پاکستانی قوم عافیہ صدیقی کی رہائی کی منتظر لیکن ۔۔۔مدت صدارت ختم ہونے سے 3روز قبل امریکی صدر باراک اوبامانے غداری کے سنگین الزام میں قید خاتون کو رہا کرنے کا حکم دے دیا

پاکستانی قوم عافیہ صدیقی کی رہائی کی منتظر لیکن ۔۔۔مدت صدارت ختم ہونے سے 3روز ...
پاکستانی قوم عافیہ صدیقی کی رہائی کی منتظر لیکن ۔۔۔مدت صدارت ختم ہونے سے 3روز قبل امریکی صدر باراک اوبامانے غداری کے سنگین الزام میں قید خاتون کو رہا کرنے کا حکم دے دیا

  

واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتیں امریکہ میں قیدڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے آواز بلند کر رہی ہیں ،جماعت اسلامی ،تحریک انصاف ،جمعیت علمائے اسلام ،مرکزی جمعیت اہل حدیث ،پاسبان ،عافیہ تحریک موومنٹ اور دیگر تنظیموں کا کہنا ہے کہ باراک اوباما کی مدت صدارت ختم ہونے سے پہلے پہلے اگر حکومت پاکستان امریکی صدر سے قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے باضابطہ مطالبہ کرے تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی فوری رہا ہو سکتی ہیں ،لیکن پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے بھرپور آواز بلند کرنے اور جماعت اسلامی کے اراکین کی جانب سے قومی اسمبلی میں مختلف قراردادیں جمع کرانے کے باوجود وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے مکمل خاموشی چھائی ہوئی ہے ۔

دوسری طرف ڈاکٹر عافیہ صدیقی تو رہا نہیں ہوئیں لیکن امریکی صدر براک اوباما نے اپنے دور صدارت ختم ہونے سے صرف 3روز قبل غداری کے الزام میں قید انٹیلی جنس کی ماہر خاتون چیلسی میننگ کی سزا ختم کر دی ہے، چیلسی میننگ کو ان سفارتی مراسلوں اور میدان جنگ کی رپورٹوں کو افشا کرنے کا مرتکب پایا گیا تھا جو ’’وکی لیکس‘‘ نے شائع کی تھیں۔ اس بنیاد پر سنہ 2013ء میں چیلسی میننگ کو غداری کا مرتکب قرار دیا گیا تھا اور انھیں 35 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ یاد رہے کہ 29 سالہ چیلسی میننگ جنس تبدیل کرانے سے پہلے بریڈلی میننگ نام کے مرد کی حیثیت سے فوج کے لیے خفیہ معلومات کا تجزیہ کرنے کی ماہر کے طور پر کام کرتیں تھیں۔ چیلسی میننگ کو سنہ 2013 ء میں 35 سال کی سزا ملی تھی جو کہ 17 مئی 2045 ء کو ختم ہونا تھی۔

’’ وکی لیکس‘‘ کے عنوان کے تحت 7 لاکھ سے زائد دستاویزات اور وڈیوز افشا کر دی گئی تھیں جو کہ امریکی تاریخ میں خفیہ مواد کو منظر عام پر لانے کا سب سے بڑا واقعہ تھا۔ حالیہ کچھ دنوں میں وہائٹ ہاؤس نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ وہ چیلسی میننگ کی سزا ختم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ پچھلے سال چیلسی میننگ نے کینساس میں واقع فورٹ لیوین ورتھ جیل میں 2 دفعہ خود کشی کی کوشش کی تھی، اس سے پہلے وہ کچھ عرصے تک وہ بھوک ہڑتال پر تھیں، تاہم فوج کی جانب سے’’جینڈر ڈِسمورفیا‘‘ نامی مرض کے علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے پر رضامندی کے بعد چیسلی میننگ نے بھوک ہڑتال ختم کر دی تھی۔ چیلسی میننگ کے علاوہ صدر اوباما نے 209 قیدیوں کی سزائیں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ 64 کو مکمل معافی بھی دی ہے۔ صدر اوباما نے اپنے دورحکومت میں اب تک 1385 سزائیں ختم کی ہیں جبکہ 212 کو مکمل معافی دی ہے۔ چیلسی میننگ کی وکیل ڈیوڈ کْومبز نے کہا کہ سزا ختم ہونے کا اعلان ان کے مؤکل کے لیے بہت اطمینان کا باعث بنے گی،یہ سزا ختم کرنا بہت بڑی بات ہے صدر اوباما نے بہت رحم دلی کا ثبوت دیا ہے۔ میں چیلسی اور اپنی جانب سے ان کا بہت شکر گزار ہوں۔

ایڈورڈ سنوڈن کی خبر افشاں کرنے والے صحافی گلین گرین والڈ نے ’’بی بی سی‘‘ سیگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’چیلسی میننگ کو تو ایک دن بھی جیل میں نہیں ہونا چاہیے تھا،انھوں نے بہت بہادری اور ہمت کے مظاہرہ دکھایا تھا جو کے دنیا بھر کے لوگوں کے لیے مثال تھا،لیکن صدر اوباما کے ناقدین نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔ ریپبلیکن پارٹی کے جان مکین نے کہا کہ یہ فیصلہ ایک بہت بڑی غلطی ہے اور اس سے جاسوسی کے اور واقعات رونما ہوں گے۔ امریکی ایوان نمائندگان کے سپیکر پال ریان نے بھی اس فیصلے کو غلط قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک شرمناک فیصلہ ہے اور چیلسی میننگ نے امریکی عوام کی زندگی خطرے میں ڈالی تھی۔ امریکی قانون کے مطابق عام معافی سے نہ صرف سزا ختم ہو جاتی ہے بلکہ اس فرد کی سماجی آزادیاں بھی بحال ہو جاتی ہیں۔ سزا ختم ہونے کے فیصلے سے جیل سے آزادی تو ہو جاتی ہے لیکن سماجی آزادیاں اور کچھ قانونی پابندیاں رہتی ہیں۔امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے غداری کے الزام میں قید انٹیلی جنس کی ماہر خاتون چیلسی میننگ کی سزا ختم کئے جانے کے بعد پاکستان میں داکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ اور شدت اختیار کر جائے گا ،تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وقت انتہائی کم ہے ،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی صرف حکومت کے ایک خط کی دوری پر ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم نواز شریف اپنی حکومت سے قبل ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بوڑھی،بیمار اور ضعیف والدہ سے کیا گیا اپنا وعدہ وفا کرنے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں؟۔

مزید : بین الاقوامی