جنسی تشدد کا شکار بچی کے والد کی حکومت سے داد رسی کی اپیل

جنسی تشدد کا شکار بچی کے والد کی حکومت سے داد رسی کی اپیل

پشاور( کرائمز رپورٹر )اپردیر کے علاقہ عشری درہ کے رہائشی نے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک، گورنرخیبرپختونخوا، چیف جسٹس ،آئی جی پولیس اور دیگراعلیٰ متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کی پندرہ سالہ بیٹی مسماۃ (ش )سے ہونے والے جنسی زیادتی کا ازخود نوٹس لیں گزشتہ روز پشاور پریس کلب میں متاثرہ بیٹی کے ہمراہ پر یس کانفرنس کرتے ہوئے والد لعل ذادہ اور چچا داور خان نے کہا کہ یٰسین ولد عمرذادہ نامی لڑکہ کئی سالوں سے میری بیٹی کے پیچھے پڑاہوتااور شادی کا لالچ دے کرمیرے بیٹی کے ساتھ زبردستی جنسی زیادتی کی جس سے میری بیٹی حاملہ ہوئی تھی حاملہ ہونے کے بعد ہم نے اپنے عزت کاواستہ دے کران سے نکاح کرنے کا کہا لیکن لڑکے کے والد نے ہمیں اسقاط حمل کا کہا میری بیٹی کو اپنے جاننے والے ڈاکٹر کی ایل ایچ وی بیوی سرحد بیگم کے ذریعے میری بیٹی کی اسقاط حمل کیا۔ اسقاط حمل کے بعد اپنے یٰسین کے والدعمرذادہ اپنے باتوں سے یکسر مکرگئے اور اس دوران ہمیں جرگے کے ذریعے ٹالتے رہے اور اپنے بیٹے کو بیرونی ملک بھیج دیا۔انہوں نے کہا کہ جرگے والوں جس میں عبدالناصر،اکبر حسین،چمنئے خان ،شاہ اورنگزیب اور بخت زمان خان شامل ہیں نے پیسے لے کرہمیں دھوکے میں رکھ کران کی طرف داری کررہے تھے جو بعد میں یہ کہہ کرکہ عمرذادہ جرگے کو فیصلہ دینے سے منع کردیاانہوں نے کہا کہ تھانہ گندیگار میں رپورٹ درج کی لیکن پولیس والوں کوبھی پیسے دے کران بااثرلوگوں نے دولت کے زور پر ہم پر انصاف کے تمام دروازے بندکردیے۔متاثرہ لڑکی نے اپیل کی کہ ہمارے کیس کو دیر سے پشاور منتقل کیا جائے کیونکہ وہاں کیس لڑنے میں میری جان کو خطرہ ہے کیونکہ کئی دفعہ انہوں نے مجھ پر فائرنگ کرکے جان لیوا حملے کیے ہیں اور مجھ انصاف دیکر یٰسین کو انٹرپول کے ذریعے ملک واپس لایا جائے اگرمجھے انصاف نہ ملا توپشاور ہائی کورٹ کے سامنے خود سوزی کرونگی کیونکہ اس کے بعد میرے زندگی کے کوئی اہمیت ہے اور نہ میں زندگی گزارنے کی قابل رہی ہوں کیونکہ یٰسین نے میری زندگی گزارنے کے قابل نہیں چھوڑی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر