گنے کی قیمت 184مقرر کر کے ایکسپورٹ پر سبسڈی ختم کی جائے :ڈاکٹر عارف علوی

گنے کی قیمت 184مقرر کر کے ایکسپورٹ پر سبسڈی ختم کی جائے :ڈاکٹر عارف علوی

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گنے کی قیمت 185مقرر کی جائے اور گنے کے ایکسپورٹ پر سبسیڈی ختم کی جائے، تھر پارکر میں پینے کے پانی کا بحران شدت اختیار کرتا جارہا ہے سندھ حکومت ہوش کے ناخن لے،بلدیاتی حکومتوں کے پاس فنڈز نہیں ہیں سارے اختیارات وزیر بلدیات کو سونپ دیئے گئے ہیں بلدیاتی نمائندوں کے پاس اختیارات نہیں ہوں گے تو وہ کام کیسے کریں گے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے سندھ اسمبلی میں کرمنل پراسیکیوشن بل پاس کیا گیا ہے اس کی ہم مذمت کرتے ہیں، ان خیالات کا اظہار انھوں نے اتوار کے روز اپنی رہائشگا ہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ تحریک انصاف کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ثمر علی خان، سندھ آباد گار ایکشن کمیٹی کے رکن عبدالمجید، زبیر تالپور،اور دیگر سندھ کے آبادگار رہنما بھی موجود تھے۔ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ شوگر کا بحران اس دن سے آیا ہے جب سے بیوپاری حاکم بن گئے ہیں۔کاشتکاروں کو سہولتیں دینے کے بجائے شوگر مل کے مالکان کو سہولتیں دی جارہی ہیںآصف علی زرداری سمیت دیگر شوگرمل مالکان کیا بہت غریب ہوگئے ہیں جو انھیں شوگر پر سبسیڈی دی گئی ہے،کاشتکاروں کو اصلی ریٹ نہیں مل رہا ہے۔ جس کی وجہ سے گنے کے کاشتکاروں میں بے چینی پائی جاتی جاتی ہے۔حکومت فوری طور پر گنے کی قیمت185 روپے فی من مقرر کرے اور گنے کی ایکسپورٹ پر سبسیڈی ختم کی جائے۔انھوں نے کہا کہ تھر پار کر میں پینے کے پانی کا بحران آیا ہوا اور بحران کی شدت میں روز بروز اضافہ ہورہاہے جس کی وجہ سے وہاں اموات ہورہی ہیں۔وہاں پچاس فیصد آراو پلانٹ کام نہیں کر رہے ہیں۔ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات تو ہو گئے ہیں لیکن بلدیاتی حکومتوں کو اختیارات نہیں دیئے گئے سارے اختیارات بلدیاتی وزیر کے پاس ہیں بلدیاتی حکومتوں کے پاس فنڈز نہیں منتخب بلدیاتی نمائندے کیسے کام کریں گے۔حکومت بلدیاتی حکومتوں کو اختیارات دے۔کراچی کی بلدیاتی حکومت کا 119کروڑ کابجٹ ہے۔ اور اختیارات وزیر بلدیات اور ڈی ایم سیز کے پاس ہیں۔بلدیات میں سب سے زیادہ رقم کا استعمال بل بورڈزاور ایڈورٹائزنگ کی مد میں ہورہا اور یہ کھربوں روپے کی رقم ہے لیکن اس کا حق کراچی کو نہیں مل رہا اگر یہ پیسہ کراچی کے لوگوں کو مل جائے تو کراچی کے پاس اپنے وسائل آجائیں گے۔کراچی کو کوڑے کرکٹ کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے ،حکومت بیان بازی کے بجائے کراچی کے معاملات پر فوری توجہ دے۔ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی جانب سے کرمنل پراسیکیوشن بل منظور کرائے جانے کی ہم مذمت کرتے ہیں۔

مزید :

کراچی صفحہ آخر -