درست مردم شماری کے بغیر منصفانہ ،شفاف انتخابات کا انعقاد نا ممکن

درست مردم شماری کے بغیر منصفانہ ،شفاف انتخابات کا انعقاد نا ممکن

سندھ کا وفاق کے ساتھ رینجرز کے خصوصی اختیارات میں توسیع کا معاملہ تو شائد اپنی کچھ شرائط اور تحفظات پر ضمانت حاصل کرنے کے بعد ایک آدھ روز میں طے ہو جائے۔ جس کا اشارہ حکومت سندھ کے ترجمان، صوبائی مشیر اطلاعات جناب مولا بخش چانڈیو نے دیا ہے تاہم 15 مارچ سے شروع ہونے والی مردم شماری پر سندھ حکومت نے جن تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اپنے مطالبات تسلیم کرنے کے لئے 15 فروری تک جو ’’مہلت‘‘ دی ہے اس نے مردم شماری شروع ہونے کے امکانات کو خاصا مشکل اور دشوار کر دیا ہے۔ کیونکہ بلوچستان کی بلوچ قوم پرست جماعتیں پہلے ہی افغان مہاجرین کا ایشوحل ہونے تک مردم شماری کے عمل کو شروع نہ ہونے دینے کا اعلان کر چکی ہیں (ان جماعتوں میں وفاق اور صوبہ بلوچستان کی حکومت میں شامل بلوچ قوم پرست جماعت بھی شامل ہے۔ حکومت سندھ کے ترجمان نے جن تحفظات کا ذکر کیا ہے وہ کتنے درست ہیں اور کتنے نہیں اس بحث میں پڑے بغیر وفاقی حکومت کو نہایت سنجیدگی کے ساتھ فوری طور پر ان کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ مردم شماری کا بھی کالا باغ ڈیم کی طرح جذباتی سیاسی ایشو بن کر رہ جائے گی۔ مردم شماری کے حوالے سے سندھ حکومت کے ترجمان جناب مولا بخش چانڈیو کا یہ کہنا کہ ’’اردو بولنے والے ہمارے بھائی اور سندھ کے مستقل باشندے ہیں انہیں مردم شماری کے فارم میں مادری زبان کے خانے میں ’’سندھی‘‘ لکھنا چاہئے‘‘ ان کا یہ بیان بہت سے مضمرات کا حامل ہے جس کا ادراک بہت ضروری ہے۔ یہ سندھ میں کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ بن سکتا ہے اور یہ ایشو مردم شماری کے التوایا تاخیر کا بہانہ بھی بن سکتا ہے۔ اگر پیپلزپارٹی کی حکومت کے لئے یہ کرنا ضروری تھا تو پیپلزپارٹی نے یہ کام اس وقت کیوں نہیں کیا جب مرکزمیں ایم کیو ایم ان کی مخلوط حکومت میں شامل تھی اور صوبہ سندھ میں ان کی حکومت میں بڑی اسٹیک ہولڈر تھی۔ اور گورنرشپ بھی ایم کیو ایم کے پاس تھی۔ بعض سنجیدہ سیاسی اور صحافتی حلقے اسے مردم شماری کے ایشو کے جواز کے طور پر دیکھ رہے ہیں جہاں تک افغان مہاجرین سمیت سندھ میں آباد غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو مردم شماری کے عمل سے باہر رکھنے کا مطالبہ ہے۔ اس مطالبہ کے حق بجانب ہونے میں کسی کو بھی اختلاف نہیں ۔ مگر اس مطالبہ کی آڑ میں مردم شماری کے عمل کو روکنا نہ تو پاکستان کے مفاد میں ہوگا اور نہ ہی صوبہ سندھ یا کسی دوسرے صوبہ کے مفاد میں ہے۔ مردم شماری ہر دس سال بعد کرانا وفاقی حکومت کی لازمی آئینی ذمہ داری ہے 2009ء میں پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت کو کرانا چاہئے تھی 2013ء میں منتخب ہونے کے بعد میاں نوازشریف کی حکومت نے بھی اس لازمی آئینی تقاضے کو پورا کرنے کی طرف توجہ نہیں دی۔ اب اگر 18سال بعد مردم شماری ہو پاتی ہے تو یہ سپریم کورٹ کی طرف سے انتہائی سخت حکم جاری ہونے کی وجہ سے ہو پائے گی جو جمہوریت کے علمبردار سیاسی حکمرانوں کے لئے کسی طرح بھی تازیانہ سے کم نہیں ہے۔ جمہوریت انتخاب جیت کر حکومتیں تشکیل دینے سے اور مدت پوری کرنے سے مضبوط نہیں ہوا کرتی۔ جمہوریت مضبوط ہو گی آئین کے تقاضوں کو پورا کرکے اور امور مملکت کی انجام دہی میں آئین کی منشا کو ذاتی اور گروہی مفادات کے مقابلے میں مقدم رکھ کے اور سیاسی عمل کو توانا کر کے۔ انداز حکمرانی جتنا آئین کی منشا قانون اور قاعدے اور ضابطہ کے طابع ہوگا۔ بہ حیثیت قوم ہمارا معاشرہ بھی اتنا ہی اپنے انداز فکر میں جمہوریت کے مسلمہ اصولوں کی پاسداری کرنے کا عادی ہو جائے گا۔ پاکستان کا قیام عمل میں بھی آیا تھا جمہوری انداز میں سیاسی جدوجہد کے ذریعہ، اس کی بقاء سلامتی اور استحکام اور ترقی کی منزل حاصل کرنے کا راز بھی ہر سطح پر آئین کی بالا دستی کو عمل کے قالب میں ڈھالنے میں مضمر ہے۔

یہ وقت اس بحث میں الجھنے کا بالکل نہیں مردم شماری کا عمل وقت مقررہ پر کس کس کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے نہ ہوسکا، وقت کی ضرورت یہ ہے کہ وفاقی حکومت مردم شماری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی قوتوں کا راستہ روکنے کے لئے سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں اور تمام سیاسی قوتوں سے بات چیت کے ذریعہ جائزتحفظات کا مداوا کرے، تاکہ 15مارچ سے مردم شماری کا عمل ممکن ہو سکے۔ مردم شماری شروع نہ ہو سکی تو نہ جانے مزید کتنے برس اس عمل میں لگیں گے؟درست مردم شماری کے بغیر آزادانہ منصفانہ صاف شفاف انتخاب کا انعقاد ناممکن ہے، حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کو مردم شماری کے عمل کو یقینی بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

تمام قومی جماعتوں کو تمام صوبوں میں جا کر مردم شماری کا عمل بروقت شروع کرانے کے لئے رائے عامہ کو اس کے حق میں ہموار کرنا چاہئے خود صوبہ سندھ کی دیہی اور شہری نمائندگی کرنے والی جماعتیں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے مفاد میں بھی صاف شفاف طریقہ پر مردم شماری کا ہونا ہے، اس کو کالا باغ ڈیم کی طرح سیاست کی نذر نہ ہونے دینا ہی سب کے مفاد میں ہے، مردم شماری نہ ہوئی تو آنے والے انتخاب کا انعقاد بھی التوا میں پڑ سکتا ہے۔

نئے سال کے پہلے ہی مہینے جنوری میں کراچی میں ملک کی دوبڑی اہم شخصیات دنیا سے رخصت ہو گئی ہیں، ان میں ایک تو سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی کی ہے جن کو دو ماہ قبل گیارہ نومبر 2016ء کو سندھ کا گورنر بنایا گیا تھا اور وہ گیارہ جنوری کو ابدی سفر پر روانہ ہو گئے۔ گورنر ہونا ان کے لئے کوئی بڑا اعزاز نہیں تھا، بلکہ ان کا اصل اعزز آئین اور قانون کی پاسداری کی خاطر فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے نافذ کردہ غیر آئینی پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر کے چیف جسٹس کے منصب کو خیر باد کہنا تھا۔ ان کے بہت سے بہی خواہوں کے نزدیک تو انہیں گورنر شپ کا منصب قبول نہیں کرنا چاہئے تھا، کیونکہ چیف جسٹس جیسے بلند منصب پر فائز رہنے کے بعد کسی صوبے کے گورنر کا منصب ایک فروتر منصب تھا، ان پر تفصیل کے ساتھ لکھنے کا ارادہ ہے اس نامہ نگار کی ان سے ایک صحافی کے طور پر اس وقت سے شناسائی رہی ہے، جب وہ عدلیہ سے وابستہ نہیں ہوئے تھے، اور ان کا شمار سید شریف الدین پیر زادہ کے قریبی دوستوں میں ہوتا ، اور یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ستر کے عشرے میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور حکومت میں بھٹو کے جو خوف سے سید شریف الدین پیرزادہ کے بہت سے وہ دوست بھی کنارہ کش ہوگئے تھے، جن کے ساتھ پیرزادہ نے حسن سلوک کیا تھا مگر جناب سعید الزماں صدیقی مرحوم بھٹو کے پورے دور حکومت میں پوری استقامت کے ساتھ اپنے دوست پیرزادہ کے ساتھ کھڑے رہے، جناب سعید الزماں صدیقی اور جناب پیرزادہ کا دفتر بھی ایک ہی بلڈنگ میں تھا، اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ سید شریف الدین پیر زادہ بہت سے دیگر ان قانون دانوں کی طرح جو بعدازاں اعلیٰ عدالتوں کے جج بنے جناب سعید الزماں صدیقی کے بھی مّربی اور سرپرست تھے، سندھ ہائی کورٹ میں ان کی تقرری ہوئی تو کہا گیا تھا کہ اس میں پیر زادہ صاحب کی کاوشوں کا بھی دخل ہے۔اللہ تعالیٰ جسٹس سعید الزماں صدیق کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطاء فرمائے وہ بہت سی شخصی خوبیوں کے بھی مالک تھے وہ اعلیٰ پایہ کے قانون دان اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے والے جج ہی نہیں تھے، بلکہ ایک اچھے انسان اور پاکستان کے مسلمانوں کے لئے عطیہ خداوندی تھے۔ اور اپنی بساط کی حد تک وسائل سے محروم لوگوں کی قانونی معاونت کرنے میں کسی بخل سے کام نہیں لیتے تھے جن کے تعاون سے انہوں نے قانونی معاونت کرنے والے ادارے کی بنیاد رکھی تھی۔

15جنوری کو ملک ایک اور بڑی علمی و دینی قد آور شخصیت و فاق المدارس عربیہ پاکستان کے سربراہ اور جامعہ فاروقیہ کے مہتم شیخ الحدیث مولانا سلیم احمد خان اللہ کو پیارے ہو گئے۔ مولانا سلیم احمد خان مرحوم اتنی بڑی بلند قامت علمی شخصیت تھے کہ ان پر کچھ لکھنا ان اہل علم کو زیبا ہے۔ جو ان کی علمی قدر و قیمت کا کماحقہ ادراک رکھتے ہوں ان کا علمی کام ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے۔

مزید : ایڈیشن 1