2017ء کشمیر کے نام

2017ء کشمیر کے نام
2017ء کشمیر کے نام

  

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے فرضی جھڑپ کے دوران مزید 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا۔ اطلاع ملتے ہی سینکڑوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور قابض فورسز پر پتھراوکیا، آزادی اور اسلام کے حق میں نعرے لگائے، جھڑپوں میں 7 افراد زخمی ہو گئے۔ حریت قیادت نے بھارتی فوج کے ہاتھوں بے گناہ نوجوانوں کو شہید کرنے پر بھارتی فوج اور حکومت کی شدید مذمت کی ہے۔ متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے بھی نوجوانوں کو شہید کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غاصب دشمن سے زیادہ اپنی صفوں میں چھپے دشمنوں سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں مزید تین نوجوانوں کو شہید کرنے کی مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں مزید تین کشمیری نوجوانوں کو شہید کرکے دہشت گردی کی انتہا کردی ہے۔ بھارتی قابض افواج، ریاستی دہشت گردی کے ہتھکنڈوں کے طور پر مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کے خلاف انسانیت سوز مظالم میں مصروف ہیں۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی منظم نسل کشی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ پاکستان ایک مرتبہ پھر اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسل کشی روکنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی کا موجودہ دور نوجوان کشمیری رہنما برہان احمد وانی کی شہادت کے بعد شروع ہوا۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں سینکڑوں کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔بھارتی قابض افواج مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کو قتل کرنے کی غرض سے مہلک ترین ہتھیاروں کا استعمال کر رہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج نے جان بوجھ کر پیلٹ گنز کے استعمال سے کشمیریوں کو شہید کیا۔ پیلٹ گنز کے استعمال سے ایک ہزار سے زائد کشمیری ہے۔ بینائی سے مکمل اور جزوی طور پر محروم ہو چکے ہیں۔ امیر جماعت الدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعیدنے اعلان کیا ہے کہ 2017ء کا سال کشمیر کے نام کرتے ہیں۔ جماعت الدعوۃ کی شوریٰ کے اجلاس میں فیصلے کئے گئے ہیں کہ کشمیریوں کی آواز دنیا تک پہنچانے کے لئے ملک بھر میں تمام سرگرمیاں اور پروگرام کشمیر کے حوالے سے کئے جائیں۔ جماعتی تشخص سے بالا تر ہوکر تحریک آزدی جموں و کشمیر کے نام سے مہم چلائی جائے گی، جس میں تمام دینی و سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملایا جائے گا۔ کشمیری پاکستانی پرچم اٹھا تے ہیں، ہم بھی ہر پروگرام میں جماعت الدعوۂ کی بجائے پاکستان کا پرچم اٹھائیں گے۔پشاور تا کراچی کشمیر پربڑے پروگرام اور جلسے کریں گے، تاکہ حکومت پاکستان کشمیریوں کی رسمی تائید کے بجائے اپنا بھرپور کردار ادا کرے ۔ کشمیری انڈین آرمی کے ظلم کے مقابلے میں قربانیاں پیش کررہے ہیں،مگر پاکستان کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کا رویہ قابل افسوس ہے۔ بانئ پاکستان نے کشمیر کو شہ رگ کہا تھا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے مظفر آباد کا دورہ کیا ۔وہ بیان تو دیتے ہیں، مگر عملًا مدد کا کام آگے نہیں بڑھ رہا ۔کشمیر کی تحریک کشمیری خود چلا رہے ہیں۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد تحریک تیز ہوئی۔ کشمیریوں نے کاروبار، تعلیم سمیت ہر قسم کی قربانی دی۔ ہمیں کشمیریوں کے ساتھ بھرپورانداز میں اظہار یکجہتی کرنا ہے۔پاکستان اور آزاد کشمیر کے رہنماؤں کو بھی کھڑا ہونا ہوگا ۔چند روز قبل مظفر آباد اور کل فیصل آباد میں کشمیر کانفرنس ہوئی۔ کشمیر کے حوالے سے عوام میں بہت جوش ہے، مگر حکمرانوں کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ کشمیری پاکستان کا پرچم اٹھاتے ہیں۔ یکجہتی کی کے لئے ہم بھی ہر پروگرام جماعت الدعوہ کی بجائے پاکستان کا پرچم اٹھائیں گے اوربھرپور یکجہتی کے لئے سب جماعتوں کو ساتھ ملائیں گے۔ کشمیر سے کوتاہی کا نتیجہ ہے کہ حکمران کرپشن کے مقدموں اور پاناما لیکس میں پھنس گئے ہیں۔ہم آزاد کشمیر اور پاکستان میں کشمیر کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنسیں اور بڑے جلسے کرکے حکومت کو کشمیر کے حوالے سے آواز اٹھانے پر مجبور کریں گے۔ ہم مقبوضہ کشمیر کی آواز بنیں گے اور کشمیریوں کے کندھوں سے کندھا ملا کر چلیں گے۔

آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنما غلام محمد صفی نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کشمیر کے حوالے سے پاکستان میں عوامی بیداری اور حکومتوں میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے کے لئے پہلا عملی قدم ہے۔ہندوستان کشمیر میں مسلم اکثریتی تشخص کو ختم کرکے اقلیت میں تبدیل کرنے میں مصروف ہے۔ جموں میں مسلمانوں کا جینا دوبھر ہوگیا ہے، جہاں مسلمانوں کی بستیوں کو خاکستر کیا جارہا ہے۔ اگر بھارت کی قابض فوج ظلم کرتی ہے تو کشمیریوں کو حق پہنچتا ہے کہ وہ ان کو جواب دیں ۔پاکستان ہندوستانی میڈیا کے پروپیگنڈے کی وجہ سے معذرت خواہانہ رویہ نہ اپنائے۔ بھارت جماعت الدعوہ کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلاتا ہے۔ پاکستان میں بھی ایک طبقہ چاہتا ہے کہ جماعت الدعوہ کشمیر پر بات نہ کرے، کیونکہ پاکستان میں سے توانا آواز حافظ محمد سعید اور ان کی جماعت ہے۔ آج اسی لئے پریس کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کیا کہ حافظ محمد سعید کشمیریوں کے وکیل ہیں۔2017ء کو کشمیر کے نام کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنما فاروق احمد رحمانی نے کہا کہ حافظ محمد سعید نے 2017ء کو کشمیر کے نام کرکے کشمیریوں کی نبض پر ہاتھ رکھا ۔وہ کشمیریوں کے دل کی آواز بنے۔ کشمیر کی تحریک اب تیسری نسل میں منتقل ہوچکی ہے۔ برہان وانی نے سوشل میڈیا کی مدد سے دنیا کو پیغام دیا کہ بھارت نے ہمارے حقوق غضب کررکھے ہیں۔ برہان وانی کے انٹرنیٹ استعمال کے بعد انڈیا نے کشمیریوں سے وہ سہولت بھی چھین لی۔ کشمیری سفید کفن کی بجائے شہدا کو سبز ہلالی پرچم میں دفن کرتے ہیں۔ کشمیریوں کی آواز بلند کرنے پر جماعت الدعوہ و کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنما اشتیاق احمد حمیدنے کہا کہ ہم حافظ محمد سعید کی جانب سے2017 ء کو کشمیر کے نام کرنے پران کا خیر مقدم کرتے ہیں۔2017ء کشمیریوں کے لئے آزادی کا سال ہوگا۔

پاکستان میں ایک توانا آواز حافظ محمد سعید کی ہے،کشمیری انہیں اپنا مسیحا سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی جماعت کے نام اور پرچم کو چھوڑ کر کشمیر کا نام اور پاکستان کا پرچم اٹھانے کا جو فیصلہ کیاہے، اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مظلوم ہیں۔ مودی سرکار ظلم سے باز نہیں آئی۔ امید ہے پاکستان میں ہونے والی تحریک سے پاکستانی حکمران بھی جاگیں گے ۔ کشمیر میں آزادی کی تحریک اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کئی سال سے چل رہی ہے ۔اقوام متحدہ نے اپنی قرار دادوں پر عمل کروایا اور نہ بھارت نے اپنی فوج نکالی۔ 2016ء کشمیریوں کے لئے ظلم اور قتل عام کا سال رہا۔ دنیا میں مظالم ہوتے ہیں، مگر کشمیریوں کو پُر امن احتجاج پر پیلٹ گن سے فائرنگ کرکے بصارت سے محروم کردیا گیا۔ جس وقت کشمیر میں پیلٹ گن چل رہی تھی، دنیا اندھی اور بہری بنی رہی جو افسوس ناک ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کی جنرل اسمبلی کی تقریر ہوئی، مگر اس کا ردعمل او آئی سی سمیت کسی فورم پر نظر نہیں آیا۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ انڈیا کو ظلم سے روکا جاتا،مگر ایسا نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے دلوں سے ہندوستان کا ڈر نکل چکا ہے۔ جو قوم نڈر اور بے خوف ہوجائے، وہ ظلم کو روکنے کے بعد ہی چین کا سانس لیتی ہے۔ کشمیری رہنما شیخ محمد یعقوب نے کہا کہ جماعت الدعوہ کو جموں و کشمیر کی آواز بننے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔جموں و کشمیر کے عوام پاکستان سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ کا نعرہ لگاتے ہیں۔ کشمیر کا ہر فرد پاکستان سے محبت کرتا ہے اور یہ محبت فطری ہے۔ پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بنا۔ پاکستان کی پارلیمنٹ میں جموں و کشمیر کے حوالے سے واضح پالیسی ہونی چاہئے۔پاکستانی حکمرانوں کے لئے ضروری ہے، وہ کشمیر کے حوالے سے پالیسی میں تسلسل پیدا کریں۔ کشمیر میں سفید لٹھے کا تصور ختم ہوگیا ہے۔ ہم اپنے شہدا کو پاکستان کے چاند ستارے والے پرچم میں دفن کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں پاکستانی سفارتی عملہ کشمیر پر کردار ادا نہیں کررہا۔ پاکستانی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یک زبان ہوجائیں۔ پاکستان کے حکمرانوں اور سفارت کاروں کومسئلہ کشمیر کے حوالے سے جھنجھوڑ کر جگانا ہوگا۔

مزید :

کالم -