فوجی عدالتوں کے بارے میں میری رائے ذاتی،جب قیادت توسیع کا فیصلہ کرلے گی تو دل و جان سے قبول کروں گا:رانا ثناءاللہ

فوجی عدالتوں کے بارے میں میری رائے ذاتی،جب قیادت توسیع کا فیصلہ کرلے گی تو دل ...
فوجی عدالتوں کے بارے میں میری رائے ذاتی،جب قیادت توسیع کا فیصلہ کرلے گی تو دل و جان سے قبول کروں گا:رانا ثناءاللہ

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں کے بارے میں میری رائے ذاتی ہوسکتی ہے،جب قیادت فیصلہ کرلے گی تو میں دل و جان کے ساتھ قبول کروں گا۔

دنیا نیوز کے پروگرام ”نقطہءنظر“ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ عوامی لیڈر کو بدنام کرنے کیلئے پانامہ لیکس کے ذریعے غیر جمہوری طریقہ اور الزام تراشی کا راستہ اپنایا جارہا ہے،پانامہ کیس کے معاملے پر ایک سال تک جلسے،ریلیاں،دھرنے اور انگلیوں کے اشارے کیے جاتے رہے اب تو پانامہ کا شور ہی ختم ہوگیا ہے اب تو عدالت میں ایک تقریر کے معاملے پر آکر کہا جارہا ہے کہ وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر لاک ڈاﺅن ہوجاتا تو کسی نے سپریم کورٹ نہیں جانا تھا،منتخب نمائندوں کا متوازن اور مستند طریقے سے احتساب ہونا چاہیے،ووٹ کی پرچی سے بڑا دنیا میں کوئی احتساب نہیں ہے۔

تحریک انصاف کی طرف سے گھٹیا لفظ استعمال کیے گئے،مخالفین2018ءمیں انتخابی مہم کے قابل بھی نہیں رہیں گے عوام میں ان کے خلاف بہت نفرت پائی جاتی ہے۔

باپ بیٹے کے درمیان لین دین کا قانونی نکتے سے کوئی تعلق نہیں،چیزوں کے تبادلے سے کیا فرق پڑتاہے؟:زبیر احمد

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں بارے میں میری رائے ذاتی ہوسکتی ہے،جب قیادت فیصلہ کرلے گی تو میں دل و جان کے ساتھ قبول کروں گا،فوجی عدالتوں کا انسداد دہشتگردی کے خلاف ہمیں بہت کچھ کرنا چاہیے تھا،ہمیں اپنے عدالتی نظام کو درست کرنے کی ضرورت ہے،ہم تیار ہیں باقی صوبے بھی اتفاق کریں تو یہ ہوسکتا ہے۔

مزید : لاہور /اہم خبریں