سعودی وزارت لیبر کا فیصلہ: قاضی نے پاکستانی ڈرائیور کے خلاف کفیل کی حمایت میں فیصلہ سنادیا

سعودی وزارت لیبر کا فیصلہ: قاضی نے پاکستانی ڈرائیور کے خلاف کفیل کی حمایت میں ...
سعودی وزارت لیبر کا فیصلہ: قاضی نے پاکستانی ڈرائیور کے خلاف کفیل کی حمایت میں فیصلہ سنادیا

  

جدہ (ویب ڈیسک)سعودی عرب کی وزارت لیبراینڈسوشل افیئرزنے اپنے مقامی کفیل کے حق میں فیصلہ دے کرپاکستانی ڈرائیورکے حقوق کے تحفظ کی دھجیاں اڑادیں،جس پرپاکستانی محنت کشوں سمیت دیگرغیرملکیوں میں شدیدتشویش پائی جارہی ہے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں سعودی عرب کی وزارت لیبراینڈسوشل افیئرزنے اپنے سعودی شہری کفیل کی حمایت میں حق سچ کاگلاگھونٹ کرظالم کوفتح دلادی۔سعودی عرب کی لیموزین کمپنی میں گزشتہ 16سالوں سے بطورڈرائیورکام کرنے والے پاکستانی محنت کش محموداحمدنے یہاں اپنی خصوصی گفتگو میں بتایا کہ وہ16سالوں سے سعودی عرب کی لیموزین کمپنی میں بطورڈرائیورکام کررہے تھے۔لیکن انہیں نہیں معلوم تھا کہ کمپنی قوانین میں ان کی ماہانہ تنخواہ ،میڈیکل سمیت دیگرحقوق بھی ہیں۔کمپنی کاکفیل بڑی مہارت کے ساتھ ان سادہ لومحنت کشوں سے چاریاپانچ مہنیوں بعدمختلف لیٹرزپرانگوٹھا ،یادستخط کروالیتے،جس میں درج ہوتاکہ میں نے اپنی ماہانہ تنخواہ ودیگرحقوق وصول کرلیے ہیں۔محموداحمدنے بتایا کہ لیموزین کمپنی میں بطورڈرائیورکام کرنے کے دوران ان کے ٹریفک چالان بھی ہوئے۔جس کی مدمیں انہوں نے 19400ریال جمع کروائے۔اسی طرح میرے اقامے کی مدت ختم ہوئی تواقامہ تجدید کروانے کیلئے10ہزارریال کفیل کودیے۔لیکن کفیل نےاس کے باوجود اقامہ تجدید نہیں کیا۔ محمود احمد نے بتایا کہ لیموزین کمپنی میں میری 16 سالوں کی تنخواہ 76800 ریال بنتی ہے جبکہ 150 ریال ماہانہ کے حساب سے حقوق 28800 ریال بنتے ہیں لیکن جب اپنے کفیل سے حق مانگا تو وہ میرے خلاف ہوگئے جس پر کفیل نے ان کا اقامہ حروب کروادیا۔ محمود نے بتایا کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ کفیل نے ان کا اقامہ حروب کروادیا ہے تو انہوں نے انصاف کیلئے وزارت لیبر اینڈ سوشل افیئرز کو درخواست دی۔ وزارت کے زیر تحت کیس کی 4یا 5 سماعت ہوئیں۔ مختلف سماعتوں میں قاضی نے ان کے حق میں فیصلے دئیے لیکن بعدازاں کفیل کی حمایت میں ان کے خلاف فیصلہ دے دیا۔ پاکستانی شہری محمود احمد نے وزیراعظم نواز شریف اور سعودی عرب کے خادم الحرمین شریفین اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے کیونکہ اب ان کے پاس اپنے بچوں کی کفالت کرنے کیلئے اقامہ تجدید کروانے کیلئے بھی پیسے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ 16 سالوں سے ماں باپ، بیوی بچوں اور بہن بھائیوں سے بھی نہیں ملے بلکہ ان طویل عرصے میں لاکھوں ریال کما کر لیموزین کمپنی کو دئیے ہیں لیکن اس کے باوجود نہ ان کا اقامہ تجدید کیا گیا اور نہ ہی انصاف ملا۔ واضح رہے سعودی عرب میں اس طرح کے محنت کش پاکستانیوں کی کثیر تعداد موجود ہے جن کے ساتھ سعودی شہری غلاموں جیسا سلوک کرتے ہیں۔

مزید : عرب دنیا