آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ(ن) سرپرائز دے سکتی ہے

آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ(ن) سرپرائز دے سکتی ہے

خیبر پختونخوا میں سیاسی جلوسوں اور گہاگہمی نے انتخابی ماحول پیدا کردیا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ کے عام انتخابات صرف خیبر پختونخوا ہی میں لڑئے جائیں گے تمام سیاسی ومذہبی پارٹیوں نے خیبر پختونخوا ہی کو اپنی سیاسی سرگرمیوں اورجوڑ توڑ کا مرکز بنا رکھا ہے کم وبیش تمام سیاسی ومذہبی پارٹیاں اندرون خانہ خاموشی کے ساتھ اس بات پر متفق ہوچکی ہیں کہ آئندہ عام انتخابات کیلئے تحریک انصاف کو تنہا کردیا جائے اسی فارمولے کے پیش نظر تحریک انصاف کی اتحادی اور سب سے بڑی حلیف پارٹی جماعت اسلامی کے بارے وثوق کے ساتھ یہ بات کہی جارہی ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں وہ تحریک انصاف کے ساتھ کھڑی نہیں ہوگی جماعت اسلامی انتخابی اتحاد کیلئے پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرئے گی واقفان حال کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا میں اتحاد کرلیں گے جبکہ جے یو آئی اور اے این پی کے ساتھ بھی سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوگی اسی طرح پاکستان مسلم لیگ ن ،اے این پی کے ساتھ اتحاد کرسکتی ہے انتخابی اتحاد کیلئے گٹھ جوڑ سے اس بات کا اندازہ بآسانی لگایا جاسکتا ہے کہ تمام پارٹیاں مل کر تحر یک انصاف کو تنہاء اور دیوار سے لگانے کی کوشش کررہی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی اپنی غیر واضح پالیسیوں اور آصف علی زرداری کی قیادت کے باعث خیبر پختونخوا میں اپنا مقام اور ووٹ بینک کھو بیٹھی ہے جبکہ بشیر بلور کی شہادت کے بعد پشاور میں اے این پی کی گرفت بھی خاصی کمزور پڑ چکی ہے وزیر اعظم کے مشیر انجینئر امیر مقام شانگلہ ،سوات ،ملاکنڈ اور ضلع نوشہرہ میں وزیر اعلی پرویز خٹک کے حلقہ نیابت میں لگاتار جلسے کرکے مختلف منصوبوں کا اعلان کررہے ہیں اور مراعات دے رہے ہیں تاہم ضلع پشاور میں مسلم لیگ ن کو خاص پذیرائی نہ مل سکی انجینئر امیر مقام کی سرگرمیوں کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ ن ملاکنڈ ،سوات ،شانگلہ سمیت بعض دیگر حصوں میں سر پرائز دے سکتی ہے فاٹا کے انضمام کی صورت میں مسلم لیگ فاٹا میں بھی ایسی پوزیشن حاصل کرسکتی ہے جو کہ حکومت سازی میں معاون ثابت ہوگی دوسری طرف تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات مسلسل بڑھتے جارہے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کھل کر سامنے آئیں گے تحریک انصاف کی مرکزی وصوبائی قیادت نے اپنے پورے دور اقتدار میں کوئی قابل ذکر کارنامہ دکھانے کی بجائے اپنی ساری قوت مرکزی حکومت گرانے میں صرف کی جبکہ صوبائی حکومت سرکاری اداروں میں اپنی من مانی کرکے ایسے بل لاتی رہی جس کی انہیں بھر پور مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

گذشتہ دنوں صوبائی حکومت نے انسپکٹر جنرل پولیس کے اختیارات کم کرنے کیلئے پارلیمانی رہنماؤں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی جو آئی جی پولیس کے اختیارات کو کم سے کم سطح پر لانے کیلئے اپنی سفارشات تیار کرے گی تحریک انصاف کے قائد عمران خان پاکستان بھر میں ہونے والے جلسوں میں یہ دعوے کرتے رہے کہ ہم نے خیبر پختونخوا پولیس کو سیاسی دباؤ سے آزاد کردیا مگر آئی جی پی کے اختیارات میں کمی کی سفارشات منظور ہونے کے بعد وہ تنقید کا نشانہ بنیں گے خیبر پختونخوا کے ارکان اسمبلی، وزراء اور بلدیاتی نمائندے مسلسل یہ شکایات کرتے رہے کہ پولیس ان کا کہنا نہیں مانتی اگر وہ پولیس کی تحویل سے کسی شخص کو چھڑا نا چاہتے ہیں تو پولیس ان کے ساتھ تعاون نہیں کرتی حتیٰ کہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے ارکان اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے خود بھی اعتراف کیا اور کہا کہ ان کی بات ایس ایچ او بھی نہیں مانتا ان شکایات کی بھر مار کے بعد آئی جی پولیس کے اختیارات کم کرنے پر اتفاق کیا گیا جس پر اپوزیشن اور حزب اقتدار دونوں یک جان ہوگئے۔

گذشتہ دنوں تحریک انصاف کے ایم پی اے شوکت علی یوسفزئی نے بھی میگا پراجیکٹ کے فوکل پرسن کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا بظاہر استعفیٰ کی وجوہات میں ذاتی مصروفیات بیان کی گئی ہیں مگر واقفان حال کا کہنا ہے وہ اپنے عہدے پر ایک بے بس اور ربڑ سٹمیپ ایم پی اے تھے جو کہ انکو گوارہ نہ تھا صوبائی حکومت اور بیوروکریسی کے درمیان مبینہ اختلافات کی خلیج وسیع ہوتی جارہی ہے جن کی وجوہات میں وزیر اعلیٰ کے بعض ایسے احکامات اور اقدامات ہیں جو (بقول بیوروکریسی کے ) قانون اور رولز آف بزنس سے متصادم ہیں اور بیوروکریسی ان اقدامات کو فالو کرنے سے گریز کررہی ہے اس طرح کے احکامات واقدامات سے سرکاری ملازمین اور متاثرہ ہونے والے عوامی حلقے بھی صوبائی حکومت سے ناراض نظر آرہے ہیں صوبائی حکومت نے ڈسٹرکٹ ناظم محمد عاصم خان کو اپنے قریب لانے کی کوشش کی تو پارٹی کے ناراض کارکنوں نے’’ پشاور بچاؤ ناظم ہٹاؤ ‘‘ کے نام سے تحریک شروع کردی ضیاء اللہ آفریدی الگ سے اپنی پارٹی کے قائدین پر نشتر چلا رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ عام انتخابات کے دوران تحریک انصاف کو سب سے بڑی مخالفت اور مشکلات کا سامنا اپنی پارٹی کے ناراض کارکنوں اور اراکین پارلیمنٹ کی طرف سے ہوگا اس خدشے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ دیگر پارٹیوں کی طرح تحریک انصاف میں بھی ایک یا ایک سے زائد دھڑے بن کر سامنے آئیں بہر حال خیبر پختونخوا میں سیاسی جوڑ توڑ اور انتخابی مہم میں ہر دن گزرنے کے بعد تیزی آتی جارہی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے خدوخال تبدیل ہوتے جارہے ہیں آنے والے دنوں میں حالات واقعات تیزی کے ساتھ بدلتے نظر آئیں گے تاہم حتمی صورتحال حکومت کی طرف سے انتخابات کے باضابطہ اعلان کے بعد واضح ہوگی۔

گذشتہ ہفتے روزنامہ پاکستان کے مردان کیلئے بیوروچیف حاجی محمد شفیع دل کا دورہ پڑنے سے اچانک انتقال کرگئے حاجی محمد شفیع کا اچانک انتقال کر جاتا علاقے کے عوامی اور صحافتی حلقوں کے علاوہ روزنامہ پاکستان کیلئے بھی ایک بڑا دھچکا تھا حاجی محمد شفیع کا شمار سینئر ترین منجھے ہوئے صحافیوں میں ہوتا تھا وہ ایک سماجی کارکن بھی تھے علاقے میں لوگوں کی رنجشیں ختم کرانے کیلئے مصالحتی جرگے کرانے میں اپنا ثانی رکھتے تھے جبکہ صحافتی حلقوں میں بھی انہوں نے ایسا مقام بنا رکھا تھا کہ تمام صحافی دل سے انکا احترام کرتے تھے حاجی محمد شفیع ایک مخلص ،شفیق اور مثبت سوچ رکھنے والے عظیم انسان تھے جو لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہونا اپنے لئے باعث اعزاز سمجھتے تھے یہی وجہ ہے کہ ان کے جنازے میں عوام کا جم غفیر تھا ۔

مزید : ایڈیشن 1