خواجہ سعد کے ساتھ

خواجہ سعد کے ساتھ
خواجہ سعد کے ساتھ

  

ریلوے گیسٹ ہاؤس کے پرسکون ماحول میں وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کے ساتھ طویل ملاقات غیر روایتی ماحول میں ہوئی۔ جنوری کی بارش کے بعد شہر کے سرد ماحول میں ہیٹر والا کمرہ بہت خوشگوار احساس دلا رہا تھا۔برنچ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا جس میں مشہور دکانوں سے لائی جانے والی لذیذ ڈشیں رکھی گئی تھیں۔ چائے بہت ہی عمدہ تھی۔ اسی لیے بعض شرکاء نے ایک کپ کے فوری بعد ہی دوسرے کی فرمائش کر ڈالی۔ گفتگو کا سلسلہ کسی مرحلے پر بھی رکنے نہیں پایا۔ ملکی صورت حال کے متعلق کئی پہلوؤں سے پوری طرح با خبر ہونے کے باوجود میزبان نے ایک زیرک سیاستدان کی طرح کھل کر بھی بات کی اور بعض معاملات کے حوالے سے محض اشارے ہی دئیے۔ سپریم کورٹ میں جاری پاناما لیکس کے کیس کے حوالے سے مسلم لیگ(ن) اور حکومت کے بڑوں کو بہت حد تک اعتماد ہے کہ وزیراعظم کے خلاف فیصلہ آنے کا کوئی امکان نہیں۔ یہ سمجھا جارہا ہے کہ تحریک انصاف الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہی اسی لیے تو عمران خان بیانات اور جلسوں کے ذریعے اپنے تئیں عدالت عظمیٰ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ افواہ نما ایسی اطلاعات کی سختی سے تردید کی گئی کہ کوئی ایسا عدالتی فیصلہ متوقع ہے جس کے ذریعے تمام فریقوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ زیادہ واضح الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ وزیراعظم کے متعلق کچھ نہیں کہا جائے گا لیکن ان کے بچوں کے حوالے سے کوئی غیر موافق فیصلہ آسکتا ہے۔ حکومت کے بڑوں کا یہ کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ میں جاری کیس کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنا مناسب نہیں۔ ساتھ ہی یہ بات بھی واضح طور پر بتا دی گئی کہ اگر وزیراعظم کو گھر بھجوانے کا مرحلہ آیا تو حکومت بھی ساتھ ہی جائے گی ۔ ایسا کوئی فیصلہ آنے کی صورت میں فیصلہ سازوں سے کہا جائے گا ہم سب جارہے ہیں۔ حکومت بھی آپ خود ہی چلا لیں۔بتایا گیا کہ اگر کوئی فیصلہ صرف بچوں کے خلاف بھی آتا ہے تو اسے بھی براہ راست خود وزیراعظم کے خلاف سمجھا جائے گا تاہم امکان یہی ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا، حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔ یہاں تک کہا گیا کہ حکومت اپنی مدت کے آخری 24 گھنٹے بھی پورے کرے گی۔ سال 2017 ء کے دوران ہی قبل از وقت انتخابات کرانے کی باتوں کو محض گپ شپ قرار دیا گیا۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی تازہ ترین سرگرمیوں خصوصاً فیصل صالح حیات اور خالد کھرل جیسے ہیوی ویٹس کی واپسی کے بعد مسلم لیگ(ن) خود کو زیادہ محفوظ خیال کررہی ہے۔ ویسے بھی اکثر سینئر تجزیہ کاروں کے ہاں بھی تاثر یہی ہے کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی جتنا طاقتور ہو گی تحریک انصاف کو اتنا ہی کمزور کرے گی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلم لیگ(ن) اگلے عام انتخابات کے حوالے سے اپنی حکمت عملی تیار کررہی ہے۔ پارٹی کے سنجیدہ اکابرین کا کہنا ہے کہ ناراض ساتھیوں اور روٹھ کر جانے والوں کو منا لینا چاہیے۔ اس حوالے سے خصوصاً سابق وزیراعلیٰ سندھ غوث علی شاہ، سردار ذوالفقار علی کھوسہ اور جاوید ہاشمی کا تذکرہ بھی ہوا۔

ایک شریک محفل نے یاد دلایا کہ فرزند راولپنڈی شیخ رشید بھی تو مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کیلئے مرے جارہے تھے۔ لفٹ نہ ملنے پر اب دن رات کوسنے پر لگے رہتے ہیں۔ شیخ رشید کا ذکر آنے پر ان کی تازہ ترین حالت کے بارے میں طرح طرح کے تبصرے ہوئے اور اکثر شرکاء کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ یہ بھی کہا گیا کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات پہلے سے بہتر ضرور ہوئے ہیں مگر اس حوالے سے احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ غیر ضروری بیانات اور تبصروں سے گریز کیا جانا چاہیے۔ سازشی عناصر کی حوصلہ شکنی بھی ضروری ہے۔ دوران گفتگو اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ ادارے کے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھنا اس کے عہدیداروں کی ہمیشہ سے ترجیح رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ اس حوالے سے کسی کو خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس حوالے سے گفتگو شروع ہوئی پھر 2014 ء کے دھرنوں کا معاملہ بھی زیر بحث آگیا۔ اپنی اپنی معلومات کے مطابق سب نے حصہ ڈالا۔ کوئی بہت زیادہ نئی باتیں تو سامنے نہ آسکیں ہاں مگر کئی ایک اطلاعات کی توثیق ضرور ہو گئی۔ اس حوالے سے خواجہ سعد رفیق کی رائے زیادہ اہم اس لیے بھی تھی کہ وہ دھرنوں کے دوران وزیر اعظم ہاؤس کے اندر پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔ بلوائیوں اور ان کے سرپرستوں کا منصوبہ تو یہی تھا کہ خود ہی 20,15 لاشیں گرا کر حکومت کو چلتا کیا جائے۔ سازش کے کس مرحلے پر کس نے کیا کردار ادا کیا؟ ذکر چھڑا تو وہ تمام اعصاب شکن مناظر آنکھوں کے سامنے گھوم گئے۔ 2014 ء کے دھرنے اور دنگے کے اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نجانے کب ہو گی یا شاید کبھی نہیں ہو گی۔ ایک موقع پر جنرل(ر) پرویز مشرف کے بارے میں خواجہ سعد رفیق کے حوالے سے اس بیان کا بھی ذکر ہوا جو سابق آمر کی بیرون ملک روانگی سے متعلق تھا۔ اس بیان میں کہا گیا تھا کہ جمہوریت میں جتنی طاقت تھی، اس حد تک سابق جنرل کو روکے رکھا گیا(یعنی جمہوری طاقتوں کی بس ہو گئی)اس ایک فقرے نے سب کچھ عیاں کر کے رکھ دیا تھا۔

اپنے محکمے یعنی پاکستان ریلوے کی کارکردگی پر شاداں خواجہ سعد رفیق نے اس موضوع پر سرے سے بات ہی نہیں کی تاہم وہ زرد صحافت کے حوالے سے شاکی نظر آئے۔ ایک دو واقعات کا ذکر بھی کیا۔ خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ اگلے عام انتخابات سے قبل نہ صرف بجلی کے بحران پر قابو پا لیا جائے گا بلکہ میگا ترقیاتی منصوبے بھی مکمل ہو جائیں گے۔ ساہیوال پاور پلانٹ کے جلد چالو ہونے پر انہیں کوئی شک نہیں تھا۔ بھکھی منصوبے کے بارے میں بھی وہ بہت پرعزم نظر آئے۔ انہوں نے کھل کر کہا کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب کی رفتار کے بہت بڑے مداح ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف میں یہ غیر معمولی صلاحیت موجود ہے کہ طویل المیعاد منصوبوں کو بھی کم سے کم وقت میں مکمل کر سکتے ہیں۔ اورنج لائن ٹرین کے حوالے سے قانونی و عدالتی رکاوٹوں کے باوجود اگلے چند ماہ میں تکمیل کی خوشخبری ملے گی۔ بعض شرکاء نے رائے دی کہ سکولوں اور ہسپتالوں کی حالت پر بھی فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ عام آدمی کے مسائل حل کر کے ترقیاتی منصوبوں کے اصل اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق کئی بار وزیر رہ چکے ہیں مگر ان سے مل کر اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ خصوصاً شہر لاہور میں ان کے ہم عمر تھوڑے بڑے یا تھوڑے چھوٹے افراد کیلئے وہ محض سعد رفیق ہی ہیں۔ ایک طالب علم لیڈر جس نے اپنی انتھک محنت اور پارٹی سے وفاداری کے ذریعے اپنا مقام بنایا مگر انکساری ترک نہیں کی۔ بیدار مغز چاق چوبند سعد رفیق ہر طرح کے حالات پر گہری نظر رکھنے میں شہرت رکھتے ہیں۔ دوستوں کے دوست مگر اپنی بات پر ڈٹ جانے والے پرجوش رہنما۔ اس ملاقات میں دو صوبائی وزراء رانا مشہود اور زعیم حسین قادری بھی موجود تھے۔ رانا مشہود کو اختتام سے کچھ پہلے روانہ ہونا پڑا تو خواجہ سعد رفیق انہیں الوداع کہنے کیلئے گاڑی تک ساتھ گئے۔ اسی لیے تو اس بار بھی یہی لگ رہا تھا کہ وزیر سے ملاقات میں وزارت والا کوئی ماحول نہیں۔

لاہور کے سب سے اجلے لیگی رہنما خواجہ حسان کو میئر نہ بنائے جانے کا موضوع بھی چھڑا۔ ان خبروں کی توثیق ہوئی کہ وزیراعظم کو راضی نہ کیا جا سکا۔ شہر سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی اور وزراء کے ساتھ وزیراعلیٰ شہباز شریف اور حمزہ شہباز بھی خواجہ حسان کو ہی میئر بنوانا چاہتے تھے مگر وزیراعظم نے انکار کر دیا۔ نواز شریف کو ایک اجلاس میں اوپر تلے یہی رائے دی گئی تو ایک موقع پر صوبے کے دبنگ وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو بات کرنے سے یہ کہہ کر روک دیا گیا کہ اس حوالے سے گفتگو مکمل ہو چکی۔ وزیراعظم کا کہنا یہی تھا کہ خواجہ حسان نے بطور ٹاؤن ناظم جنرل مشرف کے ریفرنڈم والے جلسے میں شرکت کی۔ ریلوے گیسٹ ہاؤس میں جمنے والی محفل کے تقریباً تمام شرکاء کا کہنا تھا کہ مشرف کا ساتھ دینے کا گناہ تو اس سے کئی گنا بڑھ کر کرنے والوں کو آج تک نوازا جارہا ہے۔ خواجہ حسان نے بطور ٹاؤن ناظم جلسے میں سرکاری حیثیت میں شرکت کی تھی۔ فوجی آمر کی حمایت میں ہاتھ کھڑے کرنے کا موقع آیا تو واضح طور پر انکار کر دیا۔ ویسے بھی اگر پارٹی قیادت ان سے مستعفی ہونے کا کہتی تو وہ فوراً ہو جاتے۔ شرکائے محفل کی طرف سے اٹھائے گئے نکات میں جہاں دیدہ سعد رفیق کے لئے کوئی بھی بات نئی نہیں تھی ۔ویسے بھی وزیراعظم ،وزیراعظم ہیں ۔ اگر وہ صرف اتنا بھی کہہ دیں ’’دل ہے کہ مانتا نہیں‘‘ تو معاملہ ٹھپ ہی سمجھا جائے۔خواجہ حسان کے معاملے پر وزیراعظم کا دل موم ہو گا یا نہیں کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتالیکن پارٹی رہنماؤں کی غالب اکثریت اور لاہور کے شہریوں کی بڑی تعداد کے دماغ اس گتھی کو سلجھانے میں آسانی سے کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔

مزید : کالم