کالم نگاری کے چیلنج

کالم نگاری کے چیلنج
کالم نگاری کے چیلنج

  

میری نظر میں کالم نگاری ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے اور اس ایک چیلنج میں بہت سے ایسے ذیلی چیلنج بھی پوشیدہ ہوتے ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتے لیکن ان کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کئی چیزیں ہیں جو موجود تو ہوتی ہیں لیکن غیرمرئی ہونے کے سبب نظر نہیں آتیں۔ خیالِ کالم نگاری بھی ان میں سے ایک ہے۔آپ اپنا دل یا دماغ تو کھول کر کسی کے آگے نہیں رکھ سکتے۔ دل و دماغ کو کھول کر کسی قاری کے سامنے رکھنے کا سوال ہی اتنا بڑا چیلنج ہے جس کی حدود و ثغور معین نہیں کی جا سکتیں۔۔۔ آئیے ان حدود کی کچھ سیر آپ کر کرواؤں:

آپ اگر کوئی کالم لکھنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلا سوال یہ ہوگا کہ آپ کس موضوع پر لکھنا چاہتے ہیں۔۔۔ دوسرا سوال یہ کہ کیا اس جنس کا کوئی خریدار بھی ہوگا ۔۔۔اور تیسرا سوال یہ ہوگا کہ اس ایکسرسائز کا آپ کو یا آپ کے قاری کو کیا فائدہ ہوگا؟۔۔۔ میں آپ کے سامنے اپنی مثال پیش کرنی چاہتا ہوں۔۔۔ میرے لئے کالم لکھنا اگر چیلنج ہے تو اس کے ساتھ جو ذیلی چیلنج وابستہ ہیں وہ کچھ اس طرح سامنے آکھڑے ہوتے ہیں:

1۔کیا موضوعِ سخن دفاعی، سیاسی، سماجی، تعلیمی، طبی وغیرہ ہے ؟

2۔کیا اس موضوع کو لوگ پڑھنا بھی چاہیں گے؟ کتنے لوگ ہوں گے جو اس جنس کے خریدار ہوں گے اور کتنے ایسے ہوں گے جو صرف عنوان دیکھ کر بغیر کوئی لفظ پڑھے آگے نکل جائیں گے؟

3۔کیا موضوع کا تعلق ملک کے داخلی مسائل سے ہو یا خارجی سے؟ اور اگر خارجی سے ہو تو کیا وہ علاقائی موضوعات ہوں یا بین الاقوامی ہوں؟

4۔کالم نگاری کا اسلوب کیا ہو؟۔۔۔ کیا آپ جسے سہل اور آسان عبارت سمجھتے ہیں وہ آپ کے قاری کے لئے بھی آسان اور سہل ہوگی؟ اگر ایسا نہیں تو کیا آپ کسی مشکل اور پیچیدہ مسئلے کو آسان زبان اور سہل اسلوب میں بیان کر سکتے ہیں؟

5۔ذرا سوچئے ناں کہ آخر کسی قاری کو کیا پڑی ہے کہ وہ آپ کی مشکل اور فارسی زدہ اردو سے استفادہ کرے؟ اور پھریہ بھی کہ کیا آپ کا قاری آپ کی تحریر سے کوئی استفادہ کر بھی سکتا ہے یا نہیں؟ کیا آپ اپنے قارئین کی اوسط فہم و فراست کا تعین کر سکتے ہیں؟ آپ کے کھیسے میں بے شک جو مال ہوگا وہ نایاب ہوگا یا حد درجہ قیمتی ہو گا لیکن کیا اس کی کچھ خبر آپ کے گاہک کو بھی ہے؟ جب تک آپ کا گاہک اور خود آپ ایک ہی فہم و فراست کی سطح پر نہیں آتے اس وقت تک کیا باہمی ابلاغ ممکن ہے؟ کیا دونوں کو اس کا کوئی شارٹ ٹرم یا لانگ ٹرم فائدہ بھی ہے؟

6۔جو معلومات آپ کسی قاری کو دینا چاہتے ہیں اس کا کوئی فائدہ آپ یا آپ کے قاری کو اگر ہو بھی جائے تو وہ اسے پڑھ کر کیاکرے گا؟ کیا آپ کی تحریر سے اس کا کوئی ہنگامی یا دیرینہ مسئلہ یا مسائل حل ہو جائیں گے؟

7۔ مجھے اور آپ کو بھی یہ معلوم ہے کہ مرورِ ایام سے لکھاری اور قاری کے درمیان ایک اَن دیکھا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ مجھے خود ایسے لکھاریوں کی تلاش رہتی ہے جو میرے لئے کسی بھی حوالے سے ایسی معلومات بریک کرتے ہوں جن کا علم قبل ازیں مجھے نہ ہو۔ میں ان کی تحریر پڑھتا ہوں تو تجسس کے اور بہت سے گوشے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ پھر ان کا جواب یا ان کا حل ڈھونڈنے کے لئے مجھے مزید جستجو کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن میرے ساتھ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ ایک جستجو کا جواب ایک زیادہ بڑی اور زیادہ مشکل جستجو کی تخلیق کا سبب بن جاتا ہے۔سوچتا ہوں جس طرح میری آرزوؤں اور جستجوؤں کا کوئی حد و حساب نہیں اس طرح شائد میرے قارئین کی تمناؤں اور خواہشوں کی بھی کوئی حد نہ ہو۔ کیا میں قارئین کی ان حدود کا کوئی علم رکھتا ہوں؟ کیا مجھے اندازہ ہے کہ ان کی طلب کیا ہے اور کیا میں ان کی طلب پر پورا اتر سکتا ہوں؟

یقین کیجئے میرا دل واقعی محشرستانِ آرزو ہے۔۔۔ ہر وقت نئی سے نئی چیز یا نئے سے نیا خیال ذہن میں آکر دل میں بیٹھ جاتا ہے۔ اس خیال کے ڈانڈے روحانیت اور مادیت دونوں سے ملے ہوئے ہیں۔ یعنی میری طلب صرف مادی نہیں، روحانی بھی ہے۔ سوچتا ہوں کہ اگر وہ سب کچھ مجھے معلوم بھی ہوگیا جو آج مجھے معلوم نہیں اور مل بھی گیا جو آج مجھے میسر نہیں تو کیا یہ میرے دلِ بے قرار کے قرار کا سبب بھی بن سکتا ہے؟میرے اس سوال کا جواب نجانے کس طرف سے آتا ہے مگر نفی میں آتا ہے۔ مختلف موضوعات سامنے پھیل جاتے ہیں۔میری زندگی کے ذاتی تجربات کی بھی کوئی حد نہیں۔کئی کامیاب ہیں، کئی ناکام ہیں۔سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ کیا کامیاب تجربات کو قارئین کے سامنے رکھوں؟ کیا ایسا کرکے اپنی کسی انا کو سکون پہنچاؤں؟ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا بہت ساری ناآسودہ تمنائیں ہیں جو میں کسی سے بھی شیئر نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ اپنے سگے بہن بھائیوں اور بیٹے بیٹیوں سے بھی نہیں۔۔۔ بعض ناکامیاں اتنی حسّاس نوعیت کی ہیں کہ ان کا خیال بھی سوہانِ روح بن جاتا ہے۔ میں انہیں بھول تو جانا چاہتا ہوں لیکن اس خود فریبی سے کیا حاصل؟ اور اگر میں یہ سب تجربے اپنے قاری کے سامنے رکھوں تو ڈرتا ہوں کہ ان سے میری جو تصویر اس کے ذہن پر مرتب ہوگی وہ کیسی ہوگی؟ کیا شہرت اور گمنامی معروضی حقیقتیں ہیں؟ کیا میں یہ چاہتا ہوں کہ لوگ زیادہ سے زیادہ میرے نام یا میرے کام سے آشنا ہوں؟ اگر جواب اثبات میں ہو تو ایسی ایکسرسائز کا طریقہ ء کار کیا ہے؟ کیا شہرت عارضی ہو گی یا دائمی ہوگی؟ کیا میں دنیا کے مشہور لوگوں میں شمار کیا جا سکتا ہوں؟ ایسا کام کون سا ہے جو مجھے حیاتِ دوام بخش سکتا ہے، مجھے مرنے کے بعد زندہ رکھ سکتا ہے؟

قومیں افراد سے مل کر بنتی ہیں۔ افراد عظیم ہوں گے تو قوم بھی عظیم ہوگی۔ میں بھی ان عام افراد میں سے ایک فرد ہوں۔ سوچتا ہوں میں کس طرح عظیم بن سکتا ہوں اور قوم کو کیا فائدہ پہنچا سکتا ہوں؟ کیا میں کوئی موجد بن سکتا ہوں؟ کیا کوئی ایسی نئی ایجاد میری تخلیق بن سکتی ہے جو مجھے ہمیشہ زندہ رکھ سکے؟ کیا میں کوئی سماجی کارکن بن کر ہمیشہ کی زندگی پا سکتا ہوں؟ دنیا میں مختلف پیشوں اور مختلف ایجادات کا ایک بہت بڑا جمعہ بازار لگا ہوا ہے، میرے لئے اس بازار میں خریداری کے امکانات کیا ہیں؟ مادی اور روحانی زندگیوں میں کس زندگی کو طویل تر حیات و ثبات حاصل ہے؟ جو لوگ دولت کے پیچھے دیوانہ وار بھاگتے ہیں کیا یہ ان کی ذاتی ہوس ہے؟ کیا ذاتی اغراض کے لئے دولت کی کوئی کم سے کم حد متعین کی جا سکتی ہے؟اگر ایسا ممکن ہے تو جو لوگ زیادہ سے زیادہ دولت کے حصول کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا ان کو اپنی محدودات کا علم نہیں؟ اگر ہے تو کیا یہ احساس ان کو کبھی نہیں ستاتا کہ ان کی آخری منزل بھی موت ہے اور ان کی بے اندازہ دولت سے زندگی کا کوئی ایک لمحہ بھی نہیں خریدا جا سکتا؟

میرے لئے ایک چیلنج یہ بھی ہے کہ اپنے خالق کا شکر کیسے ادا کروں؟ کیانماز، روز، زکوٰۃ اور حج ادا کرنے سے اس کی بے پایاں نوازشات کی ادائیگی ء شکر کی تکمیل ہو جائے گی؟ اور اگر بالفرض مجھ میں ان فرائض کی ادائیگی کی جسمانی یا مالی استطاعت نہ ہو تو کیا میری زندگی نامکمل رہے گی؟ کیا مجھے اپنی موجودہ فانی زندگی سے آنے والی ابدی زندگی کا کوئی سامان،کوئی سبق، کوئی عبرت، کوئی وارننگ حاصل ہو سکتی ہے؟ جو عظیم ہستیاں اس حوالے سے میرے احاطہ ء فکر میں موجود ہیں کیا میں خود بھی ان میں شامل ہو سکتا ہوں؟ کیا مجھے کسی ایک فیلڈ یا کسی ایک ایسے خاص موضوع کا انتخاب کر لینا چاہیے جو میری حیاتِ بعد از موت کا سامان کر سکے؟ اگر ہاں تو وہ موضوع کیا ہو؟ کیا میں اس کو پانے اور حاصل کرنے کا اہل بھی ہوں؟ کیا یہ کوشش بھی میری ذاتی غرض یا اغراض کا سراغ نہیں دیتی؟

مجھے اگر خالقِ کائنات نے کسی انوکھے کام کی تکمیل کے لئے بھیجا ہے تو وہ کارِ نادر کیا ہے؟ کیا میری قوم میں ایسے رہنما موجود ہیں جو مجھ جیسے بے تاب انسانوں کو تلاش کرکے انہیں کوئی مشن سونپ دیں اور وہ اس مشن کی تکمیل میں دن رات ایک کرکے قوم کے مستقبل کی تعمیر میں کوئی اہم کردار ادا کر سکے؟ اگر ایسا امکان موجود نہ ہو اور مجھے تن تنہا یہ کام ادا کرنا پڑے تو اس پراجیکٹ کی حدود کیا ہوں گی؟ کیا میری یہ تحریر میری کسی دیوانگی کا سراغ دیتی ہے؟ کیا میں نے اگر اپنا دل کھول کر قارئین کے سامنے رکھ دیا ہے تو اس سے ان کی نظر میں میرا امیج داغدار ہوا ہے یا اس میں کوئی استحکام آیا ہے یا اس سے ان کو کسی تعمیری سرگرمی کا انتخاب کرنے میں مدد ملی ہے؟۔۔۔

میں آپ سے بخدا سچ کہتاہوں کہ میں اپنے گردو پیش کے حالات دیکھ کر، میڈیا کی خاک چھان کر، کثرتِ مطالعہ سے نڈھال ہو کر،اپنے ماضی کے تجربات یاد کرکے، اپنے دوست احباب کی محفلوں میں شامل ہو کر، ان کے خیالات سن کر، ان سے بحث و مباحثہ کرکے، ان کی آراء سے 180ڈگری اختلاف یا اتفاق کرکے بھی مجھے یہ فیصلہ کرنے میں سخت تذبذب کا سامنا ہے کہ میں کس موضوع پر قلم اٹھاؤں۔۔۔

اگر آپ کو میری یہ آشفتہ خیالی کسی مثبت خیالی کی طرف نہ بھی لے جائے تو بھی اس سے کم از کم آپ کو یہ اندازہ تو ہوجائے گا کہ انسانی روح کی بے تابی کو کیسے کیسے چیلنجوں کا سامنا ہو سکتا ہے!

مزید : کالم