جلد فرانزک سائنس یونیورسٹی بنائیں گے ،ڈی جی فرانزک ایجنسی ،ایسی لیبارٹریاں تمام صوبوں میں بننی چاہئیں،چیف جسٹس بلوچستان

جلد فرانزک سائنس یونیورسٹی بنائیں گے ،ڈی جی فرانزک ایجنسی ،ایسی لیبارٹریاں ...
 جلد فرانزک سائنس یونیورسٹی بنائیں گے ،ڈی جی فرانزک ایجنسی ،ایسی لیبارٹریاں تمام صوبوں میں بننی چاہئیں،چیف جسٹس بلوچستان

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد نور مسکانزئی نے کہا ہے کہ فرانزک سائنس ایجنسی کی طرز کی جدید لیبارٹریاں تمام صوبوں میں قائم ہونی چاہئیں۔ ِوہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (پی ایف ایس اے )اور برٹش ہائی کمیشن کے اشتراک سے لاہور کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ ڈی این اے سٹریٹجی سمپوزیم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔چیف جسٹس بلوچستان نے مزید کہا کہ انصاف کی فراہمی میں فرانزک شہادتوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ جدید سائنسی اور تکنیکی سہولیات نظام عدل کے لئے معاون ثابت ہورہی ہیں جن سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے ۔سیمپوزیم کے افتتاحی اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی رانا مقبول احمد ، سیکرٹری پراسیکیویشن علی مرتضیٰ، ڈی جی نیب میجر (ر) سید برہان علی ، پراسیکیوٹر جنرل پنجاب احتشام قادر، ایڈیشنل آئی جی کاﺅنٹر ٹیرازم ڈیپارٹمنٹ رائے طاہر سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ملکی اور غیر ملکی سائنس دانوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔سیمپوزیم سے خطاب میں وزیراعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی وسابق آئی جی رانا مقبول احمد نے کہا کہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی نے قلیل مدت میں بڑی کامیابیاں سمیٹی ہیں انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق انصاف کی فراہمی کے نظام میں انقلاب برپاہورہاہے۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی تمام انویسٹی گیشن ایجنسیز کوبھرپور رہنمائی فراہم کررہی ہے۔ 8ہزارسے زائد قانون نافذکرنے والے اداروں کے نمائندگان کو فرانزک سائنس کی تربیت دی گئی ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ،ڈائریکٹر جنرل پنجاب پی ایف ایس اے ڈاکٹر محمد اشرف نے اپنے خطاب میں بتایا کہ پنجاب کے 8ڈویژنل ہیڈکوارٹرز نے 266ملین روپے کی لاگت سے سیٹ لائٹ سٹیشنز قائم کئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے سائنس دانوں سمیت 8ہزار سے زائد افراد کو فرانزک سائنس کی تربیت دے چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک سال میں ایوڈیننس کولیکشن یونٹس کو پنجاب کے 36اضلاع تک پھلائیں گے۔ ڈاکٹر اشرف نے بتایا کہ امریکہ ، ناروے ، برطانیہ، مصر اور متعددممالک کو مختلف مقدمات میں مدد فراہم کرچکی ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جلد ہی فرانزک سائنس یونیورسٹی اور ٹریننگ لیبارٹری کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ ڈی این اے سیمپلز کا ڈیٹا بینک مکمل کرنے کے لئے قانون سازی کرنا ہوگی۔سیمپوزیم کے خطاب میں شرکا ءنے اس امر کی تعریف کی کہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی سے نہ صرف ملزمان کو سزا دلوا رہی ہے بلکہ جدید انفراسٹرکچر کی مدد سے بے گناہوں کی داد رسی بھی کررہی ہے۔

مزید :

لاہور -