3500سال پرانا مقبرہ سے رینگنے والے جانوروں کے ڈھانچے برآمد

3500سال پرانا مقبرہ سے رینگنے والے جانوروں کے ڈھانچے برآمد
3500سال پرانا مقبرہ سے رینگنے والے جانوروں کے ڈھانچے برآمد

  

قاہرہ (نیوز ڈیسک) مصر کے قدیم اہرام فرعونوں کی حنوط شدہ لاشوں کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں لیکن حال ہی میں کھولا گیا ایک مقبرہ الگ ہی قسم کے حیرتناک رازوں سے بھرپور ہے۔ اسوان شہر سے 500 میل کی دوری پر واقع مقبرہ 3500 سال قدیم ہے۔ اسے حال ہی میں پہلی بار کھولا گیا تو اندر انسانی ڈھانچوں کے ساتھ ایک چیز بھی دریافت ہو گی کہ جس کی توقع کئی دہائیوں سے یہاں تحقیق میں مصروف ماہرین آثار قدیمہ کو بھی نہیں تھی۔مصر میں قدیم ترین قبر سے ملنے والا یہ تابوت جس کے بارے میں سائنسدان آج تک سمجھتے رہے کہ کسی پرندے کی لاش ہے اب پہلی مرتبہ کھولا تو اس کے اندر سے کیا نکلا؟ دیکھ کر تمام اندازے غلط ثابت ہوگئے، ماہرین بھی گھبراگئے۔اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق مصر کی وزارت آثار قدیمہ کے سربراہ محمود افیفی نے بتایا کہ اس مقبرے کا تعلق 1479قبل از مسیح میں مصر پر حکمرانی سے ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4