مظفر گڑھ میں ترکی کے تعاون سے جدید ہسپتال، وزیر اعلی نے افتتاح کیا

مظفر گڑھ میں ترکی کے تعاون سے جدید ہسپتال، وزیر اعلی نے افتتاح کیا

ملتان کی سیاسی ڈائری

شوکت اشفاق

بڑا پرانا مقولہ ہے کہ تندرستی ہزار نعمت ہے جو یقیناًکسی بھی دولت سے زیادہ ہے اس خطے کی روایت تھی اور ہے کہ یہاں کے بزرگ اور فقراء بھی دعا میں ’’صحت کی بادشاہی‘‘ کو قرار دیتے ہیں یعنی اگر جان ہو گی تو جہان بھی ہو گا۔ لیکن اس کی تمام تر ذمہ داری ریاست اور اس کے اداروں پر عائد ہوتی ہے مگر یہ بھی درست ہے کہ صحت محض ہسپتالوں کی تعمیر اور ان میں دی جانے والی سہولتوں سے حاصل نہیں ہو سکتی، اس میں اور بھی عوامل ہیں جن میں صحت مند ماحول سمیت پینے کے لئے صاف پانی اور ملاوٹ سے پاک خوراک اہم جزو ہیں لیکن ہمارا اس حوالے سے ’’باوا آدم‘‘ ہی نرالا ہے ہم نہ تو ماحول دوستی پر توجہ کرتے ہیں اور نہ ہی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی بات کرتے ہیں بلکہ پس ماندہ علاقوں میں ہسپتال تو کجا ڈسپنسری بنانے کی بھی زحمت گوارا نہیں کرتے بھلا ہو ترک حکومت کا کہ جس نے 2010 کے خوفناک تباہی پھیلانے والے سیلاب کے دوران امدادی کام کرتے کرتے مظفر گڑھ کے علاقے میں محسوس کیا کہ یہاں کے عوام کو باقی شہروں کی طرح ایک اچھے ہسپتال کی ضرورت ہے جہاں انہوں نے سیلاب زدگان کے لئے رہائشی کالونی کا بندوبست کیا وہاں ایک عدد سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال بھی فلاحی خدمت کے طور پر بنا کر حکومت پنجاب کے سپرد کیا۔ جسے اب وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کچھ مزید وسعت دینے کے لئے کوشاں ہیں یہ یقیناًایک اچھی روایت ہے کہ جنوبی پنجاب کے اس پس ماندہ علاقے میں صحت سے متعلق بہترین سہولتیں میسر ہوں گی۔ پہلے یہ ہسپتال 180 بستروں پر مشتمل تھا مگر اب ایک بڑی رقم خرج کر کے ’’رجب طیب اردگان گورنمنٹ ہسپتال‘‘ کی توسیع کر کے اسے چار سو بستروں تک بڑھایا جا رہا ہے اور اس میں جدید ترین مشینری نصب کی جا رہی ہے اور مرض کی تشخیص کا بہترین انتظام بھی کیا جا رہا ہے جس سے اس علاقے کے عوام تاریخ میں پہلی مرتبہ مستفید ہوں گے اگر یہ ہسپتال اسی طرح اپ گریڈ ہو جاتا ہے اور اس میں جدید مشینری کے ساتھ ساتھ بستروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا ہے تو پھر یہ پورے علاقے کے لئے کسی بڑی نعمت سے کم نہیں ہو گا بلکہ اس ہسپتال سے بلوچستان کے عوام بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔

وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف گزشتہ دنوں اس کے افتتاح کے لئے یہاں آئے تو انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پس ماندہ علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں کوئی کمی نہیں آنے دیں گے انہوں نے مریضوں سے بات چیت بھی کی اور اس موقع پر صحافیوں سے بھی مکالمہ کیا اور کہا کہ صوبے کے ہر ہسپتال میں جدید مشینری کی تنصیب ان کا اولین فرض ہے اور خصوصاً جنوبی پنجاب میں صحت کے حوالے سے متعدد پراجیکٹس پر کام ہو رہا ہے جس میں مظفر گڑھ کا یہ ہسپتال بھی شامل ہے اور یہاں مہیا ہونے والی سہولتوں کو دیکھ کر ان کی طبیعت خوش ہو گئی ہے لہذا تمام سرکاری ہسپتالوں میں غریب مریضوں کے لئے مفت ادویات کی فراہمی اور علاج کا سلسلہ جاری ہے انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ وہ اس ہسپتال میں ماہر ڈاکٹروں کی تعیناتی کے لئے بھی اقدامات کر رہے ہیں جن میں تقریباً تمام امراض کے سپیشلسٹ ڈاکٹر شامل ہوں گے تاکہ عوام کو کسی بھی مرض کی تشخیص اور علاج کے لئے ملتان یا لاہور کا سفر نہ کرنا پڑے جبکہ تمام ضلعی و تحصیل سطح کے ہسپتالوں میں بنیادی ادویات کی سو فیصد دستیابی یقینی بنانے کا ہدف بھی مقرر کر دیا ہے وزیر اعلیٰ پنجاب کے یہ اقدامات قابل ستائش ہیں لیکن انہیں اس سے ہٹ کر یہ بھی سوچنا اور تحقیق کرانی چاہیے کہ مظفر گڑھ اور ملحقہ پس ماندہ علاقوں میں خطرناک متعدی امراض کے پھیلنے کی اصل وجہ کیا ہے اورنج لائین ٹرین لاہور کی تعمیر میں اپنا خون پسینہ بہانے والے مظفر گڑھ کی تحصیل کوٹ ادو کے چار مزدوروں جو الحبیب کنسٹرکشن کمپنی کے کیمپ میں آگ لگنے سے جھلس کر جاں بحق ہو گئے تھے کے خاندان سخت صدمے کی حالت میں ہیں کیونکہ یہ چاروں ایک ہی خاندان سے اور قریبی رشتہ دار تھے ایک نوجوان بلال تھہیم جو اس حادثے کی نذر ہوا کی شادی صرف 13 ماہ قبل ہوئی تھی اور اس کا تین ماہ کا ایک بیٹا بھی ہے اب اس کی نواجوان بیوہ کو اپنے آپ کے ساتھ ایک معصوم بچے کی پرورش کے لئے بھی تگ و دو کرنی پڑے گی جاں بحق ہونے والا ساجد، جو اپنے والدین کا ’’ببلو‘‘ تھا پانچ بھائیوں اور تین بہنوں میں تیسرے نمبر پر تھا۔ دلاور اور ساجد سگے چچا زاد بھائی تھے دلاور اپنے گھر کا سربراہ بھی تھا اس کی پانچ چھوٹی بہنیں اور ایک تین سال کا بھائی ہے جبکہ والد مزدوری کرتا ہے ندیم سات بھائیوں اور ایک بہن میں دوسرے نمبر پر تھا یہ چاروں الحبیب کنسٹرکشن کمپنی کے ساتھ بطور مزدور منسلک تھے اور اپنی روزی کے لئے لاہور میں اس کیمپ کے مکین تھے جو اس کمپنی نے ایک بلڈنگ کی تیسری منزل پر بنا رکھا تھا جہاں گیس سلنڈر پھٹنے سے جو آگ لگی اس میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اب افسوس اس بات پر ہے کہ اس حادثے کی نہ تو کوئی انکوائری ہوئی ہے اور نہ ہی کسی سرکاری یا حکومتی شخصیت نے ان کے خاندان کی حوصلہ افزائی کی ہے جبکہ مزید دکھ یہ ہے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اپر پنجاب میں یہ حادثے اور ناگہانی اموات پر انسانوں کی جو ’’قیمت‘‘ مقرر کر رکھی ہے وہ بھی اس خاندان کو نہیں مل سکی اور اس پر مزید افسوس ناک رویہ اس کنسٹرکشن کمپنی کے مالکان کا ہے محض پچاس ہزار روپے کفن و دفن کے دے کر خاموشی اختیار کر لی ہے جبکہ چند روز قبل اس اورنج لائین ٹرین کی تعمیر والی سڑک پر کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے والے لاہور کے شہری کو وزیر اعلیٰ نے نہ صرف پچاس لاکھ روپے بطور امداد دی بلکہ اس کے گھر بھی گئے لیکن اس خاندان کا دکھ یہ ہے کہ کیا وہ ’’کمتر‘‘ ہیں اب یہ ’’خادم اعلیٰ‘‘ کو سوچنا ہو گا کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں یا پھر ان سے یہ کرایا جا رہا ہے انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے 2018 عام انتخابات کا سال ہے اب ن لیگ میں ان کی واپسی شاید ممکن نہ ہو کیونکہ لگتا ہے کہ ن لیگی قیادت یعنی وزیر اعظم میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف، لغاری سرداروں کے ساتھ نہ صرف خوش ہیں بلکہ ان کی ’’کارکردگی‘‘ سے بھی مطمئن ہیں اب ان حالات میں کھوسہ سرداروں کی بھلا ن لیگ میں کہاں جگہ بنے گی۔

مزید : ایڈیشن 1