کرپٹ مافیا اور امتحان ہی امتحان!

کرپٹ مافیا اور امتحان ہی امتحان!
 کرپٹ مافیا اور امتحان ہی امتحان!

  

اُف خدایا۔۔۔ یہ سب کیا ہے۔ میڈیا کہاں تک کرپٹ مافیا کے ’’کارہائے نمایاں‘‘ سے لوگوں کو آگاہ کرے۔ ہر طرف کرپشن ہی کرپشن دکھائی دے رہی ہے۔ پہلے کروڑوں، اربوں کی کرپشن کی خبریں منظر عام پر آیا کرتی تھیں، اب تو ایک ایک کیس میں اربوں کی کرپشن ہو رہی ہے۔ کرپشن کی برآمدگی سے کر پٹ مافیا کا گھر، ملکی اور غیر ملکی کرنسی کا گودام لگتا ہے۔ ایک دور تھا، کہا جاتا تھا کہ اس ’’حمام‘‘ میں سبھی ننگے ہیں۔ بہتی گنگا میں تمام لوگوں نے ہاتھ دھوئے ہیں۔ اب یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ کرپشن کا سمندر ہے، جس میں چھوٹے بڑے سبھی مزے سے ڈبکیاں لگا رہے ہیں، جو پکڑے گئے ہیں، وہ اس دلدل سے نکلنے کے لئے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر کے فرض شناس اور ایماندار افسروں اور اہلکاروں کو حیرت زدہ کررہے ہیں جبکہ کرپشن کے عادی سرکاری ملازمین دبے لفظوں میں اور کھل کر داددیتے نظر آرہے ہیں۔پہلے کرپشن کرنے والے خوفِ خدا کے ساتھ ساتھ یہ سوچ کر لرز جایا کرتے تھے کہ دنیا والے کیا کہیں گے، اس لئے چھپ چھپا کر اپنا کام کیا کرتے تھے، اب کرپٹ مافیا اپنے کروفر اور شاہانہ زندگی کی خیر مناتے ہوئے مطمئن ہے کہ دنیا کب چپ رہتی ہے، کہنے دے جو کہتی ہے!

کرپشن زدہ سوسائٹی کیسے نمایاں ہو گئی اور ہم نے اسے ذہنی طور پر کس طرح اور کیونکر قبول کرلیا؟یہ سوچنے کی کسی کو فرصت نہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے یہ سب سوچنے کی توفیق دی ہے، ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ یہ لوگ اگر ہونے والی تباہی اور انجام کی بات کرنے کی کوشش کریں تو تمسخرانہ انداز میں کہا جاتا ہے’’تجھ کو پرائی کیا پڑی، اپنی نبیٹر تو!‘‘ سوسائٹی کی غالب اکثریت کرپشن کے الزامات کی زد میں ہے۔ ایسے لگتا ہے، کرپشن کے داغ سے خالی کسی کا دامن ہے ہی نہیں۔ کرپشن کے حوالے سے سب سے زیادہ شور شیخ رشید اور عمران خان نے مچا رکھا ہے۔ شیخ رشید کی بات بعد میں ہوگی۔ عمران خان کا ذکرہو جانا چاہئے۔ وہ فرماتے ہیں۔ کرپشن کے خاتمے کے لئے نیب کو میرے ماتحت کردیں، میں تین مہینوں میں سب کوالٹا لٹکا دوں گا۔ حکیم مومن خان مومن کا شعر ہے۔

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدہر جائیں گے

عمران خان کی خواہش پوری کردی جائے۔نیب ان کے اختیار میں دے دی جائے اور وہ سب کو چن چن کر (اپنے پیاروں کو چھوڑ کر) الٹا لٹکا دیں اور کرپشن پھر بھی ختم نہ ہوئی تو پھر وہ کدہر جائیں گے؟عمران خان نے بھی تو سٹیڈیم میں بیٹھے ہوئے تماشائی کی طرح بات کی ہے جو بیٹسمین کے کھیل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ بَلے کو ذرا کٹ کی طرف گھماتا تو چوکا تھا۔ ذرا آگے بڑھ کر زور سے ہٹ مارتا تو چھکا تھا۔ اسی طرح ہاکی کے کھیل میں کھلاڑی کے کھیل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ دائیں بائیں کھلاڑیوں کو ڈاج دے کر بال کو پش کرتا تو گول ہو جاتا۔ وغیرہ وغیرہ۔

ایسے تبصروں کے بارے میں عمران خان کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ کتنے درست ہوتے ہیں۔ حیرت ہوئی کہ انہوں نے سیاست کے کھیل میں، کرکٹ اور ہاکی کے روائتی تماشائی کی طرح دعویٰ کیا کہ مجھے اختیار دیں ’’سب اچھا‘‘ ہو جائے گا۔ ن لیگ کی طرف سے عمران خان کی اس خواہش پر یہ تبصرہ آیا ہے کہ عمران خان کو اینٹی کرپشن کی الف، بے کابھی پتہ نہیں، وہ کیسے سب ٹھیک کرلیں گے۔ ان کابیان ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں۔ عمران خان ایسا بیان مذاق کے طور پر بھی نہ دیا کریں۔ ن لیگ والوں نے ایک اور تبصرہ بھی کیا کہ سپریم کورٹ کے اندر جاتے ہوئے عمران خان اور ان کے چہروں پر مسکراہٹوں اور خوشی کے شگوفے دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ جب یہ سب لوگ باہر نکلیں گے تو عمران خان چلتے چلتے شیروانی پہنیں گے اور شیروانی کے بٹن بند کرنا بھول کر بھاگم بھاگ ایوانِ صدر جانے والی گاڑی کو تلاش کریں گے کہ انہیں وزیر اعظم کا حلف اٹھانا ہے۔ شیخ رشید 2۔نومبر 2016ء کی طرح بھاگتے دکھائی دیں گے کہ ان کی وزارتِ اطلاعات تو ’’پکی‘‘ ہے۔ جہانگیر ترین اور عبدالعلیم خان ایک دوسرے کو پیچھے دھکیلتے ہوئے گاڑی میں بیٹھنے کے لئے زور آزمائی کررہے ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔

دانیال عزیز اور طلحہ چودھری نے تو کمال کی پوائنٹ سکورنگ کی ہے۔ انہوں کا کہنا ہے کہ عمران خان جب گیند کے پیچھے بھاگ رہے ہوتے تھے تو ہم ادارے بنایا کرتے تھے۔ ن لیگ کے ترجمانوں نے طنزیہ جملہ بنانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ یہ درست ہے کہ عمران خان گیند کے پیچھے بھاگا کرتے تھے۔ ہم تو حق بات کی تعریف ضرور کریں گے۔ جی ہاں عمران خان اپنے وطن پاکستان کا نام روشن کرنے کے لئے بھاگے پھرتے تھے۔ کرکٹ ورلڈ کپ کا اعزاز عمران خان کی قیادت میں ہی ہم نے حاصل کیا تھا۔ لہٰذا بے تکی بات نہیں کرنی چاہئے۔ البتہ وزیر مملکت مریم اورنگ زیب اور وزیر اعظم میاں نواز شریف کی اس بات میں وزن ہے کہ عمران خان الزامات اور جھوٹ کا ریکارڈ قائم کررہے ہیں، سیاست میں الزامات اور الزامات ہی لگائے جائیں، تو سچ اور جھوٹ میں فرق محسوس نہیں ہوا کرتا۔ غالباً ایسی ہی بات عمران خان کے ساتھ بھی ہے۔ان کی وہ 35پنکچروں والی بات تو زیادہ پرانی نہیں ہوئی۔ یوٹرن کے ریکارڈ والی بات بھی تو عمران خود مانتے ہیں۔وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی تقریر میں عمران خان کے الزامات اور جھوٹ والی بات پر دلچسپ انداز میں تبصرہ کیا ہے کہ منگل اور بدھ کو گوشت کا ناغہ ہوتا ہے، عمران خان ریکارڈ قائم کرنے کے لئے کوئی ناغہ نہیں کرتے۔ منگل اور بدھ کو گوشت کے ناغے والی بات پر وزیر اعظم نواز شریف کو سیاروں اور ستاروں کے علوم کے ماہر انتظار حسین زنجانی کی بات یاد آنی چاہئے تھی۔ انتظار حسین زنجانی 1991ء سے یہ کہتے آرہے ہیں کہ اگر ملک سے منگل اور بدھ کو گوشت کا ناغہ ختم کر دیا جائے تو قتل و غارت دہشت گردی اور خونیں وارداتوں میں بہت زیادہ کمی ہو جائے گی اور ہمیں بار بار یہ خیال آتا رہا کہ حکمران اگر گوشت کے ناغے کی پابندی ختم کرکے ایک تجربہ کرلیں تو کیا حرج ہے ۔ خدا کا شکر ہے کہ دہشت گردی پرکافی حد تک قابو پالیا گیا ہے۔ اس کے باوجود دشمن قوتیں کبھی کبھی وار کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو بعض علماء کرام کہتے ہیں، یہ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے۔

اگر واقعی ہمارے اعمال کے نتیجے میں دہشت گرد کامیاب ہوتے ہیں تو پھر ہمارے غلط اور برے اعمال میں کرپشن ہی سرفہرست ہے۔ دہشت گرد قوتیں ہماری کمزوری سے واقف ہوں گی اور اسی سے فائدہ اٹھاتی ہوں گی۔ اگر ایسا ہی ہے تو ثابت ہوا کہ کرپشن ہر طرف سے ہمیں اپنے شکنجے میں جکڑ چکی ہے۔ ہمیں تو حیرت اس وقت ہوئی جب وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے ایک بڑے منصوبے میں نا اہلی اور کرپشن کے نتائج کو دیکھ کر سر پکڑ کر رہ گئے کہ مافیا نے اپنے ہتھکنڈوں سے قومی خزانے کو 70ارب روپے کا نقصان پہنچا دیا۔ منصوبہ ابھی زیر تکمیل ہے۔ حالت تو یہ ہے کہ دل کے مریضوں کے لئے 5700روپے والے’’سٹنٹ‘‘ کی تین تین لاکھ روپے قیمت وصول کی گئی۔ جب چھاپہ مارا گیا تو مافیاکے مخبروں کی بروقت اطلاع پر 500سٹنٹ غائب کر دیئے گئے صرف 250سٹنٹ ہی پکڑے جاسکے۔ بتایا جارہا ہے کہ اس کرپشن میں آٹھ پروفیسروں نے ’’کمال‘‘ شروع کر رکھا ہے۔ خدا جانے یہ سلسلہ کب سے جاری تھا۔ ان دنوں دودھ مافیا کا کمال بھی سامنے آیا ہے۔ پہلے دودھ میں صرف ’’ملاوٹ‘‘کی شکایت ہوا کرتی تھی کہ آلودہ پانی، اراروٹ، انسانی لاشوں کو دیر تک محفوظ رکھنے والا کیمیکل اور نجانے کیا کیا کچھ ملایا جاتا ہے۔ اب جعلی دودھ کی تیاری اور وسیع پیمانے پر فروخت کا المیہ منظر عام پر لایا گیا۔ روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کے سٹاف رپورٹر کی ریسرچ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف لاہور میں 80لاکھ لیٹر جعلی اور ملاوٹ شدہ دودھ ہر روز فروخت ہو رہا ہے۔ یہ زہریلا دودھ ہمارے بچوں کے علاوہ بڑوں کے لئے بھی خطرے کی گھنٹی بنا ہوا ہے۔ انتظامی مشینری فی الحال اس چیلنج کو قبول نہیں کر پارہی ہے۔ کہیں کہیں اور کبھی کبھی مقامی انتظامیہ چند سو یا چند ہزار لیٹر دودھ کو مضرِ صحت قرار دے کر ضائع کر دیتی ہے اوربس!

سوال یہ ہے کہ کرپشن کے چیلنج کو قبول کیا جائے گا تو کیسے اور کون قبول کرے گا اپوزیشن جماعتوں کے دباؤ کی وجہ سے ہاتھ پاؤں مارے جائیں گے یا اپنے فرض منصبی کو ہتھیار بنایا جائے گا؟کیا اربوں کھربوں کی کرپشن پر صرف گرما گرم بیان بازی ہی ہوگی یا مجاہدانہ کردار اورعمل بھی سامنے آئے گا؟یہ مسئلہ چاروں صوبوں میں پھیلا ہوا ہے۔ ایک دوسرے کو الزام دے کر اپنا دامن صاف، سمجھ لینا درست نہیں ہوگا۔ذمہ داری سب کی یکساں ہے، مگر شہباز شریف اور مراد علی شاہ سے زیادہ توقعات ہیں۔ شہباز شریف نے تو انتہائی دکھی لہجے میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ کرپٹ مافیا کو نہیں چھوڑیں گے۔ کرپٹ مافیا کو ناکام بنانے کے لئے اپنی حکمت عملی پر عملدرآمد کی نگرانی وہ خود کریں گے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہباز شریف کے وزیر اعلیٰ بلکہ خادم اعلیٰ ہوتے ہوئے اربوں روپے کی کرپشن کا حوصلہ کس نے کیا اور یہ جرأت کیسے ہوگئی۔ شہباز شریف کے بارے میں تو ترکی، چین، جرمنی اور دیگر ملکوں کے حکومتی اور انتظامی عہدیدار حیرت میں ڈوب کر انہیں نہایت قابلِ فخر خطابات دیتے چلے آرہے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ شہباز شریف سی پیک کے آغاز کی تقریبات اور دیگر ضروری انتظامات میں مصروف رہے اور کرپٹ مافیا کو جال کتر کر باہرنکلتے ہی اپنا کمال دکھانے کا موقع مل گیا۔ جو لوگ کرپشن میں ملوث ہیں، انہیں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اپنے اختیارات کے آہنی شکنجے میں دبوچ کر نشان عبرت بنائیں اور اس حوالے سے ہمیں کم از کم پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ سے امید زیادہ ہے کہ وہ کچھ کر کے دکھائیں گے ورنہ ہم انہیں یہ کہہ کر جھنجھوڑتے رہیں گے کہ کہاں ہو شہباز شریف،مراد علی شاہ تمہاری بیان بازیوں کو سلام! خدا کرے کہ اس کی نوبت نہ آئے اور یہ حضرات اپنی روایات کا بھرم رکھیں۔ یہاں ہم یہ واضح کردیں کہ طاقتور کرپٹ مافیا کو ناکام بناتے ہوئے دو باتوں کا خیال رکھا جائے (1) یہ کہ تمام سازشوں کو ناکام بناکر کرپٹ مافیا کو کیفر کردار تک کیسے پہنچایا جائے(2)تمام چھوٹے بڑے منصوبوں کو کرپشن سے پاک رکھتے ہوئے پایۂ تکمیل تک کیسے پہنچایا جائے۔ یقیناً یہ بہت بڑا امتحان ہے۔ ہر صورت میں کامیابی ضروری ہے!

مزید : کالم