حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ ۔۔۔ ساتویں قسط

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ ۔۔۔ ساتویں قسط
 حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ ۔۔۔ ساتویں قسط

  

شاہدنذیر چودھری

شہنشاہ اکبر کے دین الٰہی کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانواد ۂنوشاہیہ کی خدمات

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ جیسی روحانی شخصیت ہندوستان کی غریب، ذات پات اور نسلی تعصبات میں دھنسی ہوئی قوم کے لئے اُمید کی روشنی ثابت ہوئی تھی۔ آپؒ نے تبلیغ کا دائرہ گجرات تک محدود نہیں رکھا تھا بلکہ ہندوستان سے باہر دوسرے ملکوں میں بھی شریعت و طریقت کے چراغ روشن کر دئیے تھے۔ انگریز محقق پروفیسر آرنلڈ آپؒ کی غیر معمولی روحانی شخصیت کا قائل ہوا اور اس نے اپنی کتاب میں لکھا کہ پنجاب میں حاجی محمدؒ کی تبلیغ کے نتیجہ میں دو لاکھ افراد مسلمان ہو گئے تھے۔ فرانسیسی محقق گارساں دتاسی نے بھی آپؒ کی خدمات کو تسلیم کیا اور لکھا کہ حاجی محمدؒ کی تبلیغ نے ہندوستان کے طول و عرض اور افغانستان تک کئی نابغۂ روزگار مبلغین پیدا کئے۔ جنہوں نے آپؒ کی ہدایات اور تربیت کے بعد اپنے علاقوں میں جا کر اسلام کا پرچم سربلند کیا۔

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ اپنے خلفاء کو دین اسلام کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ سخت روحانی مجاہدے کراتے تھے۔ آپؒ اپنی نگرانی میں ہر اہل خلیفہ وسالک کو مجاہدے کے آداب سکھلاتے اور انہیں مجاہدوں سے حاصل ہونے والے رموز و اسرار بیان کر کے سمجھاتے کہ اللہ کی قربت حاصل کرنے کے لئے ایک مرد قلندر کو اپنے نفس کو مطیع بنانے کے لئے کتنی مشقت کرنی پڑتی ہے۔ آپؒ نے بذات خود اپنے مرشد کریم حضرت سخی شاہ سلیمان نوریؒ کی زیر سرپرستی چلّے اور مجاہدے کئے تھے۔ بھلوال میں آج بھی آپؒ کی چلّہ گاہ محفوظ ہے اور لوگ وہاں عبادت و ریاضت اور زیارت کے لئے جاتے ہیں۔ حضرت سخی شاہ سلمان نوریؒ نے آپؒ سے بیعت لینے کے بعد آپؒ کی باطنی تربیت کا بیڑہ اٹھایا اور جب آپؒ مرشد و مربّی کی نگاہ ڈالنے سے مست ہو گئے تھے تو آپؒ کو حضرت سخی شاہ سلمان نوریؒ نے اپنی خانقاہ کے پاس ہی چلّہ گاہ میں بیٹھا دیا تھا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ آپؒ تین مہینے تک صرف ایک پہلو میں لیٹے رہے۔ آپؒ اللہ اللہ کا ذکر کرتے اور حالت مست میں آ جاتے۔ ان تین مہینوں میں آپؒ کا استغراق بڑھتا چلا گیا۔

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ اپنے خلفاء سے اس واقعہ کا ذکر کیا کرتے اور فرماتے۔ ’’یارو۔ رب سوہنا مہربان، آقائے دوجہاں کے دربار سے منظوری ہو اور مرشد تگڑا ہو تو قرب الٰہی کے خواہش مندوں کے ہاتھ کچھ نہ کچھ آ ہی جاتا ہے۔ اللہ الصمد بے نیاز اور اپنے عاشقوں کو بہت نوازتا ہے لیکن بندے کے اندر اللہ کی قربت کی غرض اور تڑپ ہونی چاہئے۔ قرب الٰہی کے متوالوں کو دنیاوی معاملات میں اپنے ہر معمول کو راہ راست پر رکھنا چاہئے اور حکم الٰہی اور شریعت کے دائرے سے باہر نہیں نکلنا چاہئے لیکن جو لوگ سلوک کی منازل طے کرنا چاہتے ہیں انہیں تزکیہ نفس اور اللہ کے ذکر میں مستغرق رہنا چاہئے۔ یارو۔ تمہارا باطن جب تک روشن نہیں ہو گا تم اسرار الٰہی کو سمجھنے سے معذور رہو گے۔ اور یہ باطن ذکر الٰہی اور نیت و اعمال میں اخلاص سے ہی ممکن ہوگا‘‘۔

حضرت سیّد نوشہؒ کے خلفاء ہمہ وقت آپؒ کے پاس رہتے اور کوئی لمحہ ضائع کرنا گوارہ نہیں کرتے تھے۔ آپؒ نے اپنے مریدین اور خلفا میں جب یہ دیکھا کہ وہ علم و معرفت میں حریصانہ چشمک کا اظہار بھی کرتے ہیں تو آپؒ انہیں سختی سے منع فرماتے اور انہیں تحمّل و بردباری اور آداب سکھاتے۔ آپؒ نے اپنے خلفاء کو اپنے فنون بھی منتقل کئے۔ آپ بخوبی جانتے تھے کہ ہندوستان میں ذات پات ایک بڑا سنگین سماجی مسئلہ ہے اور برہمن اچھوتوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کرتے ہیں۔ وہ انسانوں کو حقیر اور حشرات الارض سے بھی کمتر خیال کرتے ہیں۔ ایک روز تبلیغ کے سلسلے میں آپؒ کشمیر جا رہے تھے۔ راستے میں پہاڑی علاقہ کی سنسان جگہ پر آپؒ کی ملاقات ایک نہایت شکستہ حال نوجوان سے ہوئی۔ اس نے صرف لنگی پہن رکھی تھی مگر وہ بھی پھٹی ہوئی اور میلی کچیلی تھی۔ اس کے بدن کا گوشت ہڈیوں سے چپکا ہوا تھا۔ آنکھیں حسرت ناک اور اندر کو دھنسی ہوئی تھیں۔ شکم تنگ اور سکڑا ہوا اور ٹانگیں شاخ بید کی طرح لرزرہی تھیں۔ وہ زندہ تو تھا مگر اس کی حالت دیکھ کر مردے کا گمان ہوتا تھا۔ آپؒ نے اسے دیکھا تو دل بھر آیا۔ سب سے پہلے آپؒ نے اس کے حلق میں پانی کے قطرے ٹپکائے اور پھر اسے نہلا دھلا کر صاف کیا۔ آپؒ چونکہ طب و حکمت پر عبور رکھتے تھے۔ آپؒ کو اس کی جسمانی بیماری کے ساتھ ساتھ اس کے روحانی مرض کا بھی ادراک ہو گیا تھا۔ نگاہ مردِ قلندر کو اللہ تبارک تعالیٰ بصیرت عطا فرما دیتا ہے۔ آپؒ نے اللہ کے حضور اس نوجوان کی صحت کے لئے دعا کی اور آپؒ کی کرامت سے وہ نوجوان جو اپنی ٹانگوں کو ہلا نہیں سکتا تھا، سہہ پہر تک اٹھنے بیٹھنے کے قابل ہو گیا اور اس کی قوت گویائی بھی اس کا ساتھ دینے لگی۔ نماز عصر کے بعد آپؒ نے اسے اپنے پاس بلایا اور نہایت پدرانہ شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور فرمایا۔

چھٹی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’میرے مولا۔ میرے سوہنے اللہ تو بے شک کریم اور رحیم ہے۔ یہ نوجوان تیرے فضل سے چلنے اور بولنے کے قابل ہو گیا ہے۔ اے میرے مولا کریم تو عاجز کے گناہ معاف کر دے۔ یہ مظلوم انسان تیری رحمت اور عطا کا طلب گار ہے‘‘۔ آپؒ کی رقت آمیز دعا کا نوجوان کے دل پر گہرا اثر ہوا اور وہ بے حال ہو کر آپؒ کے قدموں میں گر گیا۔ آپؒ نے پانی کے چھینٹے اس کے چہرے پر ڈالے اور اسے ہوش میں لا کر پوچھا’’ میرے بچّے۔ میرا اللہ سب دیکھ رہا ہے۔ وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ کیا تو بتا سکتا ہے تیرے ساتھ کیا ہوا ہے‘‘۔

وہ زارو قطار رونے لگا اور پھر اس نے بتایا۔ وہ ان پہاڑوں کے پیچھے واقع گاؤں میں رہتا تھا۔ اس علاقے میں برہمنوں کا راج تھا اور نیچی جات والوں کے ساتھ وہ اپنے جانوروں سے بھی کم تر سلوک کرتے تھے۔ یہ برہمن چوہوں کو بھی مقدّس سمجھتے اور سانپ ان کے لئے اوتار کا درجہ رکھتے تھے۔ برہمنوں نے گاؤں کا مندر چوہوں اور سانپوں کے لئے مخصوص کیا ہوا تھا اور کوئی اچھوت اور نیچی جات والا اس مندر کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتا تھا۔ البتہ اس نوجوان کی یہ ذمّہ داری تھی کہ ہر روز برہمنوں کے دیوتاؤں اور اوتاروں کے لئے دودھ لاتا اور مندر کی چار دیواری کے پاس برتن رکھ کر چلا جاتا۔ مندر کے پجاری دودھ اٹھا کر لے جاتے۔ بدقسمتی سے ایک روز وہ دودھ لیکر چار دیواری کے پاس رکھ آیا تو دودھ کا مٹکا اسکے ہاتھ سے گر گیا اور دودھ زمین پر بہہ گیا۔ پجاری شور مچاتے ہوئے کہنے لگے۔

’’ہائے پاپ کر دیا۔ ہائے تو نے کیا پاپ کر دیا۔ آج ہمارے دیوتاؤں کو دودھ نہ ملا تو بڑا غضب ہو جائے گا؟‘‘ یہ خبر برہمنوں کو پہنچی اور پھر اس نوجوان کو بے تحاشا مارا پیٹا گیا۔ جب انہوں نے سمجھا کہ یہ مر گیا ہے تو اسے یہاں پہاڑیوں کے پیچھے پھینک گئے۔

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ اس کی داستان سن کر غضب میں آ گئے اور بولے ’’انسان اشرف المخلوقات ہے۔ جو اللہ کی بنائی مخلوق کی توہین کرتا ہے۔ اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکتا‘‘۔ آپؒ اسی روز اس برہمنوں کے گاؤں میں گئے۔ آپؒ نے سب سے پہلے انہیں انسانی عظمت اور ذات پات کے فتنوں سے آگاہ کیا۔ مندر کے پجاریوں نے آپؒ سے بہت حیل و حجت کی۔ لیکن آپؒ نے نرم و شائستگی اور اعلیٰ اخلاق کے ساتھ ان کو بھی سمجھایا۔ اللہ کی رحمت کے سبب آپؒ نے ان کے دلوں کو اپنی مٹّھی میں لے لیا اور سارا گاؤں برہمنوں سمیت مسلمان ہو گیا۔ آپؒ نے وہاں مسجد تعمیر کرائی اور ذات پات میں تقسیم اور جانوروں کی عبادت کرنے والوں کو ایک اللہ، ایک رسولؐ کا غلام بنا دیا۔ آپؒ نے اپنے ایک خلیفہ کو کچھ عرصہ اس بستی میں قیام کرنے کی ہدایت فرمائی تاکہ وہ انہیں دینی فرائض سے آگاہ کر سکیں۔ آپؒ نے اپنے خلیفہ کو خاص طور پرکہا۔ ’’اللہ کے بندے، یہ مظلوم لوگ ہیں۔ ان پر ظلم نہ کرنا اور ان کے حق میں ہمیشہ اللہ سے رحمت کی توفیق مانگنا۔ ہمارا کام تلوار چلانا نہیں ہے۔ ہم گردنیں کاٹنے نہیں نکلے۔ ہم نے دلوں کو فتح کرنا ہے اور دل اخلاق کریم سے ہی فتح ہوتے ہیں۔ اپنے سچّے اور اعلیٰ اخلاق کے ذریعہ سے ان لوگوں کی تربیت کرنا۔ اگر تم اس پر عمل کرو گے تو ربّ ذوالجلال تمہارے اور ہمارے گناہ بھی معاف فرمائے گا۔‘‘

**

(جاری ہے۔آٹھویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : ادب وثقافت