی کی ترقی کے لیے عوام سے رابطہ رکھیں اور پارٹی پروگرام گھر گھر پہنچانے کا سلسلہ تیز کریں آنے والا دور ایک بار پھر عوامی نیشنل پارٹی کا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے 27کے ارگنائز اور ضلع کونسل کے رکن جواد خان ٹکر کی قیادت میں ایک وفود کے ساتھ ہوتی ہاوس میں ملاقات کرتے ہوئے کہا وفد میں یونین کونسل پیر سدی کے مختیار احمد کھٹانہ ،اے این پی کے رہنماء سرفراز کاکڑ، صدر نور الھادیٰ ،عدنان خان اور جنرل سیکرٹری ظفر خان شامل تھے حیدر خان ہوتی نے کہا کہ باچا خان اور خان عبد الولی خان نے سارے عمر پختون قوم کی وحدت کی بات کی ہے اور پختونوں کی حقوق حاصل کرنے کے لیے جیل کی صعوبتیں برداشت کئے اور اپنی زندگی کی زیادہ تر وقت جیلوں میں گزارہ لیکن باچا خان اور رہبر تحریک خان عبد الولی خان نے پختون قوم کو عدم تشدد کا درس دیتے رہے اور عدم تشدد کی پالیسی پر ان پر غداری کے الزمات محالفین نے لگا ے لیکن آج ثابت ہوا کہ ہمارے اکابرین کی بات سو فیصد درست ثابت ہوئی کہ پورے دنیا اج عدم تشدد کی بات کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان بننے سے لیکر ہماری حکومت تک پختون قوم کو اپنے حقوق سے ایک سازش کے تحت محروم رکھا گیا تھا بلکہ پختون قوم کو اپنا نام دینے کے لیے بھی کوئی تیار نہیں تھا انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں صوبے میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھا دیا ہے اور صوبے کے تمام اضلاع میں ترقیاتی کام زور و شور سے جاری تھے انہوں نے کہا کہ ہماری دور حکومت میں دھشت گردی زوروں پر تھی اور ملک بھر میں پچھلے حکمرانوں کی غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے امن و امان کی حالت ابتر ہو چکی تھی بلکہ ملاکنڈ ڈویژن تو طالبان نے کنٹرول کیا تھا لیکن اے این پی کی کامیاب حکمت عملی کے بدولت سوات اپریشن مکمل ہوا اور سوات اپریشن سے ہمارے 25لاکھ سے زائد بہن بھائی متاثر ہوے لیکن صوبائی حکومت کی اعلیٰ کارکردگی اور عوام کی تعاون سے ان کی بھر پور خدمت کی اور ان کے تمام ضروریات پورا کیے لیکن اپریشن ضرب غضب کے دوران جو ہمارے بھائی اور بہنیں متاثر ہو چکے ہیں اج تک وہ در بدر ٹھوکریں کھا کر ذلیل و خوار ہو رہے لیکن صوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتا انہوں نے کہا پاک چین راہداری منصوبہ کو مرکزی حکومت متنازعہ نہ بنایں اور مغربی روٹ کو ائے پی سی کے فیصلوں کے مطابق جن میں اقتصادی روٹ گوادرسے براستہ تربت،خضدار،قلات،ڈیرہ اسماعیل خان، کوہات،پشاورایبٹ اباد گلگت اور پھر شاہراہ ریشم سے چین تک جائے گا اور اسی روٹ کے ساتھ ساتھ ریلوئے ٹریک،تیل وگیس کی پائپ لائن،فائبر اپٹیکل کیبل، بجلی کی توانائی منصوبے ،ایل این جی اور ٹرنسمیشن لائن شامل ہیں ان پر بھی کام شروع کریں اور جہاں جہاں پر اس میں انڈسٹریل ذون ہیں ان کی نشا ندہی کی جائے انہوں نے کہا کہ اگر اس میں ایک بھی منصوبہ کم ہونے کی کوشش کی گئی تو اے این پی اس کا سیاسی میدان میں بھر پور مقابلہ اور مزاحمت کرے گی انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے حکومت میں صوبے کو نام دی مگر موجودہ حکومت نے تعلیمی نصاب سے پشتو زبان کی اخراج کرنا شروع کیا جو کہ قابل مذمت ہے انہوں نے خبردار کرتے ہوے کہا کہ پشتو زبان کو اگر نصاب سے نکالا گیا تو ان کے نتائج خطرناک ہو نگے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت چھوٹے صوبوں کی حق تلفی بند کریں اور اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو مکمل خود مختاری دیں انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ اپس کی اختلافات ختم کرکے پارٹی کی ترقی و فعال بنانے کے لیے کمٹیاں بنائیں اور عوام کے ساتھ رابطے کریں عوام کی نظریں اس وقت اے این پی پر لگے ہوئی ہیں اور انے والا دور ایک بار پھر اے این پی کا ہو گا انہوں نے کہا کہ جنوری کے اخری ہفتے میں پی کے 27میں ہزاروں عوام اے این پی میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کریں گے انہوں نے کہا کہ اس سال باچا خان با با اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی برسی 26جنوری کو چارسدہ میں شایان شان طریقے سے منائیں گے تمام کارکنوں نے برسی میں شرکت کو یقینی بنانے کی تلقین کی

مزید :

پشاورصفحہ اول -