وائس چانسلر ،رجسٹرار ،چیئرمین ،ڈائریکٹر کے علاوہ پردہ نشینوں کے نام بھی سامنے آ گئے

وائس چانسلر ،رجسٹرار ،چیئرمین ،ڈائریکٹر کے علاوہ پردہ نشینوں کے نام بھی ...

  

ملتان ( ملک اعظم سے ) نیب ملتان بیورو کی جانب سے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی لاہور کیمپس سکینڈل میں نامزد کیے گئے دیگر ملزمان کے نام بھی سامنے آگئے ہیں ‘ ایک ارب مالیت کے اس سکینڈل میں بی زیڈ یو کے وی سی ‘ رجسٹرار ‘ چیئرمین منیر بھٹی ‘ ڈائریکٹر حمزہ منیر بھٹی کے علاوہ سابق صوبائی وزیر تعلیم زعیم قادری کے پرسنل اسسٹنٹ محمد گلستان ‘ سربراہ ویسٹ کانٹینیٹل ایجوکیشن گروپ شہزاد منور کے فرنٹ مین شہزاد منور ‘ طاہر اقبال چوہدری ‘ مظہر اقبال ‘ عبدالعلیم بھٹی ‘ رابعہ بھٹی ‘ جویریہ رسول اور سدرہ شفیع کو نامزد کیا گیا ہے ‘ جبکہ اس ریفرنس میں سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر اعجاز منیر ‘ ممبران سنڈیکیٹ اور بی زیڈ یو کے لاہور کیمپس کی منظوری دینے والی صوبائی سطح کی انتہائی اہم شخصیت کے نام گول کردئیے گئے ۔ نیب اس ریفرنس کے ملزمان میں سے وی سی بی زیڈ یو ‘ ڈائریکٹر لاہور کیمپس حمزہ منیر بھٹی کے سوا کسی اور ملزم کو گرفتار نہ کر سکا ۔قومی احتساب بیورو ملتان کی رحم دلی سے مستفید ہونے والوں میں باقی 8 ملزمان تاحال قانون کی گرفت سے آزاد ہیں ۔ معلوم ہوا ہے کہ نیب ملتان بیورو میں بی زیڈ یو کے لاہور کے کیمپس میں بڑے بڑے ناموں کو وعدہ معاف گواہ بننے پر ریفرنس میں شامل نہیں کیا ‘ جبکہ اس صوبائی شخصیت جس نے اس ریفرنس کی منظوری دی ‘انکے نام کا دور دور تک ذکر بھی نہیں کیا گیا ‘ نیب ریفرنس میں وزیر تعلیم رانا مشہود کے کردار کا بھی کہیں ذکر نہیں کیا گیا ‘ وزیرتعلیم پہلے لاہور کے دورے کرتے رہے اور پروٹوکول حاصل کرتے رہے ‘ بعدازاں اسمبلی فلور پر اس کیمپس کو غیر قانونی قرار دیا اور اس کیخلاف ریفرنس نیب کو بھجوانے کا اعلان کر دیا ۔ اسی طرح اس ریفرنس میں بی زیڈ یو کے صرف وائس چانسلر اور رجسٹرار کو نامزد کیا گیا ‘ جبکہ اس کیمپس کے پراسس میں شامل سنڈیکیٹ کو صرف اس لیے ریلیف دیا گیا کہ وہ وعدہ معاف گواہ بن جائیں ۔ اس حوالے سے جب نیب کے پی آر او سے موقف کیلئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کال ریسیو نہ کی ۔

مزید :

ملتان صفحہ اول -