سینیٹ میں نریندر مودی کے خلاف قرار داد

سینیٹ میں نریندر مودی کے خلاف قرار داد

سینیٹ کے اجلاس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے بے بنیاد پروپیگنڈے اور دہشت گردی کو پاکستان سے منسوب کرنے کے خلاف قرار دادِ مذمت متفقہ طور پر منظور کر لی گئی، قرار داد میں کہا گیا ہے کہ گوا(بھارت) میں منعقد ہونے والی حالیہ برکس کانفرنس میں نریندر مودی نے دہشت گردی کو پاکستان سے منسوب کیا اور بھارت اور اسرائیل کے درمیان مشابہت پیدا کی اور فلسطین اور کشمیر کے درمیان یکسانیت کی طرف اشارہ کیا، قرار دا د میں بھارتی وزیر اعظم کے اس بے بنیاد پروپیگنڈے کے خلاف عالمی برادری کے رد عمل کو سراہا گیا، نریندر مودی کی طرف سے دیا گیا بیان عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر کے حالات سے ہٹانے کی کوشش تھی جس میں بھارت کو ناکامی ہوئی، قرار داد میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان کی خود مختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مودی نے سرجیکل سٹرائیک کے نام پر بھارتی عوام کو بے وقوف بنایا بھارت نے ایسی حماقت کی تو ایسا جواب دیں گے کہ وہ حقیقی کیا جھوٹا دعویٰ کرنا بھی بھول جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیوں سے 45شہری شہید اور 138 زخمی ہوئے انہوں نے کہا ڈیڑھ ماہ میں سرحدی خلاف ورزیوں میں کمی آئی ہے بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد کا دہشت گردی سے دور کا واسطہ بھی نہیں، پاکستان کے ساتھ مذاکرات بھی نہیں چاہتا۔

سینیٹ میں نریندر مودی کے خلاف جو قرار داد اتفاق رائے سے منظور ہوئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم کشمیر کے مسئلے پر پوری طرح متحد اور متفق ہے اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے ویسے تو کشمیری عوام نے بھارت سے آزادی کی جدوجہد قیام پاکستان کے ساتھ ہی شروع کردی تھی اور کشمیر کا ایک حصہ جواب آزاد کشمیر کہلاتا ہے اسی جدوجہد کا ثمر ہے، اگر اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اس معاملے کو اقوامِ متحدہ میں لے کر نہ جاتے تو کشمیری مجاہدین جو سری نگر کی جانب بڑھ رہے تھے، مختصر وقت میں اس پر بھی قابض ہو جاتے، پنڈت نہرو نے عالمی ادارے میں کشمیر میں ریفرنڈم کا وعدہ کیا تھا جو آج تک وفا نہیں ہوا، جبکہ الٹا بھارتی رہنما یہ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ کشمیر کا تو کوئی مسئلہ نہیں اور یہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اس بھارتی دعوے کا جواب کشمیر کے حریت پسند عوام پہلے بھی دیتے رہے ہیں اور آج بھی دے رہے ہیں۔

بھارت کشمیر کے عوام کی اس جدوجہد کو دہشت گردی قرار دیتا ہے اور اس کا خیال ہے کہ یہ تحریک، پاکستان کی حمایت سے چل رہی ہے نریندر مودی نے بڑے گھمنڈ کے ساتھ پانچ سو اور ہزار روپے والے نوٹ بھی اس خیال سے منسوخ کئے تھے کہ ان نوٹوں کی صورت میں کشمیریوں کو امداد ملتی ہے لیکن اب مودی کی غلط فہمی دور ہو چکی ہے، کشمیری عوام کی جدوجہد پہلے کی سی شدت کے ساتھ جاری ہے اور جو لوگ اس تحریک میں پیش پیش ہیں وہ کشمیر کے جانے پہچانے نوجوان ہیں، ان کے گھر بار کے پتے سب کو معلوم ہیں، ان کے باپ دادا کے بارے میں پورا کشمیر جانتا ہے، کیا برہان وانی کوئی باہر سے گیا ہوا نوجوان تھا؟اس کے والدین آج بھی کشمیر میں رہتے ہیں، آج بھی برہان وانی کی جرأت وہمت کی داستانیں زبان زد عام ہیں اور اس کے بوڑھے والدین کے حوصلے بھی پست نہیں ہوئے، اسی طرح جنازوں کے جلوسوں میں جو لوگ نمایاں تھے وہ کہیں باہر سے نہیں گئے، جنہوں نے جام شہادت نوش کیا ان کے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ وہ کون تھے اور کہاں رہتے تھے اس لئے مودی کا یہ خیال تو خام ثابت ہوگیا کہ کشمیر کے عوام کی تحریک باہر کی حمایت سے چل رہی ہے اور اگر باہر سے پیسہ نہ ملے تو یہ دم توڑ جائے گی مودی نے نوٹ منسوخ کر کے اپنے ہی کروڑوں عوام کو مشکلات سے دوچار کیا اور آزادی کی تحریک کا اس سے کچھ نہیں بگڑا خود بھارتی معیشت کا بیڑا غرق ہو گیا اور شرح نمو ایک سے دو فیصد تک کم ہو تی ہوئی نظر آتی ہے۔

نریندر مودی نے عالمی کانفرنسوں میں بھی پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی، پہلے یہ کوشش گوا میں ہونے والی برکس کانفرنس میں کی گئی جس میں اسے بری طرح ناکامی ہوئی،پھر ایسی ہی بھونڈی کوشش امرتسر کانفرنس میں کی گئی جس میں عالمی مندوبین نے بھارت کی حکومت کو کھری کھری سنادیں اور یہ موقف اختیار کیا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے اور بہادری کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہا ہے اس لئے پاکستان دہشت گردی کی حمایت کیسے کرسکتا ہے، خطے کے امن کے لئے پاکستان کی کوششوں کو روس اور امریکہ بھی سراہتے ہیں پاکستان کے ساتھ روس کی مشترکہ جنگی مشقیں اس بات کا ثبوت ہیں۔ ابھی گزشتہ روز ہی امریکی سینٹ کام کے کمانڈر جنرل جوزف نے پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کے دوران پاکستان کی خدمات کو سراہا، ایسے میں بھارت کو عالمی محاذ پر یا عالمی کانفرنسوں میں کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی تھی نہ ہی ہوئی،بھارت کا دوسرا مقصد یہ تھا کہ اس طرح شاید دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر کے حالات سے ہٹ جائے لیکن یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوا، کیونکہ کشمیر کا مسئلہ پہلے کی طرح زندہ ہے اور دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر اس کا تذکرہ ہو رہا ہے، اقوامِ متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل نے بھی عہدہ سنبھالتے ہی اس سلسلے میں اپنی خدمات پیش کی ہیں، بھارت اگر ہوش کے ناخن لے کر ان کی ثالثی کی اس پیش کش کو قبول کرلیتا ہے تو اس سے مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد مل سکتی ہے، لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ بھارت ابھی تک اس زعم میں ہے کہ دانستہ تاخیر سے شاید یہ مسئلہ دب جائے گا اور دنیا کی توجہ اس سے ہٹ جائے گی لیکن بظاہر ایسا ہونا ممکن نہیں لگتا اس کے لئے بہتر حل یہی ہے کہ بھارت مذاکرات پر آمادہ ہو یا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی پیش کش قبول کرکے ثالثی قبول کر لے۔

کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اس مسئلے کو وقت کی دھول کی نذر نہیں کیا جاسکتا اور اس کا منصفانہ حل تلاش کرنا ضروری ہے اس کا بہترین راستہ مذاکرات ہی ہیں، قوت کے زور پر کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا، بھارتی وزیر اعظم نے سرجیکل سٹرائیک کے جوبے سروپا دعوے شروع کر رکھے تھے وہ بھی پوری طرح ایکسپوز ہو گئے ہیں۔مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے کا امن ممکن نہیں، اس لئے بھارتی رہنماؤں کو دنیا کو گمراہ کرنے کا راستہ چھوڑ کر وہ راہ اختیار کر نی چاہئے جو امن اور خوشحالی کی طرف جاتی ہے۔

مزید : اداریہ