وہ وقت جب امریکہ نے یورپی ملک پر 4 ایٹم بم گرادئیے، تباہی سے کیسے بچ گیا؟ انتہائی حیران کن حقائق جانئے

وہ وقت جب امریکہ نے یورپی ملک پر 4 ایٹم بم گرادئیے، تباہی سے کیسے بچ گیا؟ ...
وہ وقت جب امریکہ نے یورپی ملک پر 4 ایٹم بم گرادئیے، تباہی سے کیسے بچ گیا؟ انتہائی حیران کن حقائق جانئے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) آج سے پچاس سال قبل جب روس بھی ایک سپر پاور تھا اور امریکہ اس سے یہ طاقت چھیننے کے درپے تھا، اس وقت دونوں ملکوں میں ہمہ وقت جنگ چھڑنے کا خدشہ رہتا تھا اور دونوں ممالک ممکنہ جنگ کے لیے پیشگی اقدامات کرتے رہتے تھے۔ اسی دوران 16جنوری 1966ءکو ایک ایسا واقعہ ہوا کہ دنیا کی تباہی ہوتے ہوتے ٹل گئی۔ ہوایوں کہ امریکہ نے روس کے ساتھ ممکنہ جنگ کے خدشے کے پیش نظر 6سال سے ایک مشن شروع کر رکھا تھا جس کا نام کروم ڈوم(Chrom Dome) تھا۔ اس مشن میں امریکی فوج کے طیارے ہائیڈروجن اور ایٹم بم لے کر طویل پروازیں کرتے تاکہ روس کی طرف سے ممکنہ ایٹمی حملے کی صورت میں اسے فوری طور پر جواب دیا جا سکے۔ 16جنوری 1966ءکو اس مشن پر امریکہ کا ایک بی 52سٹارٹوفورٹریس طیارہ امریکی ریاست نارتھ کیرولینا میں واقع سیمور جانسن ایئرفورس بیس سے 4ہائیڈروجن بم لے کر اڑا۔ طیارے کا یہ مشن 24گھنٹے پر محیط تھا ۔

برطانوی اخبار ”ڈیلی میل“ کی رپورٹ کے مطابق اس طیارے نے 24گھنٹے تک مسلسل اٹلانٹک کے اوپر پرواز کی اور اٹلی کے مشرقی ساحل تک کا چکر لگا کر واپس امریکہ کا رخ کیا۔ مشن کی طوالت کے باعث جہاز کے پائلٹ نے فضاءمیں ہی 4بار طیارے میں ایندھن بھرنا تھا۔ دنیا تباہی کے دہانے پر اس وقت پہنچی جب جنوب مشرقی سپین کے علاقے میں 31ہزار فٹ کی بلندی پر ایندھن بھرنے کی کوشش میں یہ بی 52طیارہ فضاءمیں موجود کے سی 135سٹارٹ ٹو ٹینکر طیارے کے ایندھن بھرنے والے بڑے قیف نما حصے سے ٹکرا گیا ۔ طیاروں کے ٹکرانے کا واقعہ 17جنوری 1966ءپیش آیا۔ تصادم کے وقت دونوں طیاروں کی رفتار لگ بھگ 500میل فی گھنٹہ تھی۔ کے سی 135سٹارٹ ٹو ٹینکر طیارے کی طرف بی 52طیارہ ایندھن لینے کے لئے بڑھ رہا تھا لیکن اس کی رفتار زیادہ ہونے کی وجہ سے ٹکر ہو گئی۔ طیارے کے پائلٹس نے پیراشوٹس کے ذریعے چھلانگیں لگا دیں جبکہ طیارہ چاروں ہائیڈروجن بموں کے ساتھ انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ زمین پر آ کر گرا اور پاش پاش ہو گیا، لیکن خوش قسمتی سے بم نہ پھٹے اور تباہی ٹل گئی۔ دراصل ہائیڈروجن بموں کو چلانے سے پہلے ان کی الیکٹرک وائرنگ کی جانا تھی، اور یہ وائرنگ نہ ہونے کی وجہ سے ہی قیامت خیز سانحہ رونما نہیں ہوا، البتہ سینکڑوں مربع میل کے علاقے پر تابکار مادہ پھیل گیا، جس کی صفائی امریکا آج تک کر رہا ہے۔ اگر چاروں ہائیڈروجن بم پھٹ جاتے تو لاکھوں لوگ آن واحد میں لقمہ اجل بن جاتے، جبکہ مزید کروڑوں اس کی تابکاری سے متاثر ہوتے، اور شاید ہماری دنیا ایسی کبھی نہ ہوتی جیسی آج نظر آتی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -