’’میں ہوں دلیپ کمار‘‘ ...دسویں قسط

’’میں ہوں دلیپ کمار‘‘ ...دسویں قسط
 ’’میں ہوں دلیپ کمار‘‘ ...دسویں قسط

  

شہنشاہ بالی ووڈ دلیپ کمار کی زبانی انکی اپنی کہانی،دلچسپ ،حیرت انگیز۔۔۔ روزنامہ پاکستان میں قسط وار۔ترجمہ : راحیلہ خالد

دادی شرافت اور بہادری جیسے موضوعات پر مبنی کہانیاں سننا پسند کرتی تھیں اور ان میں اگر ہلکا سا رُومان کا تڑکا بھی لگا دیا جاتا تو وہ برا نہیں مناتی تھیں۔ اگر گانوں کی شام ہوتی تو بھی گانے یا تو صاف ستھری علاقائی شاعری پر مشتمل ہوتے تھے یا پھر نامور فارسی شعراء کی غزلیں سنائی جاتی تھیں۔ وہ آجکل کی انتاکشری کی طرح ہی ہوتا تھا،فرق بس اتنا تھا کہ اس میں اگلا گانا موضوع کی مناسبت سے گایا جاتا تھا۔ اگر شام کا موضوع محبت ہوتا تو تمام رات محبت بارے ہی بات ہوتی اور اگر کوئی دینی موضوع ہوتا تو تمام رات اس دینی موضوع پر ہی گفتگو کی جاتی تھی۔

میں ان بچوں میں سے نہیں تھا جو ساری رات ایک ہی جگہ پر خاموشی سے بیٹھے رہتے ہیں۔ اگر کہانی دلچسپ ہوتی تو میں پورے انہماک سے سنتا لیکن اگر ایسا نہ ہوتا تو میں ایک گود سے دوسری گود میں منتقل ہوتا رہتا۔ یہاں تک کہ میں نادانستہ طور پر گہری نیند سو جاتا،جیسے بچے سو جاتے ہیں۔ اگلی صبح جب میں اپنے نرم گرم بستر پر آنکھیں مَلتے ہوئے بیدار ہوتا تو میں حیران ہوتا کہ مجھے وہاں کون لایا تھا۔ جس دوران کہانیاں سنائی جا رہی ہوتیں یا گانے گائے جارہے ہوتے،تب فارسی بلیوں کو گھر والوں کے بستر گرم کرنے کی غرض سے بستروں پر سُلا دیا جاتا تھا۔ یہ ایک ایسی بات تھی جو پشاور سے مخصوص تھی۔

نویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مجھے اس بارے تھوڑا شک ہے کہ میری قصہ گوئی کی حس،پشاور میں میرے بچپن کے سالوں کے دوران اجاگر ہوئی تھی۔ میرے خیالات و تصورات کو صرف چھت پر گزاری گئی جاڑے کی راتوں نے ہی تحریک نہیں دی تھی۔

قصہ خوانی بازار میں واقع مرکزی مارکیٹ چوک،ان دنوں صنعتکاروں اور دکانداروں کے اکٹھ کی وجہ سے مشہور تھا،جو مغرب کی نماز کے بعد چوک کے صحن میں سادہ تفریح کیلئے جمع ہوتے تھے۔

ہر شام میں آغا جی کی انگلی پکڑ کر،مولانا صاحب کا بیان سننے پیدل چوک تک جاتا تھا۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے تقویٰ و پرہیزگاری اور دینی علم کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ وہاں بیان کی جانے والی کہانیاں دلچسپ ہوتی تھیں اور بیان کرنے والے انہیں مناسب وقفوں اور آواز کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ بیان کرتے تھے۔ جب کہانی میں ڈرامائی موڑ آتا تو آواز اونچی ہو جاتی اور جب کوئی لطیف یا رونے والی بات بیان کی جاتی تو آواز انتہائی مدھم ہو جاتی تھی۔

میں ان کہانیوں سے محظوظ ہوتا اور میری زرخیز سوچ،میرے ذہن میں ان حالات و کرداروں کی تصوراتی و علامتی تخلیق کچھ اس طرح سے کرتی کہ میں گھر جا کر،ان کرداروں کی مولانا صاحب کے بولے گئے جملوں کے ساتھ نقل اتارنے کی کوشش کرتا تھا۔

(جاری ہے۔ گیارہویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : تفریح